My Authors
Read all threads
عید ہو تو ایسی

کرم دین چوکیدار
اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر
آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل

جاری ہے 👇
روکی اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔!
اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام
جاری ہے 👇
کیا حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے
اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللّٰه کے سامنے اپنے بچیوں کی
جاری ہے 👇
یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ
بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نا کیا کر مجھے اچھا نہیں لگتا تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں
جاری ہے👇
کی طرح ہی عزیز ہیں،
اچھا میں اب چلتا ہوں مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا
یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے
جاری ہے👇
سیٹھ کے بنگلے پہ کام کرتے تھے
دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں بیٹا کوئی نہیں تھا،
ایک دن ایسا ہوا کہ
جاری ہے 👇
حاکم علی کام پر نہ آیا
یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا کرم دین
وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی حاکم علی کی بیوی
جاری ہے 👇
اور بیٹیاں
دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا،
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید اور تہوار پہ
جاری ہے👇
جتنا ہو سکتا تھا
ان کے لئے کوئی نا کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین اللہ تیرا بھلا کرے آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل
جاری ہے 👇
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Keep Current with Amer Sohail Choudhary

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!