نومبر، دسمبر میں کراچی، لاہور، پشاورمیں بھارتی دہشت گردی کا خطرہ ہے:
حالیہ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخاراور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت کا بیانیہ اور ثبوت و شواہد اورمہزب دنیا کی بے حسی اور ہمارے مفاد پرست سیاست دان⬇️
امریکی جریدے فارن پالیسی نے ہمارے ہمسائے، ازلی دشمن اور ہماری طرف سے تصدیق شدہ دہشت گرد بھارت کی فسادی اور دہشتگرد پالسیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ "فارن پالیسی" دہشت گردی میں بھارت کو سرفہرست رکھتے ہوئے بھارت اور داعش کے باہمی روابط کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ میگزین نے بھارت کی⬇️
انتہا پسند پالیسی کو تباہ کنخطرہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند پالیسی کا نوٹس نہ لیا گیا تو تباہ کن اثرات سامنے آئیں گے۔ بھارتی دہشت گردی کی کارروائیاں تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔امریکی جریدکے مطابق مختلف ممالک میں بھارتی سرپرستی میں دہشتگردوں کے
حملوں کی نئی لہر خطرناک ہے۔جلال آباد جیل پر داعش کے حملے کی وجہ سے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بھارت کی شدت پسند پالیسی میں سب سے بڑا خطرہ بھارت اور داعش کا اتحاد ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے گذشتہ برس میں سری لنکا میں ایسٹر پر بم دھماکے، دو ہزار سترہ میں ترکی میں کلب، نیویارک⬇️
اور اسٹاک ہوم میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بھی داعش بھارت گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان ایک عرصے سے بھارتی دہشت گردی کا شکار ہے۔ کلبھوشن جادیو کی گرفتاری اس کا بڑا ثبوت ہے۔ دو ہزار نو میں سری لنکن ٹیم پر دہشتگردوں کا حملہ بھارتی سرپرستی میں ہوا تھا یہ پاکستان کے دل پر⬇️
اس دوران بھارت نے ہر جگہ مداخلت جاری رکھی اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلۓ ہر طرف سے حملے جاری رکھے۔ پاکستان میں علیحدگی پسندوں کی تحاریک کے پیچھے بھارتی ہاتھ ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں موجود نیٹ ورکس کے دہشت گرد بھارت کے ساتھ رابطے کے شواہد موجود ہیں۔ داعش اور بھارت کے⬇️
گٹھ جوڑ کو توڑنا اور حملہ تھا دس برس بعد ہم اس دہشت کے خوف سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں،ان دونوں کو نہ روکا گیا تو یہ اتحاد علاقائی اور بین الاقوامی امن کو تباہ کر دیگا۔ جریدے کے مطابق کشمیر میں بھی یہی عناصر جارحانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،ویسے امریکی جریدے نے وہی باتیں دہرائی⬇️
ہیں جوپاکستان ایک عرصے سے مہذب انداز میں دنیا کے سامنے بیان کر رہا ہے۔ البتہ داعش کے ساتھ بھارتی اتحاد دنیا کے لیے حیران کن ضرور ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کی دہشت گرد کارروائیوں کو ثبوتوں کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ اب چونکہ یہ باتیں امریکی جریدے کی طرف سے سامنے آئی ہیں⬇️
اس لیے دنیا کا ردعمل ذرا مختلف ہو سکتا ہے بھارت روایتی انداز میں اسے پاکستان کے ساتھ جوڑنے اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرے گا لیکن کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ بھارت کا چہرہ بے گناہوں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔
ویسے تو دنیا جانتی ہے کہ بھارت موجودہ دور کا سب سے⬇️
بڑا دہشگرد ہے جو براہ راست دہشتگردی سے باز نہ آتا ہو اور اسکے لیے دیگر راستوں کا استعمال کیسے نہیں کرے گا۔ بھارت کی کشمیر میں براہ راست دہشتگردی دہائیوں سے جاری ہے۔گذشتہ برس پانچ اگست کو اسی لاکھ کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے،دنیا کی تاریخ کا بدترین کرفیو اور لاک ڈاؤن
پانچ اگست دوہزار انیس سے جاری ہے۔ رابطوں کے ذرائع بند ہیں، میڈیا پر پابندیاں ہیں، کشمیر کی آئینی حیثیت کو بدل کر کشمیریوں سے طاقت کے زور پر انکا حق چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے، آزادی پسندوں کو شہید کیا جا رہا ہے، آزادی اظہار پر پابندیاں ہیں۔ سفر کی سہولیات میسر نہیں ہیں، سیاسی⬇️
قیادت کو قید کر دیا گیا ہے۔ یہ دہشت گردی دنیا دہائیوں سے دیکھ رہی ہے لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ بے بس ہے، یورپی یونین اور دیگر تمام عالمی تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہیہیں۔ عالمی تنظیموں کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں غیر مسلم طاقت میں ہیں⬇️
