#Egypt #History
ملکہ مصرقلوپطرہ
(Alexandria, 69 BC- 30 BC)
تین دہائیوں تک برسراقتدار رھنے والی مصرکی آخری اور حقیقی فرعونہ
اپنے ہی بھائی سے، جو اسکا شوہر بھی تھا، اقتدار چھیننے کی جنگ اور روم کے بادشاہ آکٹیوین سےہار نے اسے تاریخ میں امر کر ڈالا۔
بطلیموس گھرانے (Ptolmic Rulers) نے
مصر پر تقریباً 300 سال حکومت کی۔ قلوپطرہ ان کی آخری حکمران تھی اور اس طویل اور قابل فخر خاندان کی وارث بھی۔ قلوپطرہ بطلیموس جیسے مشکل، پریشان کن شاہی خاندان میں پیدا ھوئی۔
قلوپطرہ نےایک وسیع سلطنت پر حکومت کی جس میں مصر، قبرص، جدید دور کے لیبیا کا حصہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقے
شامل تھے۔
قلوپطرہ کئی زبانیں جانتی تھی۔ جیساکہ آج دورجدید میں قلوپطرہ دلکش جسمانی خوبصورتی اورکشش کی عکاس ھے جبکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔درحقیقت جولیس سیزراور مارک انٹونی کےساتھ اس کی رومانوی شمولیت صدیوں سےفن، موسیقی اورادب میں امر ھے۔
بطلیموس ایک مقدونیائی(Macedonian) جرنیل کی نسل
سے تھے جنہوں نے سکندر اعظم کے ماتحت خدمات انجام دیں۔ اگرچہ انہوں نے مصر پر تقریباً تین صدیوں تک حکومت کی تھی، لیکن روم کی طاقت سےان کی سلطنت کو گرہن لگ گیا تھا کیونکہ بطلیموس کابہت زیادہ انحصار رومیوں پرتھا۔
55قبل مسیح میں، رومیوں کی حمایت سے،بطلیموس XII کودوبارہ تخت پر بٹھایاگیا
اور اس نے اپنی 17 سالہ اسی بیٹی قلوپطرہ کو اپنا شریک حکمران بنا لیا۔ 51 ق م میں بادشاہ نے اپنی وصیت میں کہا کہ قلوپطرہ کو اپنے بھائی، جو اسکا شوہر بھی تھا، بطلیموس XIII کے ساتھ تخت بانٹے۔
بطلیموس XIII اور اسکے مشیروں نےاس انتظام کوتسلیم کرنے سے انکار پر لڑائی شروع ھو گئی۔
قلوپطرہ
شاہی محل سے بھاگ نکلی۔ یہ جولیس سیزر تھا جس نے اس کو اپنا تخت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ اسی وجہ سے دونوں میں رومانویت اورقربت پروان چڑھی اور ایک بیٹاCeasarion ھواجسکے بارےمیں سیزر کوشک بھی رہاکہ یہ اس کا نہیں ھے۔
جبکہ سیزر کےبیٹے کی ماں ھونے کی وجہ سے قلوپطرہ کوزیادہ طاقت
ملی، اورپھر تاریخ نے لکھا کہ یہ بچہ قلوپطرہ کاشریک حکمران بن گیا۔
بہت زیادہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے قلوپطرہ اپنےہی بھائی کےخلاف لڑی، اپنے بھائی اور بہن Arisone IV کو قتل کیا اور تخت پر اسی تمکنت سے براجمان ھوئی۔
اپنےوالد کے دور حکومت کے اختتام پر پہلے ہی قلوپطرہ دیوی (Goddess)
بن چکی تھی لیکن اب اسے خاص طور پر مصر کی سب سے مشہور دیوی آئسس (Goddess of ISIS) سے پہچانا جانا تھا یعنی "مصر کی ماں"۔ یہ مصر کا خطاب عظیم تھا۔ @threadreaderapp Unroll it. #Cleopatra #ancient #Egypt #History
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
#magnificent
#EducationMatters
صادق پبلک سکول (بہاولپور)
Sadiq Public School (#Bahawalpur)
A Royal Legacy
ایشیاء کا سب سےبڑا سکول
