مارگریٹ تھیچر (1925-2013)
(Grantham, England)
مارگریٹ تھیچر 1979 سے 1990 تک برطانیہ کی وزیراعظم رہیں۔
برطانیہ کی واحد عورت وزیراعظم جن کو "Iron Lady" کا خطاب دیا گیا۔ مارگریٹ بہت پراعتماد، انتہائی سخت اورطاقتور خاتون وزیراعظم رہیں۔
مارگریٹ پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جن کو #History
اپنی ملکی پالیسیوں کے جواب میں اپنی کابینہ اور عوام دونوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ نامناسب حکومتی اخراجات میں کٹوتیاں، مینوفیکچرنگ کی زوال پذیر صنعت اوربڑھتی ھوئی بیروزگاری نے مارگریٹ کیلیے جلد پاورسے باہر نکلنے کا راستہ ہموار کیا۔
مارگریٹ کاجزائر کی بازیابی کے لیے
جنگ میں جانے کا فیصلے سے پارلیمنٹ کے متعدد اراکین اور قریبی مشیروں کے علاؤہ امریکی صدر رونالڈ ریگن بھی مخالف تھے کیونکہ وہ بار بار امن مذاکرات پر زور دے رھے تھے۔
مارگریٹ کی قیادت میں 5 اپریل 1982 کو برطانوی حکومت نےایک بحری ٹاسک فورس 8,000 میل دورجنوبی بحر اوقیانوس میں بھیجی تاکہ
ارجنٹائن کی افواج کو جزائر پر حملے سے پہلے ہی مقابلہ کر سکے۔
برطانوی بحری بیڑے میں بالآخر 38 جنگی جہاز، 77 معاون جہاز اور 11,000 فوجی، ملاح اور میرینزشامل تھے۔ یہ تنازعہ74 دن تک جاری رہا اور 14 جون 1982 کو ارجنٹائن کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ختم ھوا۔
جنوبی بحر اوقیانوس کےتنازع پر اس
کے فوری ردعمل اور تیزی سے فتح نے اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا اور 1983 میں اس کے بعد دوبارہ انتخاب ھوا۔
اس فتح نے یہ بھی ثابت کیا کہ تھیچر کی "آئرن لیڈی" مانیکر مستحق تھی۔ مارگریٹ الزبتھ اول کے بعد ملک کی جنگ میں قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
سرد جنگ، ارجنٹائن کیساتھ جنگ اور
ایرانی سفارت خانے کا محاصرہ عہد مارگریٹ کے وہ کارنامے ہیں جو مارگریٹ کے سیاسی قد میں اضافہ کرتے ہیں۔
مارگریٹ کی وفات 8 اپریل 2013 کو لندن میں دل کا دودہ پڑنے سے ھوئی۔ @threadreaderapp pls compile it. #British #History
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
#magnificent
#EducationMatters
صادق پبلک سکول (بہاولپور)
Sadiq Public School (#Bahawalpur)
A Royal Legacy
ایشیاء کا سب سےبڑا سکول
1953میں بہاولپور کےنواب صادق محمد خان عباسی چہارم کےنام پر تعمیر کیا گیا "صادق پبلک سکول" (SPS)، جسے نواب صادق نے ہی تعمیر کیا، 450سے زائد ایکٹر رقبے
پر پھیلا ایشیاء کا سب سےبڑا سکول ھے۔
صادق پبلک سکول کی تعمیر کے تمام اخراجات خود نواب صاحب نے اٹھائے۔ اس وقت کے چیف منسٹر مخدوم زادہ حسن محمود نے اس پروجیکٹ کو اپنی نگرانی میں سپروائز کیا
