"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
و سلام پڑھنے لگ جاتے ہیں
یزید کے دربار میں سیدہ زینب کا خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے
شیر خدا کی بیٹی کے الفاظ یزید کی تقدیر بن گئے
اس بد بخت کی نسل تک مٹ گئی
سیدہ نے فرمایا:
"اے یزيد اگر چہ حادثات زمانہ نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور مجھے قیدی بنایا گیا ہے لیکن جان لے میرے🔻
نزدیک تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم، خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اس کے سوا کسی اور سے گلہ و شکوہ بھی نہیں کروں گی
اے یزید مکر و حیلے کے ذریعہ تو ہم لوگوں سے جتنی دشمنی کر سکتا ہے کر لے۔ ہم اہل بیت پیغمبر (ص) سے دشمنی کے لیے تو جتنی بھی سازشیں کر سکتا ہے کر لے لیکن خدا🔻
کی قسم تو ہمارے نام کو لوگوں کے دل و ذہن اور تاریخ سے نہیں مٹا سکتا اور چراغ وحی کو نہیں بجھا سکتا تو ہماری حیات اور ہمارے افتخارات کو نہیں مٹا سکتا اور اسی طرح تو اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو بھی نہیں دھوسکتا، خدا کی نفرین و لعنت ہو ظالموں اور ستمگروں پر"
یزید 🔻
کے دربار میں دئیے گئے اس خطبے کی گونج چار دانگ پھیل گئی
اور یزید کا اقتدار محض تین سال کے عرصے میں ختم ہو گیا
وہ اقتدار جسے یزید کو دلوانے کیلئے یزید کے باپ نے چار سال مسلسل مہم چلائی
تمام تر اسلامی اصولوں کو پامال کیا
وہ ختم ہو گیا
اور یزید جہنم واصل ہوا 🔻
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پانچ ہجری کو مدینہ شریف میں پیدا ہوئیں
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ان کی عمر سات سال تھی
انہیں بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت و شفقت بہت زیادہ ملی
ان کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوئی
ان کے پانچ بچے تھے
جن میں🔻
سے حضرت عون و محمد کربلا میں شہید ہوئے دیگر تین بچوں میں حضرت عبداللہ،عباس اور ام کلثوم ہیں
حسنین کریمین اپنی ہمشیرہ سے والہانہ محبت رکھتے تھے
خصوصاً سیدنا امام حسین علیہ السلام کو تو آپ سے حد درجہ انس تھا
کربلا کے سفر میں بھی وہ آپ کی ہمسفر تھیں
اور کربلا میں قیامت ٹوٹنے کے🔻
بعد باقی خاندان کو بھی انہوں نے ہی سنبھالا
بیمار زین العابدین کو سہارا دیا
ظالم یزیدیوں کا سامنا کیا
حتی کہ یزید کے دربار میں اس کے سامنے خطبہ دے کر تاریخ رقم کر دی
آپ کا وصال 62 ہجری کو دمشق میں ہی ہوا
وہیں پہ آپ کا شاندار روضہ مبارک موجود ہے
جو مخلوق خدا کیلئے اس کی ایک 🔻
بڑی نشانی ہے
ہر سال کروڑوں لوگ سیدہ کے روضے پر حاضر ہو کر اللہ کی رحمتیں اور برکات سمیٹتے ہیں
اور ان کے وسیلے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں
داعش کے خوارجی دہشت گردوں نے آپ کے روضے پر بمباری کی
جس کے بعد ان بدبختوں کی خلافت دنوں میں ختم ہو گئی
ابوبکر بغدادی سمیت تمام حملہ آور جہنم 🔻
واصل ہوئے
سیدہ کا روضہ دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ آب و تاب سے چمک رہا ہے
اہل بیت سے جس نے بھی دشمنی کی
اس کا یہی انجام ہوا ہے
داعش کا ان علاقوں سے نام و نشان مٹ گیا
سیدہ کا فیض جاری ہے!!
قارئین:
میرے لئے یہ تھریڈ لکھنا انتہائی مشکل تھا
آنکھیں ہیں کہ برسنے لگ جاتی ہیں
اہل بیت پہ🔻
ٹوٹے مظالم کا تصور ہی دل دہلا دیتا ہے
افسوس مگر اس پر بھی ہے کہ اہل بیت اطہار کے مقدس ناموں کو بھی فرقوں میں بانٹ لیا گیا ہے
وہ اہل بیت جو پوری انسانیت کا آسرا ہیں
جو اللہ کی رضا و رحمت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں
ان کے گرد فرقوں کے جال بن دئیے گئے
میری محترم بہنیں جو اس تھریڈ 🔻
کو پڑھ رہی ہیں
آپ سب کیلئے سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی جرآت بہادری اور کردار مشعل راہ ہے
ان سے بڑھ کر اٹھارہ ہزار عالمین میں کوئی معزز نہیں
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی اِبراھیم وعلی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید #ولادت_سیدہ_زینب_سلام_اللہ_علیہا_مبارک
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻
2004 میں سوات میں طالبان داخل ہوئے اور 2007 تک پورے سوات پر قبضہ کر لیا
اپنی خود ساختہ شریعت نافذ کرنے کے بعد قتل و غارتگری کا وہ بازار گرم کیا الامان الحفیظ !
وحشی درندوں کے مسلح جتھے گلیوں میں گشت کرتے اور معمولی مزاحمت پر ذبح کر ڈالتے
خوف و ہراس پھیلانے کیلئے لاشیں ایک چوک ⬇️
میں لا کر ڈال دیتے اور اوپر پرچی لکھ کر رکھ دیتے کہ کوئی اسے دفنائے گا نہیں !
