میں نے اپنی والدہ سے وعدہ کیا کہ یہ میرا آخری میچ ہے "
اٹھائیس میچ میں ناقابل شکست رہنے والے داغستانی خبیب کا یہ انتیسواں میچ تھا کورونا کے دنوں میں خبیب نے اپنے والد کو کھو دیا تھا خبیب اپنے پہلے میچ میں ہی اپنے بابا کے ساتھ جاتا تھا یہ پہلا موقع تھا جب وہ اکیلا جا رہا تھا اور
اسکی ماں یہ وعدہ لے چکی تھی کہ آج کے بعد وہ اسے پھر مکس مارشل آرٹ میں کھیلتا نہیں دیکھنا چاہتی ۔
1995 میں خبیب کو اسکے والد نے ایک ریچ کے ساتھ ٹریننگ دی دی تھی جس کی ویڈیو بہت سے لوگوں نے دیکھی۔خبیب اور محمد علی باکسر میں ایک چیز بہت کامن تھی انہوں نے بڑی بڑی محفلوں میں رب کی
کبریائی بیان کی تھی ر میچ کے بعد جو انگلی اپنی طرف کر کے نفی میں سر ہلاتا تھا پھر شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کے کہتا تھا کہ وہ اللہ ہے جو مجھے یہاں جتوا رہا ہے میری کوئی اوقات نہیں اپنی ہر جیت کے بعد جو سجدہ کرتا تھا وہ خبیب تھا۔
دنیا کے پہلے نمبر ون مگریگر کے ساتھ فائنل
میچ تھا مگریگر نے پریس کانفرس کے وقت کہا کہ یہ شراب پیو اسنے انکار کیا وہاں اسنے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جملے کہے ساری دنیا جانتی تھی اس میچ کا ہاٹ فیورٹ مگریگر ہے لیکن خبیب نے اسے سانس نہیں لینے دیا ساری دنیا نے وہ فائٹ دیکھی ۔۔۔۔۔۔
خبیب کل شب اپنا آخری میچ انتیسواں میچ جیت کر اپنے کرئیر کو الوداع کہہ چکا ہے بوجھل قدموں سے اپنے باپ کے بغیر آتا اپنی والدہ کے وعدوں کو یاد کر کے وہ تھکا تھکا تھا لیکن اگر وہ ہار جاتا تو ناقابل شکست رہنے والے بات ختم ہو جاتی جب آخری سکینڈ میں اس کی جیت کا اعلان ہوا اس دفعہ اسنے
پہلی بار نا اپنے ہاتھ بلند کیے نا ہی لوگوں کی طرف دیکھا بلکہ زمین میں گر کے اپنے بابا کو یاد کر کے اتنا رویا کہ جو اس کا مخالف تھا جو ہار چکا تھا اسنے آکے اسے اٹھایا ۔۔۔۔
آج وہ آخری بار جیت کے جا رہا تھا بلکہ آخری بار کھیل کر اور اس نے یہ جملہ کہا "
جب اللہ آپکے ساتھ ہو تو کوئی آپکو کبھی توڑ نہیں سکتا"
واقعی جس کے ساتھ اللہ ہو اسے پھر کس کا ساتھ چاہیے؟؟؟
"کاپی"منقول"
مختصرمعلوماتی اسلامی اورتاریخی اردوتحریریں پڑھنےکیلئےاکاؤنٹ فالولازمی کریں
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
شُکر کی فریکوینسی!!!