سکول کا افتتاح7 اساتذہ اور صرف 37طلباء کی موجودگی میں خود نواب صادق نے 18 جنوری 1954 کو کیا۔
سکول کا ابتدائی سٹرکچر 2 بورڈنگ ہاؤسز، 5 سٹاف رومز، بنیادی اکیڈمی بلاک پر مشتمل تھا۔ سکول کے پہلے پرنسپل خان انور سکندرخان تھے۔
سکول کو 1966 میں انٹرمیڈیٹ اور 1994 میں کیمبرج A Level کا درجہ دیا گیا۔
ہر سال طلباء کی بڑھتی تعداد نے سکول کو استحکام بخشا، متخیر حصرات نے سکول کو فنڈز
#Sikhs
#Punjab
#architecture
حویلی سوجن سنگھ (راولپنڈی)
Haveli Sujan Singh (Rawalpindi, #Pakistan)___1893ء
شہر راولپنڈی میں اپنےتاریخی ماضی اور ورثےکے بارےمیں بتنےکیلئےبہت کچھ ھےجیسے تقریبا132سال قبل اپنے وقت کےسب سےشاندار فن تعمیر اورسکھ ورثہ حویلی رائے بہادر سوجن سنگھ۔
حویلی کو
رائے بہادر سوجن سنگھ نے1893میں اپنےخاندان کی رہائش گاہ کےطور پر بنایاتھا۔ وہ اپنے دور کی ایک ممتاز شخصیت اور راولپنڈی کے ایک امیر تاجر تھےجن کا لکڑی کاکاروبار پھل پھول رہاتھا۔ وہ فن تعمیر اور ڈیزائن کامنفرد احساس رکھتے تھے لیکن یہ گھرصرف ایک حویلی نہ تھی بلکہ ایک زندہ میوزیم تھا۔
حویلی کا احاطہ رقبہ 24,000 مربع فٹ (2,230 مربع میٹر) چار منزلوں پر پھیلا ھوا ھے جو میں 45 کمروں پر مشتمل ھے جو کبھی شام کو بڑے بڑے چراغوں اور فانوسوں سے روشن ھوتے تھے۔
اور میوزیم ایسے کہ حویلی کوخاص طور پر رائے بہادر کے خاندان کی تصاویر، نوادرات، وکٹورین فرنیچر سے سجایاگیاتھا اور
#Iran
#Pakistan
#FactsMatter
رضا پہلوی (Reza Pahlavii) 1960- to yet
1979میں ایرانی انقلاب کے آنےسےوھاں کنگ محمد پہلوی کی بادشاہت کااختتام ھوا اور روح اللہ خامنہ ای کےتحت ماڈرن مگرشرعی ایران کی بنیادرکھی گئی۔
رضاپہلوی اسی آخری ایرانی بادشاہ کےجلاوطن کیےگئےولی عہداور امریکہ نوازہیں
جو آج کل ایران-امریکہ جنگ کی وجہ سےدوبارہ سرگرم ھوچکےہیں۔
جس "Regime Change"کی بازگشت دنیا اس وقت سن رہی ھےوہ اسی بادشاہت اوراپنےایجنٹ کودوبارہ مسنداقتدار پربٹھانےکی گیم ھےتاکہ ایران میں جمہوریت ختم کرکےاپناایجنٹ تعینات کیاجائے۔
یہی تجربہ مغرب پوری شدت سے پاکستان میں یہودی پروڈکٹ
"عمران خان" کی صورت میں بھی کرچکا تاکہ اپنے ایجنٹ کے تحت واحداسلامی ریاست کویرغمال بنایاجاسکے مگر اسےمنہ کی کھانی پڑی۔طالبان سےہرصورت ڈائیلاگ، ملک ڈیفالٹ کیلئےIMFکو خط، فوج کوبغاوت پر اکسانا، PTI بیرون ملک سےآپریٹ ھونا،بیرونی فنڈنگ، 356بےنامی اکاؤنٹس، برطانوی کلبس، کینسر ہسپتال،
#Muslims
#Scientist
الہیزان ابن الہیثم (Alhezan Ibn Alhaytham)
965-1040
سائنس تو ایجاد ہی مغرب کی ھےاسی لئےمغرب نےکیمرے کاموجد بھی فرانسیسی جوزف نی اپس (Joseph Nièpcè/1826)کو جبرا منوابھی لیا مگریہ غلط ھے۔
آج جو ماڈرن کیمرہ جگہ جگہ دکھائی دیتاھے درحقیقت جوزف سے 1000سال قبل اسلامی
