"آلا ان اولیاء اللہ"
حدیث قدسی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے بغض رکھا، میرا اس سے اعلان جنگ ہے، کتب احادیث میں درج ہے کہ صحابہ کرام اس حدیث کو سن کر زار و قطار رویا کرتے تھے اور اللہ کے کسی ولی کی بے ادبی سے پناہ مانگتے🔻
تھے۔ دوسری حدیث میں مضمون کچھ یوں ہے کہ جب میرا نیک بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کر لیتا ہے
تو میں اس کی زبان بن جاتا ہوں،میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں،
اسی بات کو اقبال نے اپنے لفظوں میں کچھ یوں بیان کیا:
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی 🔻
ہیں تقدیریں
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفريں ، کارکشا ، کارساز
خاکی و نوری نہاد ، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نياز
اولیا کی کچھ صفات ہمیں قرآن سے بھی ملتی ہیں
جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
"میرے ولیوں کو کسی قسم کو خوف و ملال نہیں ہوتا"
دوسری 🔻
جگہ ہم سورہ نمل میں ملکہ بلقیس کے تخت لانے والے ولی اللہ کی طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں
جو یقیناً اللہ کے ہی فضل سے تھی
پھر سورہ کہف میں ہمیں خضر علیہ السلام کا ذکر ملتا ہے
کہ کیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے علم لدنی سیکھنے آتے ہیں
مگر نہیں سیکھ پاتے
اس سے پہلے کا مضمون پڑھیں 🔻
تو آپ جانیں گے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خود اللہ تعالیٰ سے اللہ کے کسی ولی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں
اللہ پھر انہیں نشانیاں بتا کر جناب خضر کے پاس بھیجتا ہے
تصوف کے بڑے اور مشہور چودہ سلاسل ہیں
ان تمام سلاسل کا تعلق اہل سنت سے ہے
اور ان تمام سلاسل میں ہزاروں 🔻
اولیا کرام گزرے ہیں
جن کی زندگیاں،کمالات،کرامات و دینی خدمات سب کے سامنے ہیں
تصوف کے ان تمام سلاسل کا آغاز مولا علی علیہ السلام سے ہوتا ہے
ہر صالح مومن جو ولایت کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے
وہ مولا علی علیہ السلام کا ہی فیض یافتہ ہوتا ہے
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مطابق روز آفرینش 🔻
یہی سلسلہ جاری ہے
تمام مکاتب فکر کے علماء کا اس پہ اجماع ہے
یاد رکھیں !
ولی اللہ ہونا ذاتی کوشش سے ہر گز ممکن نہیں ہے
یہ خالصتاً اللہ کا انعام ہے
جس پر چاہے کر دے
انعمت علیہم والوں میں شامل ہونے کی دعا سب مانگتے ہیں
یہ مرتبہ بالا مگر ملتا نصیبوں والوں کو ہی ہے
ہمارے سامنے 🔻
ہزاروں اولیا کرام کی سیرتیں موجود ہیں
جن کے ذریعے سے ہم عمومی اندازہ بھی لگا سکتے ہیں
کہ اولیا کیسے ہوتے ہیں ؟
پہلی بات تو یہ یاد رکھیں
کہ انبیا کے بعد اولیا کرام ہیں جنہیں اللہ منتخب کرتا ہے