1953میں بہاولپور کےنواب صادق محمد خان عباسی چہارم کےنام پر تعمیر کیا گیا "صادق پبلک سکول" (SPS)، جسے نواب صادق نے ہی تعمیر کیا، 450سے زائد ایکٹر رقبے
پر پھیلا ایشیاء کا سب سےبڑا سکول ھے۔
صادق پبلک سکول کی تعمیر کے تمام اخراجات خود نواب صاحب نے اٹھائے۔ اس وقت کے چیف منسٹر مخدوم زادہ حسن محمود نے اس پروجیکٹ کو اپنی نگرانی میں سپروائز کیا
سکول کا افتتاح7 اساتذہ اور صرف 37طلباء کی موجودگی میں خود نواب صادق نے 18 جنوری 1954 کو کیا۔
سکول کا ابتدائی سٹرکچر 2 بورڈنگ ہاؤسز، 5 سٹاف رومز، بنیادی اکیڈمی بلاک پر مشتمل تھا۔ سکول کے پہلے پرنسپل خان انور سکندرخان تھے۔
سکول کو 1966 میں انٹرمیڈیٹ اور 1994 میں کیمبرج A Level کا درجہ دیا گیا۔
ہر سال طلباء کی بڑھتی تعداد نے سکول کو استحکام بخشا، متخیر حصرات نے سکول کو فنڈز
#Sikhs
#Punjab
#architecture
حویلی سوجن سنگھ (راولپنڈی)
Haveli Sujan Singh (Rawalpindi, #Pakistan)___1893ء
شہر راولپنڈی میں اپنےتاریخی ماضی اور ورثےکے بارےمیں بتنےکیلئےبہت کچھ ھےجیسے تقریبا132سال قبل اپنے وقت کےسب سےشاندار فن تعمیر اورسکھ ورثہ حویلی رائے بہادر سوجن سنگھ۔
حویلی کو
رائے بہادر سوجن سنگھ نے1893میں اپنےخاندان کی رہائش گاہ کےطور پر بنایاتھا۔ وہ اپنے دور کی ایک ممتاز شخصیت اور راولپنڈی کے ایک امیر تاجر تھےجن کا لکڑی کاکاروبار پھل پھول رہاتھا۔ وہ فن تعمیر اور ڈیزائن کامنفرد احساس رکھتے تھے لیکن یہ گھرصرف ایک حویلی نہ تھی بلکہ ایک زندہ میوزیم تھا۔
حویلی کا احاطہ رقبہ 24,000 مربع فٹ (2,230 مربع میٹر) چار منزلوں پر پھیلا ھوا ھے جو میں 45 کمروں پر مشتمل ھے جو کبھی شام کو بڑے بڑے چراغوں اور فانوسوں سے روشن ھوتے تھے۔
اور میوزیم ایسے کہ حویلی کوخاص طور پر رائے بہادر کے خاندان کی تصاویر، نوادرات، وکٹورین فرنیچر سے سجایاگیاتھا اور
#Iran
#Pakistan
#FactsMatter
رضا پہلوی (Reza Pahlavii) 1960- to yet
1979میں ایرانی انقلاب کے آنےسےوھاں کنگ محمد پہلوی کی بادشاہت کااختتام ھوا اور روح اللہ خامنہ ای کےتحت ماڈرن مگرشرعی ایران کی بنیادرکھی گئی۔
رضاپہلوی اسی آخری ایرانی بادشاہ کےجلاوطن کیےگئےولی عہداور امریکہ نوازہیں
جو آج کل ایران-امریکہ جنگ کی وجہ سےدوبارہ سرگرم ھوچکےہیں۔
جس "Regime Change"کی بازگشت دنیا اس وقت سن رہی ھےوہ اسی بادشاہت اوراپنےایجنٹ کودوبارہ مسنداقتدار پربٹھانےکی گیم ھےتاکہ ایران میں جمہوریت ختم کرکےاپناایجنٹ تعینات کیاجائے۔
یہی تجربہ مغرب پوری شدت سے پاکستان میں یہودی پروڈکٹ
"عمران خان" کی صورت میں بھی کرچکا تاکہ اپنے ایجنٹ کے تحت واحداسلامی ریاست کویرغمال بنایاجاسکے مگر اسےمنہ کی کھانی پڑی۔طالبان سےہرصورت ڈائیلاگ، ملک ڈیفالٹ کیلئےIMFکو خط، فوج کوبغاوت پر اکسانا، PTI بیرون ملک سےآپریٹ ھونا،بیرونی فنڈنگ، 356بےنامی اکاؤنٹس، برطانوی کلبس، کینسر ہسپتال،
#Muslims
#Scientist
الہیزان ابن الہیثم (Alhezan Ibn Alhaytham)
965-1040
