"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
وہ طوفان بدتمیزی مچایا کہ الامان الحفیظ !
اب یزید کا سب سے بڑا خواب حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عبداللہ بن زبیر سے بیعت حاصل کرنا تھا
امام حسین علیہ السلام اگر یزید کی بیعت کر لیتے تو اسلام کا نام بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتا
اور اسلام کی بقا کی خاطر
حسین نے انکار کر دیا🔻
یہ انکار محض انکار نہیں تھا
اس کے بہت سے خوفناک شاخسانے تھے
یزید مضبوط ترین ریاست کا اکلوتا مگر ظالم حکمران تھا
اس کی بیعت سے انکار کا مطلب ہی موت کو گلے لگانا تھا
اس کے بعد کی جو تاریخ ہے
وہ ہر کسی کو معلوم ہے
آج اسلام اگر قائم ہے
تو یہ حسین علیہ السلام کا صدقہ ہے
ورنہ تو 🔻
یزید نے کعبتہ اللہ کو بھی آگ لگوا دی تھی
مسجد نبوی کو اصطبل بنا دیا تھا
امام حسین علیہ السلام کی قربانی تھی جس نے اسلام کو نئی زندگی دی
مسلمانوں میں نئی روح پھونکی
یزید کے ڈر سے خاموش زبانیں حسین کی شہادت کے بعد بول اٹھیں
شہادت حسین کے بعد یزید کو ایک دن بھی چین کا نصیب نا ہوا🔻
وہ ایک جانور سے بد تر زندگی جیا اور بیماری کی حالت میں عبرتناک موت مرا
جو حسین کی نسل مٹانا چاہتا تھا
اس کی اپنی نسل مٹ گئی
آج دنیا بھر میں لاکھوں حسینی سادات موجود ہیں
مگر یزید کی بدبخت نسل کا نشان باقی نہیں
ہاں یزید کے پیروکاروں کی کچھ اولادیں ضرور زندہ ہیں
جو ہمارے ہاں بھی🔻
پائی جاتی ہیں
یہ بھی مگر ویسے ہی نامراد رہیں گے
جیسے یزید رہا تھا
حسین ہمیشہ زندہ تھا ہمیشہ زندہ رہے گا
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین
دین است حسین، دین پناہ است حسین
سر داد، نداد دست درِ دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین #ؑولادت_سردارِ_جنت_حسین #ولادت_امام_حسین
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻
2004 میں سوات میں طالبان داخل ہوئے اور 2007 تک پورے سوات پر قبضہ کر لیا
اپنی خود ساختہ شریعت نافذ کرنے کے بعد قتل و غارتگری کا وہ بازار گرم کیا الامان الحفیظ !
وحشی درندوں کے مسلح جتھے گلیوں میں گشت کرتے اور معمولی مزاحمت پر ذبح کر ڈالتے
خوف و ہراس پھیلانے کیلئے لاشیں ایک چوک ⬇️
میں لا کر ڈال دیتے اور اوپر پرچی لکھ کر رکھ دیتے کہ کوئی اسے دفنائے گا نہیں !
