My Authors
Read all threads
1/ سبز رنگ کے چوغے پہنے چھوٹے سر والے بچے جن میں سے بیشتر ذہنی معذور اور گونگے بھی ہوتے ہیں کو شاہ دولہ کے چوہے اور ایسی لڑکیوں کو شاہ دولہ کی چوہیاں کہا جاتا ہے۔

ان چوہوں کو حضرت شاہ دولہ دریائی کے مزار سے منسوب کیا جاتا ہے. یہ دربار لاہور سے تقریباً 100کلومیٹر کے فاصلے
2/ واقع گجرات شہر میں ہے۔

گجرات شہر کے ایک طرف دریائے چناب اور دوسری طرف دریائے جہلم ہے۔ اس شہر کی تاریخ بہت قدیم ہے. اس خطے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اولین انسان یہاں پر آباد تھے۔ گجرات کے شمال مشرق میں واقع علاقہ موضع بھڑیلہ شریف میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے کی قبر
3/ موجود ہے۔ ان کا نام قنوط بتایا جاتا ہے. جبکہ بعض روایات کے مطابق یہ قبر حضرت نوع کے بیٹے کی ہے۔

موضع موٹا، موضع چھمب، موضع وٹالہ، موضع شیخ چوکانی، موضع پڈا اور اعوان شریف کے علاقے میں قدیم زمانے کے پیغمبروں اور بنی اسرائیل کے کئی بزرگوں کی قبور موجود ہے۔ پبی کی پہاڑیوں سے
4/ اب بھی ہزاروں برس پرانی تہذیبوں کے آثار ملتے رہتے ہیں۔

گجرات کے قدیم شہر کے مشرقی دروازے کی طرف حضرت شاہ دولہ دریائی کا مزار ہے۔ دریائی انہیں دریاکے کنارے رہنے کی مناسبت سے کہتے تھے۔ شاہ دولہ، مغل بادشاہ شاہ جہاں کے زمانہ میں گجرات آئے۔ اس وقت گجرات کی آبادی صرف چند محلوں
5/ پر مشتمل تھی۔ حضرت شاہدولہ کی آمد کے بعد ان کے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی جس سے یہاں کی آبادی بھی بڑھتی چلی گئی .

حضرت شاہ دولہ دریائی نہ صرف روحانی پیشوا تھے بلکہ وہ رفاہ عامہ کے بھی بڑے دلدارتھے۔ اگر انھیں اپنے زمانے کا ایک معروف سماجی کارکن کہا جائے تو بے جا نہ
6/ ہوگا۔

مغل بادشاہ اور گجرات میں ان کے نمائندے ان سے برا قلبی لگاﺅ رکھتے تھے اور ان کے کئی طرح کے وطائف مقرر کیے ہوئے تھے. یہ وظائف شاہ دولہ رفاع عام کے کاموں پر خرچ کر دیتے تھے . انہوں نے شہر میں اہم گزر گاہوں میں آنے والے نالوں پر پل بھی تعمیر کروائے۔ جگہ جگہ مسجدیں اور
7/ مسافروں کے لیے سرائے بنوائیں۔ انھوں اس علاقے میں بے سہارا اور مفلوک الحال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لیے ادارے قائم کرنے کی بنیاد رکھی اور کئی یتیم خانوں کی طرز پر عمارتیں بنوائی۔ انہی سراﺅں میں ایسے چھوٹے سر والے بچوں کی بھی پرورش کی جاتی تھی جنہیں بعد میں شادولہ کے
8/ چوئے کہا جانے لگا۔

یہ مزار اندر گلی میں ہے. لیکن کسی دور میں یہ بڑی سڑک ہوا کرتا تھا جو یہاں سے کشمیر تک جاتی تھی۔ مغل بادشاہ بھی اسی راستے سے کشمیر جایا کرتے تھے۔ دربار باہر گلی کے دونوں جانب پھول، چادریں اور دیگیں فروخت کرنے والوں کی دکانیں ہیں۔ ان دکانوں پر سونے چاندی
9/ اور گلٹ کے بنے ہوئے انسانی اعضاء، ہاتھ، پاﺅں، زبان، سر اور پورا جسم بھی فروخت ہوتے ہیں جنہیں معتقدین خرید کر نذارنہ کرتے ہیں۔

جب دربار میں کوئی دوسرے شہر سے جاتا ہے تو اسے یہ خیال آتا ہے کہ یہاں پر دولے شاہ کے بہت چوہے ہونگے یا یہاں کوئی ایسی پرورش گاہ ہوگی کہ جہاں ایسے
10/ بچوں کی پرورش کی جاتی ہے مگر مزار کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر ویسی ہی روایتی چہل پہل نظر آتی ہے جیسے دیگر مزارات پر.یہاں پر کوئی ایسی عمارت یا چوہے نہیں۔ تاہم اکا دکا ہی ہوتے ہیں جیسے کے دیگر درباروں پر۔

حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جہاں دور دراز سے معتقدین اپنی
11/ منتوں و مرادوں کے پورا ہونے کی آس لے کر آتے ہی۔ .وہاں ایسی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے کہ جو اولاد کی نعمت سے محروم ہوتی ہیں. اس کے علاوہ بہت سے خاندان اپنے چھوٹے بچوں کو نظر بد سے بچائے رکھنے کے لیے یا کوئی پیدائشی نقصکو دور کرنے کی دعا کرنے کے لیے آتے ہیں۔

مزار سے
12/ منسوب روایتیں اگرچہ گجرات شہر میں تو اتنی مقبول نہیں کہ جتنی یہ ملک کے دوسرے شہروں میں مشہور ہیں. کہا جاتا ہے کہ جو بے اولاد مرد یا عورت حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جا کر اولاد کی منت مانتا ہے تو اس کے ہاں پیدا ہونے والی پہلی اولاد ایب نارمل ہوتی ہے یعنی اس کا سر چھوٹا ہوتا
13/ ہے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ بے زبان ہوتا ہے اور منت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو مزار پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسے بچوں کا سر چھوٹا اور چہرہ بڑا ہوتا ہے۔ جبکہ بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جو لوگ ایسے بچوں کو درگاہ کے نام پر وقف نہیں کرتے یا مزار پر
14/ چھوڑ کر نہیں جاتے تو ان کے ہاں پھر ایسے ہی چوہے بچے پیدا ہوتے ہیں۔

گجرات اور آس پاس کے لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شاہ دولہ کے چوہے اللہ کے بہت نزدیک ہوتے ہیں اور ان کی دعا ہرحال میں قبول ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شاہ دولہ کا چوہا لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا
15/ ہے تو ہر شخص حسب توفیق انہیں ضرور دیتا ہے اور انہیں خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے۔

کچھ لوگ اگرچہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچے مزار پر دیے جاتے ہیں انہیں کمسنی میں ہی آہنی ٹوپیاں پہنا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں، جو بالکل غلط بات ہے اور اس میں کوئی سچائی
16/ نہیں۔

مزار کے جانشین اور دیگر معتقدین ان تمام روایات کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں کوئی ایسی حقیقت نہیں کہ منت کے نتیجے میں پہلا پیدا ہونے والا بچہ چوہا پیدا ہوتا ہے یا ایب نارمل یا کسی نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پہلا بچہ اگر مزار پر نہ چھوڑا جائے تو باقی کی
17/ اولاد بھی ایسی ہی پیدا ہوتی ہے۔ ان اصحاب کا کہنا ہے کہ حضرت دولے شاہ ایک بزرگ ہستی ہیں اور ایسی ہستیوں سے اگر کوئی چیز مانگی جائے تو کیا وہ خراب چیز دیں گے؟ اور اس کے عوض پھر وہ وہی چیز لیں گے؟

انھوں نے ان روایات کو غلط بیان کیا اور کہا کہ اصل حقیقت تویہ ہے کہ شاہ دولہ تو
18/ خود ایسے بچوں بیمار، معذور بچوں کی پرورش کیا کرتے تھے اور یہ ان کی سماجی خدمت تھی کہ غریب والدین اپنے بچوں کو بہتر پرورش کے لیے یہاں چھوڑ جاتے تھے۔ پہلے کچھ والدین یہاں ایسے بچوں کو چھوڑنے آتے تھے جیسے کے دیگر یتیم خانوں میں غریب والدین اپنے بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں مگر اب
19/ یہاں کی انتظامیہ ایسے بچوں کو نہیں لیتی۔

ان تمام پہلوئوں پر سنجیدہ تحقیق صرف برطانوی ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے کی ہے۔ اس کے علاوہ چند برطانوی افسران جو گجرات میں تعینات رہے، نے بھی ان بچوں کا بغور مشاہدہ کیا اور مختلف رپورٹس مرتب کیں۔ انڈین اور پاکستانی دانشور اس جانب
20/ بہت کم متوجہ ہوئے اور ان کا بطور محقق اس معاملے میں تجزیہ تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کرنل کلاڈ مارٹن(Col Clade Marten) 1839ء میں اس دربار پر پہنچا۔ اس نے چند خواتین کو اپنے بچوں کو دربار کے لیے وقف کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ اُس کے مطابق یہ رسم بہت پہلے سے چلی آ رہی تھی۔
21/ بچوں کی جسمانی حالت کے متعلق اس نے لکھنے سے گریز کیا۔