یہ براہ راست اللہ کے قرب میں ہوتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ان سے بغض کو اللہ اپنے ساتھ جنگ 🔻
قرار دیتا ہے
دوسری اولیا کی پہچان یہ ہے کہ ان کے پاس جا کر روحانی سکون ملتا ہے
دل اطمینان پاتے ہیں
ان کا رعب دلوں پہ چھا جاتا ہے
یہ قرآن و سنت کی سخت پیروی کرنے والے ہوتے ہیں
ان کی باتیں مختصر مگر انتہائی پر اثر ہوتی ہیں
زندگی کے مشکل ترین فلسفے چند الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں 🔻
عاجزی و انکساری کا پیکر ہوتے ہیں
بہت زیادہ عبادت گزار ہوتے ہیں
مخلوق خدا سے بہت محبت رکھتے ہیں
ان کے آستانوں پہ چوبیس گھنٹے لنگر جاری رہتا ہے
دکھی مخلوق کو تسلی تشفی دیتے ہیں
بڑا بول نہیں بولتے
کوئی دعویٰ نہیں کرتے
ہر چیز کو اللہ سے منسوب کرتے ہیں
اہل بیت کی محبت میں روتے ہیں🔻
پنجتن پاک کے ساتھ ساتھ حق چار یار کے بھی برابر قائل ہوتے ہیں
اہل بیت کو مگر تمام جہانوں پہ فضیلت دیتے ہیں
دشمنان اہل بیت کا ذکر سننا بھی پسند نہیں کرتے
مولا علی علیہ السلام کا ذکر ان کی محفلوں میں عام ملتا ہے
بیمار ان کے پاس شفا پاتے ہیں
قرآن پہ ان کو عبور حاصل ہوتا ہے
بات 🔻
قرآن سے شروع اور قرآن پہ ہی ختم کرتے ہیں
ان کے دل اللہ کی یاد سے منور ہوتے ہیں
ہر وقت اسم ذات اللہ کا ورد دل میں جاری رہتا ہے
ان کے چہرے وجیہہ ہوتے ہیں
ہر اللہ کا ولی کسی نا کسی پیغمبر کی سنت پہ ہوتا ہے
صالح مومن سے لے کر غوث اور قلندر تک ان کے کئی مقامات ہوتے ہیں
جن پہ بیٹھ 🔻
کر یہ اللہ کی رضا کے مطابق کام کرتے ہیں
اب یہ مسلہ کہ جو ہر فرقے والے اپنے بڑے مولوی کو ولی کہہ دیتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟
میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے
کہ ہر مومن اللہ کا ولی ہو سکتا ہے
مگر چند علامات یاد رکھیں کہ جس میں یہ پائی جائیں وہ کبھی ولی اللہ نہیں ہو سکتا ہے 🔻
سب سے پہلے تو جو شخص اہل بیت اطہار کے دشمنوں سے محبت رکھتا ہو
یعنی معاویہ بن ابو سفیان کو امیر مانتا ہو یا یزید کے بارے میں نرم گوشہ رکھتا ہو وہ ہر گز ہر گز ولی اللہ نہیں ہو سکتا
چاہے پھر وہ مولوی الیاس ہو، خادم رضوی ہو یا اشرف جلالی یا اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے دوسرے مولوی 🔻
مجھے جتنا مرضی برا بھلا کہہ لیں
مگر حقیقت نہیں بدلے گی
اہل بیت کے دشمن کو اللہ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے
اور اللہ کا دشمن اللہ کا ولی ہو یہ ممکن نہیں ہے
دوسرا وہ شخص جو قرآن و سنت پہ عمل پیرا نا ہو
تیسرا وہ شخص جس سے مخلوق خدا تنگ ہو
جس کا رزق حرام ہو
جو کسی فرقے کا پیرو ہو 🔻
یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ اولیا کرام کسی فرقے سے تعلق نہیں رکھتے
وہ صرف اور صرف دین محمد پہ ہوتے ہیں
حدیث پاک ہے کہ لوگوں کو ان کے مقام کے مطابق مرتبہ دو
تو لہذا برادران اسلام !
