آپ کسی اک پوائنٹ پر نہ رہنے کی اتنی عادی ہیں کہ اپ بلاک پر بھی قائم نہیں رہتیں
بہرحال میری طرف اس پہلے اور تاحیات بلآک کو ہر جگہ سے اپنے لیے مکمل بلاک سمجھئیے گا
میں رشتہ کسی سے نہیں بناتی دوست بناتی ہوں
اپ سے دل سے رشتہ بنایا اور فیملی سمجھا تھا
اپنی لائف کے چار سال اپکو دیئے
چار سال کی دوستی کو اپ نے ان لوگوں کے لیے لات مار دی جن کو اپ شائد پرسنلی جآنتی تک نہی تھیں
یہ آپ کی عادت ہے مخلص لوگوں کو لات مار کر پرے کرنے کی
مگر میں نہ عدیلہ ہوں نا بٹ صاحب جو لات کھا کر خاموشی سے لحاظ کرجآؤں
میں لحاظ مروت کا یک طرفہ بوجھ ہرگز نہیں اٹھاونگی
آپ کے مجھ پر بیشمآر آحسآنات ہیں جو میں کبھی نہ بھلا پاؤنگی
بہت کچھ بہترین آپ سے سیکھا بھی
مگر ہر آنسان میں خامیاں بھی ہوتیں اور آپکی خامیاں آپکا منافق ہونا ہے
آپکا انتہائی امیچؤر ہونا ہے
آپکو بلاک کرنے کی واحد وجہ پہ ہےکہ اب میں نہ مستانی ہوں نہ چلغوزہ
اب میں اپکےلیے مس لبرا ہوں
اب میں اپکے لیے مس لبرا ہوں اور آپ اک رینڈم خآتون
اور میں نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا ٹئوئٹر پر موقع آئے کہ مجھے مس لبرا بن کر آپ سے بآت یا کوئی جواب دینا پڑے
جس کی آپ یقینا عادی نہیں ہیں
میری طرف سے نیک خواہشات
اور اک بہترین ذندگی کی دعا کے ساتھ
اللہ حافظ

#goodbye ✌❤

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Miss Libra ❤

Miss Libra ❤ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @zeeq_ch

5 Nov
اگر صحرا میں ہیں تو آپ خود آئے ہیں صحرا میں
کسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرانہ نہیں آتا

ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا
عدیمؔ اپنے کئے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

عدیم ہاشمی
یوم وفات 5نومبر2001
کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا
مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا

میں جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے وہ باطن ہے
مجھے جھوٹے در و دیوار چمکانا نہیں آتا

میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب
مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا

عدیم ہاشمی
یوم وفات 5نومبر
زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوں
کوئی دل پیش کرتا ہو تو ٹھکرانا نہیں آتا

پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہے
پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا

ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھا
عدیمؔ اپنے کئے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

عدیم ہاشمی
یوم وفات 5نومبر2001
Read 4 tweets
4 Nov
ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
عمر تو ساری کٹی عشق بتاں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
مومن خان مومن
#NewProfilePic Image
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گئے
فلس ماہی کے گل شمع شبستان ہوں گئے

ناوک انداز جدھر دیدہ جاناں ہوں گئے
نیم بسمل کئی ہوں گئے کئی بے جاں ہوں گئے

تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گئے تصویر جو حیراں ہوں گئے

مومن خان مومن
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گئے

ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

کرے زخمی مجھے نادم ہو یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے

مومن خان مومن
Read 5 tweets
4 Nov
کابل میں ہوئی دہشت گردی سے متعلق جان کرگیارہ سالہ بیٹے نے مجھ سے سوال کیا " دہشت گرد بالآخر پیدا ہی کیوں کیے گئے ؟"
بچے کے اس سوال سے یہ تو واضح ہوگیا کہ بچوں تک کوعلم ہو چکا ہے کہ دہشت گرد بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں ہاں البتہ بیرون ملک میں بڑے ہوئے اس بچے