ان کا قبضہ ہے لیکن کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر مسلم امہ کی بے حسی سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس مسئلے پر ترکی اور ملائشیا کی طرف سے مذمت کی جاتی ہے ان کے علاوہ شاید ہی کسی مسلم ملک نے بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلندکی ہو۔ صرف پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے⬇️
خلاف آواز بلند کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کے لیے اقدامات کرتا ہے۔ پاکستان آج بھی کشمیریوں کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دینے کا حامی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی اعلانیہ حمایت کرتا ہے۔ افواجِ پاکستانکی کشمیر کے ساتھ محبت، لگاؤ اور جذباتی وابستگی⬇️
غیر مشروط ہے افواجِ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر خون کی طرح ہماری رگوں میں دوڑتا ہے،لائن آف کنٹرول پر بھارتی کارروائیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ہزاروں نہتے، بے گناہ اور معصوم پاکستانی اب تک بھارتی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان کارروائیوں کےباوجود پاکستان نے امن پسند ملک کا ثبوت⬇️
دیتے ہوئے حقائق دنیا کے سامنے رکھے لیکن بڑی مارکیٹ اور مالی مفادات کے پیش نظر دنیا نے مصلحتاً خاموشی اختیار کی ہے حتیٰ کہ مسلم ممالک نے بھی بھارت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر آواز بلند کرنے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے۔ بھارتی جارحیت سے دنیا کوخطرہ ہے اور یہ خطرہ ہر⬇️
گذرتے دن کے ساتھ بڑھتا رہیگا کیونکہ بھارت پر انتہا پسند جماعت بے جی پی کی حکومت ہے وہ ہر طرف ہندوؤں کو دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ وہ ہندوتوا کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں۔ نریندرا مودی کی موجودگی میں بھارت سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی ناقص⬇️
معاشی پالیسیوں اور ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسانے پر آج کے مسائل عوام کے سامنے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں جماعتوں کی باریوں نے ناصرف ملک کو معاشی طور پر کمزور کیا ہے بلکہ قرضوں کے پہاڑوں نے ملک کی بنیادوں کو کمزور کردیا ہے آج ہم یہ بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہیں⬇️
عالمی بینک کے مطابق آئندہ برس پاکستان کو بیرونی قرضے ادا کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے قابل بھی نہ رہا تو کیا ہو گا آج بڑھ بڑھ کر تقریریں کرنے والے ماضی کے حکمران یہ سچ بھی عوام کے سامنے رکھیں۔حکمران امیر ہوتے رہے اور ملک غریب ہوتا رہا،⬇️
ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسایا گیا۔ ریاستی اداروں کو تباہ کر کے بیرونی دوستوں کو خوش کیا گیا، برآمدات کے بجائے درآمدات کو بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی گئی، اپنے بہترین دماغوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت پچھلی صفوں میں دھکیلا گیا تاکہ وہ ملک کی خدمت⬇️
نہ کر سکیں اور ہم ہر شعبے میں غیروں کے محتاج بنے رہیں۔ آج ہر طرف تباہی ہے تو اس کی وجہ ماضی کے حکمرانوں کی ملک دشمن پالیسیاں ہیں۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے اس معاشی مرکز کا جو حال جمہوریت کی خودساختہ قومی چیمپیئن پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا ہے وہ حالیہ بارشوں میں⬇️
سب نے دیکھ لیا ہے۔ شہر میں کوئی ایک شعبہ بھی بہتر انداز میں کام کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ پانی دستیاب نہیں، صفائی کا کوئی انتظام نہیں، شہر کچرے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے، تجاوزات کی بھرمار ہے۔ایک عرصہ تک شہر پر خوف کے سائے رہے، شہر دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا۔ بم دھماکوں اور گولیوں⬇️
کی تڑتڑاہٹ نے کراچی کی روشنیوں کو گل کر دیا لیکن حکمران سوئے رہے اس تباہی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں آج جمہوریت کے لیے تقریریں کرنے والے ہیں۔ ن لیگ اور مولانا کا بھی یہی حال ہے۔ میاں نواز شریف ان کے بھائی ان کا سارا خاندان کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے فائلیں بھری ہوئی ہیں۔⬇️
کرپشن پکڑے جانے پر عوام و ملک کی خدمت کا جذبہ بیدار ہوگیا ہے!