1866ء میں ڈاکٹر جانسٹن دولے شاہ کے دربار پر آیا۔ اُس کو وہاں نو بچے ملے۔ ان بچوں کی عمریں دس اور انیس برس کے درمیان تھیں۔ ان تمام بچوں کے سر بہت چھوٹے تھے۔ اور وہ دولے شاہ کے چوہے کہلاتے تھے۔ ڈاکٹر جانسٹن وہ پہلا
22/ سائنس دان تھا جس نے بتایا کہ ان تمام بچوں کے سروں کو فولادی خود یا کسی اور میکینکل طریقے سے چھوٹا کیا گیا ہے۔

1879ء میں ہیری ریوٹ کارنک (Harry Rivett Cornic) نے اس دربار پر تحقیق کی۔ اس نے لکھا کہ ہر سال تقریباََ دو سے تین بچوں کو دربار کے لیے وقف کر دیا جاتا ہے۔ اس نے
23/ معصوم بچوں کو چوہا بنانے کے متعلق لکھا کہ ان بچوں کے سروں کو میکنیکل طریقے سے چھوٹا کیا جاتا ہے اور اُس میں مختلف حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ مٹی کی ہنڈیا اور دھات سے بنے ہوئے خود بھی ان بچوں کو چوہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

فلورا اینی اسٹیل (Flora Annie Steel) نے 1886ء میں
24/ ان بدقسمت بچوں کے متعلق لکھا کہ دربار پر یہ بچے بالکل تندرست اور صحت مند ہوتے تھے اور ان میں کسی کا سر چھوٹا نہیں تھا۔ مگر مقامی لوگوں کے چند گروہ ان تندرست بچوں کو پورے ہندوستان میں فروخت کر دیتے تھے اور ان کی جگہ چھوٹے سر والے بچے لے آتے تھے۔ اکثر والدین اپنے معذور بچوں
25/ کو ان گروہوں کے حوالے کر دیتے تھے کیونکہ یہ بچے ان کے لیے مکمل بوجھ تھے۔

کیپٹن ایونز نے 1902ء میں اس دربار پر بھر پور تحقیق کی۔ اس وقت تک یہ بچے 600 سو کے قریب ہو چکے تھے۔ اس نے بچوں کے سروں کو زبردستی چھوٹا کرنے کی تھیوری کو تسلیم کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔ اُس کے بقول
26/ یہ ایک بیماری تھی اور اس طرح کے بچے شاہ دولہ کے مزار کے علاوہ پورے ہندوستان میں پائے جاتے تھے۔ اس نے لکھا کہ، اس طرح کے بچے Micro cephalic کہلاتے ہیں اور یہ بچے اس نے برطانیہ میں بھی دیکھے ہیں۔ اس کے نزدیک دولے شاہ کا مزار اس مہلک بیماری میں مبتلا بچوں کے لیے ایک سماجی
27/ پناہ گاہ ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا کہ ایک جنیاتی نقص 'Microcephal' کی وجہ سے ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں اور یہ نقائص صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاءکے دیگر علاقوں، مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ کے کچھ قبائل میں بھی ایسے ہی بچے پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر قدامت پرست یہویوں
28/ کی ایمیش کمیونٹی میں بھی چھوٹے سر والے بچے کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس جنیاتی نقص کی وجہ سے بچوں کے سر بڑھنے کی رفتار( گروتھ) ختم ہوجاتی ہے اور ان کا جسم اور عمر بڑھتی رہتی ہے مگر بچے کا سر اور ذہنی کیفیت وہی دو چار سال کے بچے کی ہی رہتی ہے۔

طبی ماہرین نے اس کی جو وجوہات
29/ بتلائی ہیں ان میں سب سے اہم وجہ کزن میرج کو قرار دیا ہے. یہودیوں کے ایمنش کمیونٹی پر کی گئی تحقیق کے مطابق ان میں قریبی رشتہ داروں میں نسل در نسل شادیاں کرنے کی روایت ہے جو پاکستان کے بیشتر علاقوں اور خاندانوں میں بھی موجود ہے۔ سگے راشتہ داروں میں شادیاں کرنے کی وراثت میں
30/ ملنے والی جنیاتی خامیاں اگلی نسل میں زیادہ شدت سے منتقل ہو جاتی ہے، جس وجہ سے ممکن ہے کہ ایک کزن میرج کے نتیجے میں ایسی اولاد پیدا نہ ہو مگر جب ایسا تواتر سے ہوتا رہے تو کسی نہ کسی نسل میں یہ نقائص ظاہر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق صرف مرد یا عورت کسی ایک میں
31/ ایسا نقص ہونے سے بھی یہ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا تاہم جب دونوں میاں بیوی میں یہ نقص نہ ہو۔ طبی ماہرین کے مطابق اب یہ نقص لا علاج نہیں ہے۔ اگر حمل کے ابتدائی دنوں میں ہی مرض کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔ اب پاکستان میں بھی یہ سہولت موجود ہے کہ ابتدائی ایمبریو کا ٹیسٹ
32/ ہوجاتا ہے اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی ہوجاتی ہے۔