ان "اسلامی مجاہدین" کو جس گھر کی جو لڑکی پسند آ جاتی اسے نکاح کی دعوت دیتے
اور انکار پہ اجتماعی آبرو ریزی کر ڈالتے
2004 سے 2009 تک دس ہزار سے زیادہ لوگ بیہمانہ طریقے سے قتل کر دئیے گئے
اور ایک ہزار⬇️
سے زیادہ لڑکیوں کو جبری طور پر بیویاں بنا لیا گیا
2009 میں آپریشن راہ نجات شروع ہونے تک سوات کے لوگ نا جانے کتنی ہی کربلاؤں سے گزر چکے تھے
کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں لاش نہ آئی ہو
ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر گئے
لگتا یوں تھا کہ کچھ دنوں تک طالبان اسلام آباد پہ قبضہ⬇️
"ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وکدے"
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایک منفرد اور عجیب و غریب ملک ہے
اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں چاروں موسم ،صحرا،پہاڑ،جنگل ،دریا،میدان،سمندر اور سطع مرتفع سب موجود ہے
پاکستان کے زمینی بارڈرز کی کل لمبائی 7307 کلومیٹرز ہے
جبکہ 1000⬇️
کلومیٹر سمندری ساحل الگ ہے
ہمارا سب سے لمبا بارڈر انڈیا کے ساتھ جو کہ 3320 کلومیٹرز ہے
افغانستان کے ساتھ2670 ،چائنہ کے ساتھ 559 جبکہ ایران کے ساتھ 958 کلومیٹرز ہے
ان میں سے سوائے چائنہ بارڈر کے باقی تمام بارڈرز غیر محفوظ ہیں
سب سے خطرناک افغان بارڈر
دوسرے نمبر پہ انڈیا اور ⬇️
تیسرے نمبر پہ ایران ہے
پاکستانی فورسز کی کل تعداد کچھ یوں ہے
آرمی : 11 لاکھ
بحریہ : 40000
آئر فورس: 78000
پیرا ملٹری فورس: 4,82000
11 لاکھ آرمی میں سے آدھی یعنی ساڑھے پانچ لاکھ مکمل فعال ہے
جبکہ باقی آدھی چھاؤنیوں میں موجود ریزور فورس ہے
یاد رہے اس ساڑھے پانچ لاکھ میں سے تین ⬇️
وہ پہلی گاہک تھی
سیاہ برقعے میں ملبوس وہ اکیلی ہی دکان میں داخل ہوئی
سیلز مین سے کچھ سوٹ دکھانے کو کہا
دو سوٹ منتخب کئے
اور ٹرائی روم میں چلی گئی
باہر آئی تو ایک سوٹ واپس کر دیا
سیلز مین نے کہا باجی آپ دو سوٹ لے کر گئی تھیں
اس نے کہا نہیں میں تو ایک ہی لے گئی ہوں
جھگڑا ہو گیا ⬇️
دائیں بائیں کے دکان دار اکٹھے ہو گئے
سیلز مین اپنی بات پہ قائم تھا
اور لڑکی اپنی بات پہ اڑی تھی
آخر ایک سینئر دکاندار نے ایک عورت کو بلا کر خاتون کی تلاشی لینے کو کہا
تلاشی میں بھی کچھ برآمد نہیں ہوا
سیلز مین بیچارا پریشان تھا
گیارہ ہزار کا سوٹ تھا
جو اس نے اپنے ہاتھوں سے دیا ⬇️
تھا۔ اب سوٹ بھی غائب تھا
اور سب اس کی بے عزتی بھی کر رہے تھے کہ اس نے ایک شریف لڑکی پر جھوٹا الزام لگایا
سب اسے سنا کر چلے گئے
لڑکی کو بھی روانہ کر دیا گیا
سیلز مین کو مگر کوئی بات کھٹک رہی تھی
اس کی نوکری جا سکتی تھی
مزید بے عزتی الگ سے ہوتی
اور وہی ہوا
دکان کے مالک نے شدید ⬇️
ہمت مرداں مدد خدا :
یہ دو الگ الگ کہانیاں ہیں
ایک کہانی سعد کی ہے، دوسری سعید کی
یہ دونوں سگے بھائی ہیں
سعد بڑا ہے
یہ پڑھنے میں بہت تیز تھا
پہلی جماعت سے ماسٹرز تک امتیازی نمبروں سے پاس ہوتا رہا
یہ والدین اور اساتذہ دونوں کی آنکھوں کا تارا تھا
خاندان بھر میں اس کی قابلیت کی ⬇️
مثالیں دی جاتیں اور فخر کیا جاتا
سعد اپنے خاندان میں یو ای ٹی میں اسکالر شپ پہ داخلہ لینے والا پہلا لڑکا تھا
اس نے ٹیکسلا سے الیکٹریکل انجینیرنگ مکمل کی
یہاں بھی اس نے اپنا امتیاز برقرار رکھا
اس کے انجنئیر بننے پر بہت خوشیاں منائی گئیں
والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ⬇️
سعد نے گھر واپس آتے ہی نوکری کی تلاش شروع کر دی
مختلف کمپنیوں میں اپنی سی وی ڈراپ کی
کئی جگہ انٹرویوز دئیے
مگر قسمت کا کوئی عجیب سا چکر تھا
کہ اسے کہیں نوکری نہیں ملی
پانچ سال ہو گئے تھے
سعد گھر بیٹھا تھا
سینکڑوں درخواستیں پوسٹ کر چکا ہے
اب ڈپریشن کا مریض بنتا جا رہا ہے
صحت بھی⬇️