اب غیر ملک سے ہماری پاک دفاعی افواج کے خلاف بیانیہ دے کر بدنام کیا جارہا ہے
پاکستانی قوم کو چاہیئے کہ وہ اپنی صفوں میں صبر و اتحاد قائم رکھیں اور ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے عزائم خاک میں ملادیں محمد اکرم🔄

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Anwar Ahmad Khan

Anwar Ahmad Khan Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @AAK1958

14 Nov
ایک سبق آموز واقعہ
چیونٹی کی سزا
ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو ایک ٹڈی کے پَر کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر نہیں لے جا سکی، کئی بار کوشش کرنے کے بعد اپنے کیمپ (بل) کی طرف دوڑی تھوڑی ہی دیر میں وہاں⬇️
سے چیوٹیوں کی ایک فوج لے کر نمودار ہوئی اور انکو لے کر اس جگہ آگئی جہاں پَر ملا تھا، گویا وہ ان کو لے کر پر لے جانا چاہتی تھی. چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پر اٹھا لیا تو ان سب نے وہاں اس پر کو تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے۔مگر ایک چیونٹی وہیں رہی⬇️
اور ڈھونڈنے لگی جو شاید وہی چیونٹی تھی۔ اس دوران
ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ لیا جبکہ اس چیوونٹی کو دوبارہ وہی پر مل گیا تو وہ ایک بار پھر دوڑ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی اور پہلے کے مقابلے میں کچھ کم چیونٹوں کو لے کر آئی گویا زیادہ تر نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔⬇️
Read 10 tweets
13 Nov
جب کیوبا کے صدر کاسترو سے 1960 میں امریکی انتخابات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نکسن یا کینیڈی کو کس سے ترجیح دیں گے؟ اس نے جواب دیا: دو جوتوں کے درمیان موازنہ کرنا ممکن نہیں ہے جو ایک ہی شخص پہنتا ہے۔ امریکہ میں صرف ایک ہی جماعت کی حکومت ہے ، جو صیہونی جماعت ہے،
اور اس کے دو ونگ ہیں:
ریپبلکن ونگ سخت صہیونی طاقت کی نمائندگی کرتا ہے،
اور
ڈیموکریٹک ونگ صہیونی نرم طاقت کی نمائندگی کرتا ہے. اہداف اور حکمت عملیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جہاں تک ان صدور کو ذرائع اور مواقع دینے کی بات ہے تو، وہ ہر صدر کو ایک معمولی فرق کیے ساتھ خاص قسم کی
رازداری اور نقل و حرکت کے لئے مختلف اجازت دیتے ہیں۔
ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں کہ امریکہ میں بیڈن جیتے یا ٹرمپ ہارے، ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنی اجاری داری قائم رکھنے اور اپنے مفاد کو ہر حال اور ہر دور میں مقدم رکھتا ہے۔ ہمارا ملک کے خلاف ماضی میں امریکہ
Read 11 tweets
11 Nov
#مارخورز
پاک فوج کو خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک ادنی سی کاوش

یہ جو ہم اپنے گھروں میں سکون سے سوتے ہیں
اسکے پیچھے یہ فوجی جوان ہی ہوتے ہیں

پاک فوج، یہ نام سنتے ہی ہر محب وطن کے دل میں عزت و محبت کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بنا کسی دنیاوی مفاد کے ہمارے دفاع کی خاطر جسم⬇️
کو جھلسا دینے والی گرمی اور لہو کو جما دینے والی سردی میں اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنے فرض کی اداٸیگی میں ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ملک کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر ان کے دلوں میں رچی بسی ہوتی ہے۔ نہ ہی اپنوں سے الفت اور نہ ہی زندگی کی چاہت ان کو اپنے مقصد سے⬇️
