My Authors
Read all threads
ھندوستان کی تاریخ میں دو چہرے ایسے سیاہ ہیں، جنہیں دنیا کی کوئی طاقت سفید نہ کر سکی اور ابدی ذلتیں ان کا مقدر بنیں۔ ان میں سے ایک تو میر جعفر ہے اور دوسرا میر صادق۔
ہمارے حلقے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ دونوں کم و بیش ایک ہی عمر کے تھے اور ایک ہی وطن کے رہائشی ۔ بلکہ دونوں 1/17
آپس میں رشتہ دار بھی، مگر ایسا ہے نہیں۔ میر جعفر کا وطنی تعلق بنگال سے تھا اور میر صادق کا حیدر آباد دکن سے۔
میر جعفر کی پیدائش 1691 میں ہوئی اور تاریخِ وفات 5 فروری 1765 ہے۔ جب کہ میر صادق 4 مئی 1799 کو واصلِ جہنم ہوا۔

میر جعفر، بنگال کی مسلم حکومت میں فوج کا سردار۔ 2/17
بعد میں ترقی پا کر فوج کا سپہ سالار ہو گیا۔ مسلم حکومت کی سربراہی اس وقت نواب سراج الدولہ کے ہاتھ میں تھی۔
بنگال کو اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں 1592ء میں مغلیہ سلطنت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو کئی صوبے آزاد ہو گئے جن میں بنگال بھی شامل تھا۔
سراج 3/17
الدولہ چوبیس برس کی عمر میں اپنے دادا علی وردی خان کے انتقال کے بعد 1756ء میں بنگال کی گدی پر بیٹھا۔ اس دور میں انگریز اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے اور تجارت کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی مسلمانوں کے اقتدار میں نقب لگانے میں مصروف تھی۔
اول تو انگریزوں نے نواب کی منظوری کے 4/17
بغیر اپنے تجارتی مراکز کے اردگرد حصار بنا لئے تھے، دوم وہ سراج الدولہ کے مخالفوں کی حمایت کر رہے تھے اور سوم انہوں نے تجارتی مراعات سے ناجائز فائدے اٹھانا شروع کر دیئے تھے جن کے سبب نواب نے حملہ کر کے کلکتہ پر قبضہ کیا۔
کلائیو نے حملہ کر کے کلکتہ تو واپس لے لیا اور نواب 5/17
سراج الدولہ سے معاہدہ بھی کر لیا لیکن اس کے ساتھ ہی انگریزوں نے سراج الدولہ سے نجات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔
اس قسم کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انگریز ہمیشہ سازش کا سہارا لیتے تھے اور دشمن کے اہم کارندوں کو رشوت یا اقتدار کا لالچ دے کر خرید لیتے تھے۔
نواب 6/17
سراج الدولہ کا سب سے بڑا قابل اعتماد میرجعفر تھا جو اس کی فوج کا کمانڈر انچیف بھی تھا۔ انگریزوں نے اس سے ساز باز کر کے سازش کا جال پھیلا دیا اور اسے بنگال کی حکمرانی دینے کا وعدہ کر کے خفیہ معاہدہ کر لیا۔
طے شدہ حکمت عملی کے تحت جنگ پلاسی (1757) ہوئی۔ انگریزوں کی فوج تین 7/17
ہزار پر مشتمل تھی جبکہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی۔
23 جون 1757ء کو پلاسی کی اس جنگ کے دوران میر جعفر نے سراج الدولہ کو دغا دیا اور فوج لے کر نواب سے علیحدہ ہو گیا۔ نتیجے کے طور پر نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلا۔ میر جعفر کے بیٹے 8/17
میراں نے تعاقب کر کے سراج الدولہ کو قتل کر دیا۔
یوں سراج الدولہ کی جگہ میر جعفر بنگال کا حاکم بن گیا لیکن عملی طور پر اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے میں بری طرح جکڑ دیا گیا اور انگریز غالب آ چکے تھے۔ مختصر یہ کہ جنگ پلاسی کے بعد عملاً بنگال کے علاقے میں مسلمانوں کے 9/17
عروج و اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔

