ਸਨਾ ਫਾਤਿਮਾ 🇵🇸 Profile picture
Historian | Linguist | Archaeology | Egyptology | Indology | Geology | Civilizations | Civil Supremacy | FaizAhmadFaiz | #فلسطین_الآن 🇵🇸 @SaveHumanity78

Nov 17, 2022, 5 tweets

#archaeohistories
#India
#mughal
#History
شاہجہان آباد اور اس کے دروازے (Shahjahanabad/Dilli Gates)
بھارت کے شہر دہلی اور اسکے گردونواح (Outskirts) علاقوں کاذکر ھندوؤں کی مقدس کتاب "مہابھارت" میں مختلف ناموں سے ملتا ھے۔
یہ شہر 1400سال قبل مسیح میں پانڈوؤں اور کوروں نےآباد کیاتھا۔

کم لوگوں کے علم میں ھو گاکہ شاہجہان آباد پرانی دلی (بھارت) کا پرانا نام ھے جسے مغل بادشاہ شاہجہان نے 1639 تا 48 کے درمیان دریائے جمنا کے جنوب مشرقی کنارے دریافت کیا تھا۔
1648 میں جب بادشاہ شاہجہان نے اپنا دارالحکومت آگرہ سے دہلی کو بنایا تو اس کا نام "دلی" سے تبدیل کر دیا گیا۔

گویا ایک وقت میں دہلی کو شاہجہان آباد بھی کہا جاتا تھا۔
شاہی عدالتوں، پرکشش مساجد، امراء کے محلات، یادگاریں، مینشنز سے بھرے دہلی کو اردگرد سے 12فٹ چوڑی، 26 فٹ اونچی اور 6.1 مربع کلومیٹر لمبی دیوار گھیرے ھوئے ھے۔
اسکےعلاؤہ دہلی کی وجہ شہرت اسکے14 دروازےہیں جنہیں 7ویں صدی میں تعمیر

کیا گیا تھا اور ان میں سے آج صرف پانچ اپنا وجود اور تاریخ برقرار رکھے ھوئے ہیں، جن کے نام یہ ہیں؛
اجمیری گیٹ
دہلی گیٹ
کشمیری گیٹ
لاھوری گیٹ
ترکمان گیٹ
مغل عہد میں یہ دروازہ پرانی دلی میں داخلے اور نکلنے کیلئے استعمال ھوتے تھے۔
یہ پانچوں دروازے مختلف شہروں اور علاقوں سے دلی

میں داخلے کے سبب انہی سے منسوب ہیں جیسے "لاھوری دروازہ" دہلی سے لاھور تک جاتا ھے اس لیے اسے لاھوری دروازے کا نام دیا گیا ھے۔

#India
#Delhi
#History

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling