کرم دین چوکیدار
اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر
آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل
جاری ہے 👇
اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام
جاری ہے 👇
اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللّٰه کے سامنے اپنے بچیوں کی
جاری ہے 👇
بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نا کیا کر مجھے اچھا نہیں لگتا تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں
جاری ہے👇
اچھا میں اب چلتا ہوں مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا
یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے
جاری ہے👇
دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں بیٹا کوئی نہیں تھا،
ایک دن ایسا ہوا کہ
جاری ہے 👇
یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا کرم دین
وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی حاکم علی کی بیوی
جاری ہے 👇
دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا،
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید اور تہوار پہ
جاری ہے👇
ان کے لئے کوئی نا کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین اللہ تیرا بھلا کرے آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل
جاری ہے 👇