اس حوالے سے دوسرا تاریخی کردار جو ایک ملامتی علامت بن چکا ہے وہ ہے میر صادق جو ٹیپو سلطان کی مجلس شوریٰ کا صدرِ اعظم تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نہ ہی صرف بہادر، عبادت گزار اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے 10/17
اقتدار کی آخری نشانی اور روشن چراغ سمجھا جاتا تھا کیونکہ مغل حکمران جنگ بلکسر میں شکست کے بعد انگریزوں کے ہاتھوں میں محض کٹھ پتلی بن چکے تھے۔
ٹیپو کو فرانسیسیوں کی حمایت حاصل تھی اور وہ انگریزوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔
مکمل جنگی تیاریوں اور 11/17
سازشوں کا جال پھیلانے کے بعد انگریزوں نےجنرل ہیرس کی سربراہی میں میسور پر حملہ کر دیا۔ جنرل ہیرس نے مارچ 1799ء میں میسور اور پھر بنگلور پر قبضہ کر لیا۔
اس کی فوج میں ساٹھ ہزار بیل اور بہت سےہاتھی تھے۔ ٹیپو سلطان کو صلح کےلئے شرمناک شرائط پیش کی گئیں جو اس نے مسترد کردیں۔ 12/17
اپریل کے آواخر میں سرنگا پٹم کےقلعے کےباہر انگریزوں نے توپیں نصب کر دیں اور گولہ باری شروع کر دی۔ تین مئی کو قلعے کی فصیل میں چھوٹا شگاف پڑ گیا۔
4 مئی کو میرصادق کے مشورے پر انگریزوں نے حملہ کیا اور میرصادق نے تنخواہیں دینے کے بہانے ان سپاہیوں کو بلا لیا جو فصیل کے اس شگاف 13/17
کی حفاظت پر مامور تھے چنانچہ انگریز فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔
جب ٹیپو سلطان کو خبر ملی تو وہ پا پیادہ دوڑے اور منتشر فوج کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنےلگے۔ جب سپاہی اپنی قوت کھو بیٹھے تو ٹیپو سلطان گھوڑے پر سوار ہو کر قلعےکےایک دروازے کی طرف بڑھے۔ میر صادق نے وہ دروازہ بند 14/17
کروا دیا تھا تاکہ ٹیپو سلطان باہر نہ جا سکیں۔
ٹیپو سلطان کےوفاداروں نے میرصادق کی غداری کو بھانپتے ہوئے اسے قتل کر دیا اور ٹیپو سلطان انگریزوں کےخلاف لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
یوں ٹیپو سلطان شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی ہزار سالہ زندگی سےبہتر ہے کہہ کر شہادت کے اعلیٰ درجے 15/17
پر فائز ہو گیا اور میر صادق عبرت کی علامت بن کر تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگیا۔ بلکہ اس کی حالت کچھ یوں ہوئی کہ اس کی لاش کئی دنوں تک یوں ہی پڑی رہی اور اس کی بدبو سے پوری فضا مکدر۔

میر جعفر اور میر صادق کی غداریاں اب استعارہ بن چکی ہیں، میر صادق کی اولاد کو انگریزی 16/17
سرکار سےمراعات تو ملیں، مگر بڑی ذلتوں کےساتھ۔
جب انہیں وظیفہ دیا جاتا تو اس طرح اعلان ہوتا:
"غدار کی اولاد، حاضر ہو!"

ڈاکٹر اقبال نےان کم نصیبوں کےسلسلے میں کہا تھا اور درست کہا تھا:
جعفر از بنگال، صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

#پیرکامل
#قلمکار #قلمدان 17/17
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Enjoying this thread?

Keep Current with 💎 پـیــــــKamilــــــر™

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!