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کے ساتھ درس و تدریس میں مشغول تھے کہ اچانک ان کا ایک خادم پریشان حال کمرے میں داخل ہوا اور کہا کہ “حضرت! جس جہاز میں آپ کا تجارتی سامان آ رہا تھا وہ راستے میں ڈوب گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے، پورے اطمینان کے ساتھ
فرمایا “الحمدللہ” اور دوبارہ درس و تدریس میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ خادم دوبارہ اندر آیا اور کہنے لگا “حضرت! خبرجھوٹی تھی، جہاز بندرگاہ پر صحیح سلامت لنگر انداز ہو گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے “الحمدللہ” کہا اور پھر تعلیم و تعلم کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا جہاں سے رُکا تھا۔ایک شاگرد
نے حیرانی کے عالم میں دریافت کیا “امام صاحب! یہ کیا ماجرہ ہے؟ جہاز ڈوب گیا تو الحمدللہ، بچ گیا تو پھر الحمد للہ؟ آپ کی تو مسکراہٹ میں بھی کوئی فرق نہیں آیا؟” امام صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور بولے “بیٹے! وہ ڈوبا تھا تو اللہ کی مرضی تھی، اب بچ گیا ہے تو یہ بھی اللہ کی مرضی
*" ان پڑھہ سرجن "*
" کیپ ٹائون " کا ان پڑھہ سرجن مسٹر " ھیملٹن " جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھے آئیے دیکھتے ھیں ______
کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو
”ماسٹر آف میڈیسن“
کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
اور
نہ ہی لکھ سکتا تھا..
لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
"ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
جو ایک غیر معمولی استاد، اور
ایک حیران کن سرجن ہے، اور
جس نے میڈیکل سائنس
اور
*خوشی کے بوسے کی تلاش*
ہم میں سے ہر ایک ہر قیمت پر خوش رہنا چاہتا ہے. ہم جیسی بھی آزمائشوں سے گزریں اور کسی بھی طرح کے امتحانوں سے پالا پڑے، ہمارا خواب ہوتا ہے کہ ہم اپنے ارادوں کو پورا کرنے میں کامران رہیں. اب ایک ملین ڈالرز کا سوال یہ آن پڑتا ہے کہ خوش رہنے کا نسخہ کیا ہے
؟ یہ گدڑ سنگھی کہاں سے ملتی ہے؟
ایک مشہور موٹیویشنل سپیکر نے مسرت کی تلاش پر ایک سیمینار منعقدہ کرایا. وہ کئی کتابوں کا مصنف تھا اور اس کے گیانی پن کی دھوم ہر طرف مچ چکی تھی، چنانچہ اس کے سیمینار میں شریک ہونے کے لیے سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے. شرکاء میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ،
تجارتکار، صنعت کار، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے. سب خوشی کے جادوئی فارمولے کی تلاش میں تھے.
سیمینار شروع ہوا اور مقرر نے خوشی کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت شروع کردی. اس کے پاٹ دار اور پراعتماد لہجے نے حاضرین کو اپنی گرفت میں لے لیا. پھر وہ بولتے بولتے ایک
!!!خامیوں_کی_بجاۓ_خوبیوں_کو_تلاش_کریں!!!
ایک میاں بیوی ایک کاؤنسلر کے پاس گئے ۔
ان کا آپس میں شدید جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بھی روا دار نہیں تھے۔ انہوں نے سوچا کہ لوگوں کے مشورے پر عمل درآمد کیا جائے اور تھوڑی سی تھیراپی کروا لی جائے۔ جب وہ دونوں آفس میں
داخل ہوئے تو کاؤنسلر نے دونوں کے چہرے پر سخت کشیدگی دیکھی۔ اس نے ان دونوں کو بیٹھنے کے لیے بولا۔ جب وہ بیٹھ گئے تو اس نے بولا کہ اب آپ بتائیں کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ تو وہ دونوں یکدم بولنا شروع ہو گئے اور ایک سانس میں ایک دوسرے پر تنقید کے پہاڑ ڈال دیے۔ دونوں اپنے موقف سے پیچھے
ہٹنے کو تیار نہ تھے
۔کاؤنسلر نے ان دونوں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے دی اور چپ کر کے ان کی لڑائی ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ جب دونوں بول بول کر تنگ آگئے تو کاؤنسلر نے انہیں بولا کہ اچھا یہ تو لڑائی اور خامیوں والی کہانی ہو گئی اب ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کرو۔ تم دونوں کو ایک
!!!بچـــــــہ_اور_کــچـھــــــــوا!!!
کہتے ہیں ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا۔
سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا۔
بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہامگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا.
بچے کا باپ کمرے
میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا۔
باپ نے بچے سے پوچھا؛
بیٹے کیا بات ہے؟
بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا، باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا، آگ جلائی اور