”ایک چھوٹی سی 6 سالہ معصوم بچی سڑکوں پر ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی،
چہرے پر مسکراہٹ لئے یہ اِدھر سے اُدھر پھدکتی پھر رہی ہے،
گاہکوں کو آتے دیکھ کر اپنی چھوٹی سی ٹوکری ان کے سامنے کرتی ہوئی کہتی
آپ کو ٹشو پیپرز چاہئیں؟
پھر ایسا ہوتا ہے وہ بچی گھومتے گھومتے
جاری ہے 👇
معصوم بچی اس کے پاس رک جاتی ہے
خاتون نے بھی اشک بار آنکھوں سے اُس پیاری سی بچی کو دیکھا
جو چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لیے
اُس کے پاس کھڑی ہے اور ٹشو پیپر کا پیکٹ پیش کر رہی تھی
اُس خاتون نے اُداسی میں ٹشو پیپر
جاری ہے 👇
پھر اُس نے اپنے پرس سے ٹشو پیپرز کی قیمت نکالی اور بچی کو دینے کے لیے دیکھا تو وہ جا چکی تھی
وہ چھوٹی سی مسکراتی ہوئی بچی اسے بہت اچھی لگی
تھوڑی دور ایک خالی بنچ پڑا تھا
وہ خاتون وہاں جا کر بیٹھ گئی
کچھ سوچا اور پھر موبائل سے
جاری ہے 👇
”میں اپنے کیے پر نادم ہوں
جو کچھ ہوا مجھے اس پر افسوس ہے
آپ جانے دیں
آپ کا موٴقف درست ہے۔“
اُس کا خاوند ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھا تھا کہ اُسے بیوی کا یہ خوشگوار پیغام ملا
اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ چھا گئی
ان میاں بیوی کے مابین کسی بات پر
جاری ہے 👇
اِس خوشی میں اس نے ویٹر کو بلوایا اور بڑی خوشی سے اسے پچاس مصری پونڈ پکڑا کر کہا کہ یہ تمہارے ہیں
ویٹر کو اعتبار نہ آیا اور کہنے لگا
چائے کی قیمت تو صرف 5 پونڈ تھی
باقی تمہاری ٹپ ہے
وہ گویا ہوا
اب ویٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
ویٹر کو اتنی بڑی رقم
جاری ہے 👇
اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بوڑھی عورت کے پاس جا پہنچا
جو فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے چاکلیٹ اور ٹافیاں بیچ رہی تھی
اس نے ایک پونڈ کی چاکلیٹ خریدی اور اسے مسکراتے ہوئے دس پونڈ پکڑا دیئے
باقی پونڈ تمہارے لیے
اس نے کہا اور اپنے کام پر واپس چل دیا
جاری ہے 👇
نوٹ کی طرف دیکھ رہی تھی
جو اسے بغیر کسی محنت اور صلے کے مل گئے تھے
اب اُس کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ تھی اس کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا تھا
اس نے زمین پر بچھائے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹا اور سیدھی قصاب کی دکان پر جا پہنچی
جاری ہے 👇
کتنی مدت گزر چکی تھی
ان کا گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا
مگر ان کے وسائل اجازت نہیں دیتے تھے
آج ان کی خواہش پوری ہو رہی تھی
اُس نے مسکراتے ہوئے گوشت خریدا اور گھر چل دی
بوڑھی اماں نے بڑی محنت اور شوق سے گوشت پکایا اور ننھی سی پیاری سی
جاری ہے 👇
کہ
وہی تو اُس کی کل کائنات تھی
آج وہ گوشت کھا کر کتنی خوش ہوگی؟
وہ سوچوں میں گم تھی کہ وہی ٹشو پیپرز بیچنے والی اُس کی پوتی مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی
آج اس کے چہرے پر عام دنوں سے زیادہ مسکراہٹ تھی
اس نے ٹوکری رکھی
اور دادی سے چمٹ گئی
جاری ہے 👇
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ
ہم بھی اُس ٹشو پیپر بیچنے والی
بچی کی طرح مسکراہٹیں تقسیم کریں
لوگوں میں خوشیاں بانٹیں
کیونکہ بانٹنے سے کمی نہیں آتی
کسی کو خوشی سے مسکرا کر
دیکھ لینے سے بھی
دوسرے کا غم دور ہو جاتا ہے
جاری ہے 👇
کی حدیث پر غور کریں
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم
نے ایک حدیث میں اپنی امت کی رہنمائی فرمائی اور چہرے کی مسکراہٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ
تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے سے پیش آنا بھی صدقہ ہے۔۔