اگرچہ ایسے بچوں کی درست تعداد کے اعداد وشمار تو ملک کے کسی ادارے کے پاس نہیں تاہم ایسے بچوں کی تعداد 10ہزار سے زائد ہوگی۔ عام طور پر ایسے بچے بس کے اڈوں، ریلوے سٹیشن، شہروں کی آبادیوں اور اب بڑی سڑکوں پر بھی
33/ مانگتے نظر آتے ہیں۔ بھیک مانگتے ہوئے ان بچوں کے ساتھ ہمیشہ ایک تندرست اور ہٹا کٹا آدمی یا عورت بھی ہوتی ہے، جس کے اشارے پر یہ چھوٹے سر والے بچے بھیک مانگتے ہیں۔

ان چھوٹے سر والے بچوں کے تعاقب میں بھکاری مافیا لگا رہتا ہے۔ اس کے کارندے نشاندہی ہونے پر یا تو اغوا کر لیتے
34/ ہیں یا پھر غریب والدین سے خرید لیتے ہیں۔ لڑکا پچاس ہزار تک اور لڑکی ایک لاکھ تک فروخت ہوجاتی ہے۔ پھر ان سے بھیک منگوا کر ان کا ساری عمر استحصال کیا جاتا ہے۔

یہ بچے بھکاری مافیا کے لیے سونے کے چڑیوں کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ عام لوگ ان چوہوں کی ناراضگی مول نہیں لیتے اور
35/ ان کو ضرور کچھ نہ کچھ دیتے ہیں اور ظاہر یہ رقم یا نذرانے ان بچوں نے خود استعمال نہیں کرنے ہوتے بلکہ ان کے ٹھیکیدار یہ سب کچھ لے لیتے ہیں۔

ان کے علاوہ اس مافیا کی چالاک کارندوں کی باتوں میں آ کر بعض ناسمجھ اور انتہائی غریب والدین جن سے ویسےہی عام اور تندرست بچوں کی پرورش
36/ ممکن نہیں ہوتی تو وہ ایسے بچوں کو مزار کے نام پر وقف کر دینے کے لئے ان افراد کو دے دیتے ہیں۔

ان بچوں کو یہ مافیا کرایہ پر بھی دیتا ہے۔ جو عموماً 30ہزار سے50ہزار روپے ماہانہ ہوتا ہے، جبکہ مختلف تہواروں کے موقع پر ان کا کرایہ بھی زیادہ لگایا جاتا ہے۔ یہ انسانیت سے گری ہوئی
37/ مافیا ان معصوم بچوں کا ساری عمر استحصال تو کرتی ہی ہے مگر یہ بات کتنی گھٹیا اور افسوس ناک کہ اس مافیا میں شامل جنسی درندے ان معصوم بچوں خصوصاً لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کا ارتکاب بھی کرتے ہیں.

1965ءسے قبل جب یہ دربار محکمہ اوقاف کی تحویل میں نہیں تھا، یہاں پر حضرت دولے شاہ
38/ کے زمانے کے بنائی ہوئی سرائے بھی موجود تھی کہ جہاں ایسے بے آسرا اور یتیم بچوں کی پرورش کی جاتی تھی مگر 1969ء میں محکمہ اوقاف نے اس دربار کو اپنی تحویل میں لے لیا اور چوہے بنانے کے کام کو قانونی طور پر بند کر دیا۔ اس کے باوجود یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ آپ کو ہر شہر اور ہر
39/ گائوں میں سبز چولا پہنے سخت گرمی اور شدید سردی میں ننگے پائوں، اس طرح کے متعدد بچے نظر آئینگے جو بھیک مانگ رہے ہونگے۔

میں ان بچوں کو چوہا نہیں لکھ سکتا کیونکہ یہ معذور فرشتے ہیں۔ ہمیں ان کو بحیثیت انسان قبول کرنا چاہیے۔ لیکن شائد ہم اتنا بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ہم انکو چند
40/ روپے خیرات دے کر اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں۔ ہمارا رویہ کسی طور پر بھی مہذب نہیں ہے۔ اگر ان معصوم اور مجبور بچوں کی نظر سے دیکھا جائے تو دولے شاہ کے چوہے وہ نہیں بلکہ ہم ہیں، اصل میں ہمارے سر چھوٹے ہو چکے ہیں مگر ہمارے چھوٹے سر نظر نہیں آتے، یہ صرف محسوس کیے جا سکتے ہیں،
41/ اور یہ معذور فرشتے شائد ہمارے چھوٹے سر دیکھ کر ہر وقت ہنستے رہتے ہیں۔
#پیرکامل
#تعمیرکردار
#قلمکار
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Keep Current with 💎 پـیــــــKamilــــــر™

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!