Read 36 tweets
11 Nov
دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا" "dog" ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی جاتا ہے، لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔😂 Image
"وضاحت" اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتا بن گیا۔ پرانے وقتوں میں کپڑے گھاٹ پر دھوئے جاتے تھے اور کپڑوں کو صاف کرنے کیلئے دھوبی اک بھاری بھرکم ڈنڈے کا استعمال کیا کرتا تھا، جس کو کتکہ کہا جاتا تھا۔ وہ کتکہ گھاٹ پر نہیں رکھا جاتا تھا کیوں کہ کوئی اور اٹھا لے گا😂😂
اور گھر لانے میں بے جا مشقت کرنی پڑتی ۔ اسلئے دھوبی وہ کتکہ راستے میں مناسب جگہ چھپا دیتا اور اگلے دن نکال کر پھر استعمال کر لیتا۔ اس طرح کتکہ نہ گھر جا پاتا اور نہ گھاٹ پر رات گزارتا۔ دھوبی کا کتکہ ۔ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ جو نئے دور میں بگڑ کر کتا بن گیا۔😂😂😂
Read 4 tweets
7 Nov
موت کی دستک

موت ہر آدمی کے گهر دستک دیتی ہے، کبهی ایسا ہوتا ہے کہ موت پہلی دستک کے بعد ہی گهر میں داخل ہو جاتی ہے اور آدمی کی روح کو قبض کر لیتی ہے. وه اچانک دنیا کے امتحان گاه سے نکال کر آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں وه اپنے اعمال کا انجام پائے.⬇️
اچانک موت کا یہ معاملہ مختلف صورتوں میں پیش آتا ہے. مثلا دل کا تیز دوره پڑا اور فوری طور پر آدمی کی موت واقع ہو گئی. سڑک پر سخت حادثہ پیش آیا اور ایک لمحہ کے اندر زنده انسان مرده انسان میں تبدیل ہو گیا- کبهی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان صحت کی حالت میں رات کو سویا اور صبح ہوئی⬇️
تو بستر پر صرف اس کی بے جان لاش پڑی هوئی تهی. اچانک موت بلاشبہ بے حد سنگین موت ہے. کیونکہ آدمی کو اس میں یہ موقع نہیں ملتا کہ وه موت سے پہلے اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکے.
دوسری صورت وه ہے جب کہ موت بار بار ایک آدمی کے گهر دستک دیتی ہے لیکن اندر داخل هونے سے پہلے ہی⬇️
Read 6 tweets
7 Nov
سابق امریکی نائب صدر مسٹر بائیڈن نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ دو سال قبل جب اس کے جواں سال بیٹے کو کینسر کے مرض نے گھیر لیا تو وہ اس کے علاج کیلئے پیسے پیسے کا محتاج ہوگیا۔ اس مقصد کیلئے اس نے اپنا واحد اثاثہ جو کہ 4 ہزار سکوائر فٹ گھر تھا،⬇️
اونے پونے داموں بیچنے کا فیصلہ کرلیا۔ قرض وہ اس لئے نہ لے سکا کیونکہ ایک تو اس کی شرائط بہت سخت تھیں، دوسرا اس کی تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنی مدت ملازمت کے بعد بھی قرض کی قسطیں ادا کرسکتا۔
گھر کا سودا تقریباً ہو چکا تھا کہ صدر ابامہ کو کسی طرح پتہ چل گیا اور اس نے اپنے ذاتی⬇️
بنک اکاؤنٹ سے جو بائیڈن کی مدد کرکے اس کا گھر بیچنے سے بچا لیا۔ جنوری 2015 میں لیکن بائیڈن کا بیٹا کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ نہ کرسکا اور دنیا سے چلا گیا۔ اوباما کی الوداعی تقریب کے دوران یہ انکشاف کرتے ہوئے جو بائیڈن آبدیدہ ہو گئے تھے⬇️
Read 11 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!