ان "اسلامی مجاہدین" کو جس گھر کی جو لڑکی پسند آ جاتی اسے نکاح کی دعوت دیتے
اور انکار پہ اجتماعی آبرو ریزی کر ڈالتے
2004 سے 2009 تک دس ہزار سے زیادہ لوگ بیہمانہ طریقے سے قتل کر دئیے گئے
اور ایک ہزار⬇️
سے زیادہ لڑکیوں کو جبری طور پر بیویاں بنا لیا گیا
2009 میں آپریشن راہ نجات شروع ہونے تک سوات کے لوگ نا جانے کتنی ہی کربلاؤں سے گزر چکے تھے
کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں لاش نہ آئی ہو
ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر گئے
لگتا یوں تھا کہ کچھ دنوں تک طالبان اسلام آباد پہ قبضہ⬇️
"ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وکدے"
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایک منفرد اور عجیب و غریب ملک ہے
اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں چاروں موسم ،صحرا،پہاڑ،جنگل ،دریا،میدان،سمندر اور سطع مرتفع سب موجود ہے
پاکستان کے زمینی بارڈرز کی کل لمبائی 7307 کلومیٹرز ہے
جبکہ 1000⬇️
کلومیٹر سمندری ساحل الگ ہے
ہمارا سب سے لمبا بارڈر انڈیا کے ساتھ جو کہ 3320 کلومیٹرز ہے
افغانستان کے ساتھ2670 ،چائنہ کے ساتھ 559 جبکہ ایران کے ساتھ 958 کلومیٹرز ہے
ان میں سے سوائے چائنہ بارڈر کے باقی تمام بارڈرز غیر محفوظ ہیں
سب سے خطرناک افغان بارڈر
دوسرے نمبر پہ انڈیا اور ⬇️
تیسرے نمبر پہ ایران ہے
پاکستانی فورسز کی کل تعداد کچھ یوں ہے
آرمی : 11 لاکھ
بحریہ : 40000
آئر فورس: 78000
پیرا ملٹری فورس: 4,82000
11 لاکھ آرمی میں سے آدھی یعنی ساڑھے پانچ لاکھ مکمل فعال ہے
جبکہ باقی آدھی چھاؤنیوں میں موجود ریزور فورس ہے
یاد رہے اس ساڑھے پانچ لاکھ میں سے تین ⬇️
وہ پہلی گاہک تھی
سیاہ برقعے میں ملبوس وہ اکیلی ہی دکان میں داخل ہوئی
سیلز مین سے کچھ سوٹ دکھانے کو کہا
دو سوٹ منتخب کئے
اور ٹرائی روم میں چلی گئی
باہر آئی تو ایک سوٹ واپس کر دیا
سیلز مین نے کہا باجی آپ دو سوٹ لے کر گئی تھیں
اس نے کہا نہیں میں تو ایک ہی لے گئی ہوں
جھگڑا ہو گیا ⬇️
دائیں بائیں کے دکان دار اکٹھے ہو گئے
سیلز مین اپنی بات پہ قائم تھا
اور لڑکی اپنی بات پہ اڑی تھی
آخر ایک سینئر دکاندار نے ایک عورت کو بلا کر خاتون کی تلاشی لینے کو کہا
تلاشی میں بھی کچھ برآمد نہیں ہوا
سیلز مین بیچارا پریشان تھا
گیارہ ہزار کا سوٹ تھا
جو اس نے اپنے ہاتھوں سے دیا ⬇️
تھا۔ اب سوٹ بھی غائب تھا
اور سب اس کی بے عزتی بھی کر رہے تھے کہ اس نے ایک شریف لڑکی پر جھوٹا الزام لگایا
سب اسے سنا کر چلے گئے
لڑکی کو بھی روانہ کر دیا گیا
سیلز مین کو مگر کوئی بات کھٹک رہی تھی
اس کی نوکری جا سکتی تھی
مزید بے عزتی الگ سے ہوتی
اور وہی ہوا
دکان کے مالک نے شدید ⬇️
ہمت مرداں مدد خدا :
یہ دو الگ الگ کہانیاں ہیں
ایک کہانی سعد کی ہے، دوسری سعید کی
یہ دونوں سگے بھائی ہیں
سعد بڑا ہے
یہ پڑھنے میں بہت تیز تھا
پہلی جماعت سے ماسٹرز تک امتیازی نمبروں سے پاس ہوتا رہا
یہ والدین اور اساتذہ دونوں کی آنکھوں کا تارا تھا
خاندان بھر میں اس کی قابلیت کی ⬇️
مثالیں دی جاتیں اور فخر کیا جاتا
سعد اپنے خاندان میں یو ای ٹی میں اسکالر شپ پہ داخلہ لینے والا پہلا لڑکا تھا
اس نے ٹیکسلا سے الیکٹریکل انجینیرنگ مکمل کی
یہاں بھی اس نے اپنا امتیاز برقرار رکھا
اس کے انجنئیر بننے پر بہت خوشیاں منائی گئیں
والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ⬇️
سعد نے گھر واپس آتے ہی نوکری کی تلاش شروع کر دی
مختلف کمپنیوں میں اپنی سی وی ڈراپ کی
کئی جگہ انٹرویوز دئیے
مگر قسمت کا کوئی عجیب سا چکر تھا
کہ اسے کہیں نوکری نہیں ملی
پانچ سال ہو گئے تھے
سعد گھر بیٹھا تھا
سینکڑوں درخواستیں پوسٹ کر چکا ہے
اب ڈپریشن کا مریض بنتا جا رہا ہے
صحت بھی⬇️