ہر ایک کے بارے میں حسن ظن رکھیں
مگر سب میں ولایت مت بانٹتے پھریں
کہ یہ خاص اللہ کا حق ہے 🙏🙏
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"دین ملا فی سبیل اللہ فساد"
کوثر نیازی نے بھٹو سے کہا :
" آپ کی حکومت کیخلاف چلنے والی تحریک کو مذہبی رنگ دیا جانے والا ہے، آپ کو اسے روکنا چاہیے"
بھٹو طاقت اور مقبولیت کے نشے سے چور تھا
اس نے توجہ نہیں دی
اور پھر وہی ہوا
بھٹو کو ہٹانے کیلئے چلنے والی تحریک،" تحریک نظام مصطفیٰ"🔻
میں تبدیل ہو گئی
اور اس تحریک کو چلانے والے وہ ملا تھے جو جلسوں میں بھی ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے
اس تحریک کو لاشوں کی ضرورت تھی جو مسلم مسجد حملے نے پوری کر دی
اور پھر 5 جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا
اگلے گیارہ سال "مرد مومن مرد حق" ضیاء الحق نے 🔻
بھی اسلام کا نام ہی بیچا
روس کیخلاف پیڈ جہاد نے ملا کو شتر بے مہار بنا دیا
دھڑا دھڑ نئے مدارس کھل گئے
سعودیہ نے وہابیت کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا
اور مجاہدین سڑکوں پہ اسلحہ لہراتے عام نظر آنے لگے
افغانستان نے منشیات کا سیلاب آ گیا
ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر نے پورے پاکستانی 🔻
ہائی اسکول میں ہمارے ایک ہیڈ ماسٹر تھے
ان کی چار بیٹیاں تھیں
بیٹا کوئی نہیں تھا
ایک دن وہ صبح سکول آئے تو اسمبلی میں رونے لگے
اور کہا آج ایک بدمعاش نے سکول جاتی میری بیٹیوں کو ہراساں کیا
پولیس نے کاروائی نہیں کی
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
جو اسے روکتا
ہم نے اگلے آدھے گھنٹے میں 🔻
اس بدمعاش کو ڈھونڈ نکالا
اور علاقے کے ایک معروف چوک میں کھمبے کے ساتھ باندھ دیا
لڑکیوں کو چھٹی ہونے تک وہ وہیں بندھا رہا
چھٹی کے وقت ہر لڑکی اسے ایک تھپڑ مارتے ہوئے گزری
پولیس کو بلا لیا تھا
مگر گرفتار کرنے نہیں صرف تماشا دیکھنے کو
شام کو اسے بیہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا 🔻
اس کے بعد آج تک کسی بچی کو ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ ہمارے علاقے میں پیش نہیں آیا
یہ غنڈے آسمان سے نہیں ٹپکتے
ہمارے ہی ساتھ رہتے ہیں
ایک بار کچھ کرتے ہیں
تو ہم ڈر جاتے ہیں
جس سے ان کا حوصلہ بڑھتا ہے
جب ہم کہتے ہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں
تو مل کر حفاظت کیوں نہیں کرتے ؟🔻
"جذباتی مسلمانوں کیلئے"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے بھی مکہ کے ایک معزز ترین شخص تھے
ہاشمی ،قریشی نسب اور کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بے پناہ عزت حاصل تھی
بے داغ کردار، تجارتی سوجھ بوجھ اور خوش اخلاقی کی بدولت مقبولیت اس سے سوا تھی
اس سب کے 🔻
باوجود جب آپﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا، دین کی دعوت دی تو بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا
آپ پر پتھر بھی برسائے گئے
گالیاں بھی دی گئیں
طعنے،طنز اور معاشرتی بائیکاٹ بھی کیا گیا
آپﷺ کے مٹھی بھر ساتھی موجود تھے
مگر وہ آپﷺ کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تھے
یہ سلسلہ ایک آدھ دن نہیں 13 سال 🔻
تک چلا
کیا ان تیرہ سالوں میں کوئی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے کہ کسی مسلمان نے کسی کافر پہ حملہ کیا ہو ؟
جبکہ مسلمانوں میں مولا علی، حضرت عمر فاروق اور سیدنا امیر حمزہ جیسے بہادر موجود تھے
حضرت عثمان غنی جیسا رئیس بھی موجود تھا
پھر بھی لڑ کیوں نا سکے ؟
ہجرت کیوں کی ؟
وہ بھی چھپ 🔻
"آپ یقین نہیں کریں گے"
کہ تبلیغی جماعت دین اسلام کی نہیں بلکہ دیوبند فرقے کی تبلیغ کرتی ہے
چونک گئے نا ؟
مزید سنیں !