#پرتشدد_معاشرہ
بیرون ملک میں بڑے ہوئے اس بچے کو یقینا" یہ معلوم نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں اب مزید دہشت گرد پیدا کیے جانے کی ضرورت نہیں رہی ہے کیونکہ لوگ انفرادی طورپردہشت گردی کا مرتکب ہونے والوں‌ کو بھی سر آنکھوں پہ بٹھا لیتے ہیں‌
چاہے وہ گورنر کو سفاکانہ طور پر قتل کرنے والا اس کا محافظ ہو
جسے قانون نے بطور مجرم سزائے موت سناکے تختہ دار پہ چڑھادیا ہو
یا اک چھوٹے شہر میں مذہب بارے بےعلم بینک گارڈ جس نے بینک مینیجر کو یہ کہنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا کہ پیغمبر بھی اللہ کے محتاج ہوتے ہیں
یاحال ہی میں اک کالعدم تنظیم کےکارکن جنھوں نے کئی پولیس والوں کو بہیمانہ قتل کیا
Read 4 tweets
29 Oct
میں بچپن سے اب تک جنگ اتوار میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات لازمی دیکھتی ہوں
مجھے نہ اشتہار کے ذریعے بیاہ کرنا تھا/ نا ہے مگرحالات کا ضرور پتہ لگتا
29 اکتوبر کے اخبار میں شائع شدہ یہ اشتہار دیکھ لیجیے
عمر 35 سال، انٹر، اردو سپیکنگ،آئل فیلڈ میں نچلے درجے کی ملازمت
شادی شدہ
#society
🔽
شادی شدہ، بیوی 2 بچے ساتھ، آسٹریلیا، ترکی یا پاکستان میں اچھی ملازمت کے حصول کے لیے دوسری شادی کا خواہشمند ہوں
ترجیح معذور کسی بھی قسم کی، یا بیوہ وغیرہ، حقائق پر یقین رکھنے والے رابطہ کریں معرفت روزنامہ جنگ بکس نمبر

کیا معاشرتیات کی اک پوری کتاب نہیں لکھی جاسکتی اس پر؟
🔽
آئیے اس اشتہار کا تجزیہ کرتے ہیں
شروع میں ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ اشتہار جھوٹ بھی ہوسکتا سچ بھی
اگر جھوٹ ہے تو کسی سادہ لوح خوشحال معذور بیوہ وغیرہ کو پھانسنے کے لیے ہوگا
گر سچا اشتہار ہے تو یہ امید کی بجائے ناامیدی مایوسی کا اشتہار ہے
جب تک نوجوانوں کوخود بر چننے کی آزادی
🔽
Read 5 tweets
27 Oct
ابھی سے اپنا دل تھامے ہوئے کیوں لوگ بیٹھے ہیں
ابھی تو حشر اٹھنے کو تری محفل میں باقی ہے
ابھی سے تونے قاتل میان میں تلوار کیوں رکھ لی
ابھی تو جان تھوڑی سی تن بسملؔ میں باقی ہے
بسمل الہ آبادی
#NewProfilePic
یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے
کوئی پروانہ جل مرنے کو کیا محفل میں باقی ہے

ہزاروں اٹھ گئے دنیا سے اپنی جان دے دے کر
مگر اک بھیڑ پھر بھی کوچۂ قاتل میں باقی ہے

ہوئے وہ مطمئن کیوں صرف میرے دم نکلنے پر
ابھی تو اک دنیائے تمنا دل میں باقی ہے

بسمل الہ آبادی

🔽
🔼

ہوا تھا غرق بحر عشق اس انداز سے کوئی
کہ نقشہ ڈوبنے کا دیدۂ‌ ساحل میں باقی ہے

کہاں فرصت ہجوم رنج و غم سے ہم جو یہ جانچیں
کہ نکلی کیا تمنا کیا تمنا دل میں باقی ہے

وہاں تھے جمع جتنے مرنے والے مر گئے وہ سب
قضا لے دے کے بس اب کوچۂ قاتل میں باقی ہے

بسمل الہ آبادی
Read 4 tweets
24 Oct
آج کے دن عصمت چغتائی کو مرنے کے بعد جلا دیا گیا تھا کیونکہ عصمت نے اس عمل کی خواہش اور وصیت کی تھی
عصمت چغتائی کے اس روئیے کو ترقی پسند گروہ رسومات سے بھرے معاشرے کے خلاف کا نام دیتا ہے باوجود اس کے کہ عصمت چغتائی کا ناول کوئی ترقی پسند اپنی بیٹی کو پڑھنے کے لئے نہیں دے سکتا
🔽
🔼
جہاں تک اس معاشرے سے بغاوت کی بات ہے تو یہ معاشرہ ادیبوں ترقی پسند شاعروں کا ہی بنایا ہُوا ہے
عصمت کو انکی وصیت کے مطابق اک شمشان بھومی میں نذر آتش کیا گیا
جب یہ خبر چھپی تو خود ترقی پسند مسلمان ادیب شاعر حیرت زدہ رہ گئے
عصمت اپنے مخصوص اسلوب باغیانہ خیالات اور حقیقت نگاری
🔽
🔽
کیوجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہی ہیں
انہوں نے مرد کی برتری کو کبھی نہیں مانا
عصمت اترپردیش کے شہر بدایوں میں 21اگست 1915 کو پیدا ہوئیں
ممبئی میں 24 اکتوبر 1991 کو انتقال ہوا
1976 میں پدم بھوشن سے نوازا گیا
پرورش جودھپور میں ہوئی
جہاں انکے والد مرزا قسیم بیگ سول ملازم تھے
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(