سائنس تو ایجاد ہی مغرب کی ھےاسی لئےمغرب نےکیمرے کاموجد بھی فرانسیسی جوزف نی اپس (Joseph Nièpcè/1826)کو جبرا منوابھی لیا مگریہ غلط ھے۔
آج جو ماڈرن کیمرہ جگہ جگہ دکھائی دیتاھے درحقیقت جوزف سے 1000سال قبل اسلامی
گولڈن عہدکےمسلمان ماہر طب، فلکیات، ریاضی دان ابن الہیثم نے ایجاد کیاتھا۔ اپ کا تعلق بصرہ (عراق) سےتھا۔
لفظ کیمرہ بھی سب سےپہلے ابن الہیثم نے ہی اپنی کتاب "کتاب المناظر" میں متعارف کروایاتھا۔
دن رات روشنی کی حرکت پرمسلسل محو تجربات ابن الہیثم نےجب کمرہ تاریک کرکے ایک سوراخ بنایاتو
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ باہر کا منظر اس چھید سے الٹا گزر دیوار پر واضح نظر آنے لگا۔
اس چھوٹےسےسوراخ نے ابن الہیثم پر ہی نہیں بلکہ دنیاپر بڑےبڑے افق کھولے۔
ابن الہیثم نےاپنےاس تجربے کو "Camera Obscurà" کانام دیا۔ اگر وہ یہ تجربہ نہ کرتاتو آج دنیا کےہاتھ میں یہ کیمرہ نہ ھوتا۔
#Cosmology
#Philosophy
#HistoryBuff
جارڈینو برونو (Giordano Bruno)
1548-1600
پاکستان میں "Giordano" کےنام سےگردش کرتاایک مشہور اورمہنگابرینڈ جوایک اطالوی(Italian)شاعر اورماہرعلم الکائنات (Cosmologist)پر مبنی ھے جسے1600میں اپنےان نظریات کی بنا پرہجوم کےدرمیان زندہ جلادیاگیاجوصدیوں
بعد من و عن درست ثابت ھوئے۔
جارڈینو بنیادی طور پر ایک کیتھولک راہب (Catholic Monk) تھا۔ دنیاؤں کے بارے میں سوالات کرنے سے نہ رکنے پر اسےبہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ جارڈینو نے ایک سے زیادہ دنیاؤں کافلسفہ پیش کیا۔
اس کا کہنا تھا؛
"خلا کی کوئی حد نہیں، ستارے جو رت کوچمکتے ہیں دراصل
چھوٹے سورج ہیں اوریہ مختلف سیاروں کے گرد گردش کرتےہیں، یہ لامتناہی دنیالامتناہی خدا سےجوڑتی ھے یعنی ایک 'خدا' (Almighty/Creator) ضرور ھے جو انسانی اصولوں سے بہت عظیم ھے"
ان نظریات کوچرچ ہادریوں نے خطرناک قرار دیا مگرجارڈینو نے اسے واپس لینے سےانکار کیا۔
اپنےانہی نظریات کی بناء پر
#ancient
#religions
مندائی مذہب (Mandaeism)
فلسطین سےجنم لینےوالا پہلی صدی قبل مسیح کا ایک ایسامذہب جس میں عیسٰی(علیہ السلام) کو "Christ the Liar" تسلیم کیا مجاتاھے اور "John" کو اپناپیغمبر۔
فلسطین سےمیسوپوٹیمیا (قدیم عراق)و بابل (قدیم ایران) سفرکرنے والا مذہب جس کےآج دنیابھر میں
کم وبیش 1یک لاکھ کےقریب پیروکارہیں، خود کو"Knowledge of Light"کہتاھےجس کابنیادی عقیدہ روشنی اوراندھیرے(Light and Darkness) کے مابین تمیزھے۔
پانی کویہ نہایت مقدس گردانتےہیں۔
ان کاماننا ھےکہ دنیا دوحصوں میں منقسم ھے: ایک روشنی کی دنیاجو "حی ربی" پرمشتمل ھےدوسری اندھیراجوبصورت ارواح
اجسام میں قیدھوتی ھے۔
یہ اپنےمذہب کو "Religion of Light" سے متعارف کرواتے ہیں۔ یہ مذہب اپنی زبان یعنی زیادہ ترعربی اور اعرامی ، اپنا رسم الخط یعنی گنزا ربا (Ginza Rabba) رکھتاھے جو بابلی تلمود (Babylonian Talmud)و عکادین (میخی ،Akkadian/Conical ) سےخاصاملتا جلتاھے۔
اگرچہ منڈی ازم