گولڈن عہدکےمسلمان ماہر طب، فلکیات، ریاضی دان ابن الہیثم نے ایجاد کیاتھا۔ اپ کا تعلق بصرہ (عراق) سےتھا۔
لفظ کیمرہ بھی سب سےپہلے ابن الہیثم نے ہی اپنی کتاب "کتاب المناظر" میں متعارف کروایاتھا۔
دن رات روشنی کی حرکت پرمسلسل محو تجربات ابن الہیثم نےجب کمرہ تاریک کرکے ایک سوراخ بنایاتو
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ باہر کا منظر اس چھید سے الٹا گزر دیوار پر واضح نظر آنے لگا۔
اس چھوٹےسےسوراخ نے ابن الہیثم پر ہی نہیں بلکہ دنیاپر بڑےبڑے افق کھولے۔
ابن الہیثم نےاپنےاس تجربے کو "Camera Obscurà" کانام دیا۔ اگر وہ یہ تجربہ نہ کرتاتو آج دنیا کےہاتھ میں یہ کیمرہ نہ ھوتا۔
#Cosmology
#Philosophy
#HistoryBuff
جارڈینو برونو (Giordano Bruno)
1548-1600
پاکستان میں "Giordano" کےنام سےگردش کرتاایک مشہور اورمہنگابرینڈ جوایک اطالوی(Italian)شاعر اورماہرعلم الکائنات (Cosmologist)پر مبنی ھے جسے1600میں اپنےان نظریات کی بنا پرہجوم کےدرمیان زندہ جلادیاگیاجوصدیوں
بعد من و عن درست ثابت ھوئے۔
جارڈینو بنیادی طور پر ایک کیتھولک راہب (Catholic Monk) تھا۔ دنیاؤں کے بارے میں سوالات کرنے سے نہ رکنے پر اسےبہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ جارڈینو نے ایک سے زیادہ دنیاؤں کافلسفہ پیش کیا۔
اس کا کہنا تھا؛
"خلا کی کوئی حد نہیں، ستارے جو رت کوچمکتے ہیں دراصل
چھوٹے سورج ہیں اوریہ مختلف سیاروں کے گرد گردش کرتےہیں، یہ لامتناہی دنیالامتناہی خدا سےجوڑتی ھے یعنی ایک 'خدا' (Almighty/Creator) ضرور ھے جو انسانی اصولوں سے بہت عظیم ھے"
ان نظریات کوچرچ ہادریوں نے خطرناک قرار دیا مگرجارڈینو نے اسے واپس لینے سےانکار کیا۔
اپنےانہی نظریات کی بناء پر
#ancient
#religions
مندائی مذہب (Mandaeism)
فلسطین سےجنم لینےوالا پہلی صدی قبل مسیح کا ایک ایسامذہب جس میں عیسٰی(علیہ السلام) کو "Christ the Liar" تسلیم کیا مجاتاھے اور "John" کو اپناپیغمبر۔
فلسطین سےمیسوپوٹیمیا (قدیم عراق)و بابل (قدیم ایران) سفرکرنے والا مذہب جس کےآج دنیابھر میں
کم وبیش 1یک لاکھ کےقریب پیروکارہیں، خود کو"Knowledge of Light"کہتاھےجس کابنیادی عقیدہ روشنی اوراندھیرے(Light and Darkness) کے مابین تمیزھے۔
پانی کویہ نہایت مقدس گردانتےہیں۔
ان کاماننا ھےکہ دنیا دوحصوں میں منقسم ھے: ایک روشنی کی دنیاجو "حی ربی" پرمشتمل ھےدوسری اندھیراجوبصورت ارواح
اجسام میں قیدھوتی ھے۔
یہ اپنےمذہب کو "Religion of Light" سے متعارف کرواتے ہیں۔ یہ مذہب اپنی زبان یعنی زیادہ ترعربی اور اعرامی ، اپنا رسم الخط یعنی گنزا ربا (Ginza Rabba) رکھتاھے جو بابلی تلمود (Babylonian Talmud)و عکادین (میخی ،Akkadian/Conical ) سےخاصاملتا جلتاھے۔
اگرچہ منڈی ازم