آپ یہ بھی نہیں مانیں گے کہ دعوت اسلامی صیہونی خواہش پر عالم اسلام میں ناصبیت پھیلا رہی ہے
اور اس جماعت کے اثاثے کھربوں تک پہنچ چکے ہیں
آگے بڑھیں !
آپ کیلئے یہ 🔻
ماننا بھی مشکل ہو گا کہ وہابی برانڈ آف اسلام آل یہود نے خود اپنی نگرانی میں تیار کروایا اور اسے اپنے خرچے پہ عالم اسلام میں پھیلایا
اسے محض الزام مت سمجھیں
پرنس سلمان اور ہیلری کلنٹن ،امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس کی باقاعدہ تائید اور تصدیق کر چکے ہیں
اور آپ اسے بھی تسلیم نہیں کریں🔻
گے کہ اہل تشیع کی کچھ جماعتیں اسلام سے زیادہ ایران کی وفادار ہیں
اور ان کا مقصد ایرانی پراکسی کو دنیا بھر میں جاری رکھنا ہے
اسی طرح گدی نشینوں کے حالات واقعات تو شاید آپ جانتے ہی ہوں گے
کہ کیسے اپنے بزرگوں کے نام بیچ بیچ کر کھا رہے ہیں ؟
جبکہ اسلام کے بنیادی اصول تک ان کو معلوم🔻
"73 کے بعد کے آئین کے مطابق"
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کام غیر اسلامی ہو گا
سود کو سرکاری سرپرستی حاصل رہے گی اور بینکاری نظام اسی بنیادوں پر چلایا جائے گا
عدالتیں انصاف کے علاؤہ سب کچھ کریں گی
افسر شاہی عوام سے اپنی خدمت کروائے گی اور عوام الناس کو ذلیل و خوار کرنا اس کا🔻
بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا
چھوٹے موٹے جرائم کرنے والوں کو ریاست عبرت کا نشانہ بنا دے گی
مگر بڑے ڈاکے ڈالنے والوں، اربوں کی چوریوں اور لوٹ مار کرنے والوں کو ریاست پروٹوکول دے گی
جو جتنا بڑا مجرم ہو گا
وہ اتنا ہی زیادہ معزز ٹھہرایا جائے گا
پولیس سیاستدانوں کی ذاتی خدمت پر مامور 🔻
رہے گی
پولیس افسران سیاست دانوں کے بچوں کی بھی غلامی کرتے رہیں گے
قومی زبان اردو صرف بولنے کی حد تک رہے گی
دفتری زبان انگریزی ہی رہے گی تاکہ انگریز آقاؤں سے وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے
انگریزی زبان اس لئے بھی لازم رہے گی تاکہ اس ملک کے عوام کو ان کی اصل اوقات میں رکھا جا سکے🔻
" یا غوثِ اعظم دستگیر"
سیدنا غوثِ اعظم پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی رحمۃ اللہ علیہ کو اولیا میں وہی مقام حاصل ہے
جو انبیاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے
لاکھوں اولیاء آپ کے مطیع ہیں
سلسلہ قادریہ خطہ عرب کا سب سے بڑا سلسلہ ہے
جس سے عرب کے ⬇️
علاوی برصغیر ، وسط ایشیاء اور افریقہ کے بھی کروڑوں لوگ منسلک ہیں
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ،شیخ شہاب الدین سہروردی ، شاہ کمال کیتھل ، سخی سلطان باہو جیسے ہزاروں جلیل القدر بزرگ اسی سلسلے کا حصہ ہیں
تمام سلاسل میں سب سے بڑا سلسلہ بھی سلسلہ قادریہ ہے
موجودہ عالم اسلام ⬇️
میں ہر جگہ قادری بزرگوں کے نشانات موجود ہیں
ان بزرگان نے دین اسلام اور انسانیت کی ایسی خدمت کی کہ جس کی مثال ملنا ممکن نہیں
سیدنا غوثِ اعظم جیلانی نجیب الطرفین سید زادے تھے
یعنی حسنی ،حسیںنی سید تھے
برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کے سب سے بڑے روحانی پیشوا خواجہ معین الدین چشتی ⬇️