"جذباتی مسلمانوں کیلئے"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے بھی مکہ کے ایک معزز ترین شخص تھے
ہاشمی ،قریشی نسب اور کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بے پناہ عزت حاصل تھی
بے داغ کردار، تجارتی سوجھ بوجھ اور خوش اخلاقی کی بدولت مقبولیت اس سے سوا تھی
اس سب کے 🔻
باوجود جب آپﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا، دین کی دعوت دی تو بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا
آپ پر پتھر بھی برسائے گئے
گالیاں بھی دی گئیں
طعنے،طنز اور معاشرتی بائیکاٹ بھی کیا گیا
آپﷺ کے مٹھی بھر ساتھی موجود تھے
مگر وہ آپﷺ کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تھے
یہ سلسلہ ایک آدھ دن نہیں 13 سال 🔻
تک چلا
کیا ان تیرہ سالوں میں کوئی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے کہ کسی مسلمان نے کسی کافر پہ حملہ کیا ہو ؟
جبکہ مسلمانوں میں مولا علی، حضرت عمر فاروق اور سیدنا امیر حمزہ جیسے بہادر موجود تھے
حضرت عثمان غنی جیسا رئیس بھی موجود تھا
پھر بھی لڑ کیوں نا سکے ؟
ہجرت کیوں کی ؟
وہ بھی چھپ 🔻
چھپ کر ؟
خود نبی کریمﷺ اور جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کا احوال سورہ توبہ میں پڑھیں
کیسے چھپ چھپا کر مدینہ پہنچے
پھر پہلی ہجری کو غزوہ بدر پہ آتے ہیں
اس غزوہ میں عددی برتری کا نمایاں فرق تھا
مگر مسلمان کیا محض اپنی بہادری کی وجہ سے جیتے ؟
نہیں !
ایک تو اللہ نے🔻
فرشتوں کے ذریعے مدد کی
پڑھیں سورہ انفال
دوسرا کفار اپنی طاقت اور رعب کے زعم میں تھے
انہیں لگتا تھا کہ کل تک ان کے غلام ان پہ حملے کی جرات نہیں کریں گے
اسی خوش فہمی میں ابوجہل سمیت ان کے بڑے سردار مارے گئے
اور انہیں بھاگنا پڑا
جبکہ پانی کا چشمہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں تھا 🔻
جنگ احد پہ آئیں
مسلمان نسبتاً بہتر تیاری اور پوزیشن کے ساتھ موجود تھے
اخلاقی برتری بھی حاصل تھی
عددی فرق بھی نمایاں نا تھا
پھر بھی جنگ ہار گئے
کیوں ؟
کیا یہاں ایمانی جذبہ کم تھا ؟؟
سیدنا امیر حمزہ جیسے بہادر کی شہادت ہو گئی
معاویہ کی ماں نے ان کا کلیجہ چبایا اور مسلمان کچھ نا 🔻
کر سکے
مزید پڑھیں
جنگ خندق پہ بات کرتے ہیں
مسلمانوں کو مدینے آئے پانچ سال گزر چکے تھے
میثاقِ مدینہ ہو چکا تھا
مسلمان بہت بہتر حالات میں تھے
ابوسفیان کی قیادت میں تمام کفار عرب نے اجتماعی حملے کا منصوبہ بنایا
مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے🔻
جناب سلمان فارسی کے مشورے پر ایک طویل اور گہری خندق کھدوائی
کیا یہاں مسلمانوں کا جذبہ کمزور ہو گیا تھا ؟
تین سو تیرہ اگر ایک ہزار سے لڑ سکتے تھے تو دس ہزار ،پندرہ ہزار سے کیوں نہیں لڑ سکتے تھے ؟
مگر نہیں لڑے
حکمت عملی اپنائی اور دشمن کی پیش قدمی روک دی
پانچ ماہ یہ محاصرہ رہا🔻
پڑھیں سورہ احزاب
اور جانیں کہ اس وقت مسلمانوں کی دلی کیفیات کیا تھیں ؟
کیسے ان کے دل باہر آتے تھے
اللہ نے تو سب واضح لکھا ہے
وہ تو کسی بات کہنے کو نہیں شرماتا
پھر یہ فوجیں کیا مسلمانوں سے ڈر کر واپس گئیں ؟
بالکل نہیں !
یہاں بھی اللہ نے فضل کیا
اور ایک تیز آندھی چلائی جس سے ان 🔻
کے خیمے اکھڑ گئے اور خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے
پھر صلح حدیبیہ دیکھیں
مسلمان کیا تعداد میں کم تھے ؟
کیوں نا لڑے ؟
کفار کی شرائط پہ صلح کیوں قبول کی ؟
اللہ نے اس صلح کو فتح مبین کیوں قرار دیا ؟
یعنی اگر مسلمان لڑتے تو شکست کھاتے !!
اب آئیں فتح مکہ پر
یہاں مسلمانوں کو مطلوبہ طاقت 🔻
حاصل ہو چکی تھی
اب آسانی سے اور بغیر خونریزی کے مکہ فتح کر لیا گیا
اس ساری تاریخ کے خلاصے کو دیکھیں
جہاں طاقت تھی لڑے
جہاں حکمت کی ضرورت تھی
حکمت برتی
جہاں صلح کرنا پڑی ،کی
اور جب سب کچھ اپنے حق میں ہوا تب سب بدل کر رکھ دیا
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ دانا کون🔻
ہے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے سیکھیں
پہلے طاقت، اتحاد اور
معاشی مضبوطی حاصل کریں
پھر دشمن سے لڑیں فتح آپ کی ہو گی
ورنہ خالی نعرے لگاتے رہیں
کچھ حاصل نا ہو گا
اور آخر میں ڈاکٹر عبد القدیر صاحب کی بات کہ ان کے مطابق انہوں نے ہالینڈ کے ایک ہوٹل میں پاکستانی فوج کو 🔻
بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈالتے دیکھا تو وہ رونے لگے اور دل میں فیصلہ کیا کہ آئندہ پاکستان پر یہ وقت کبھی نہیں آئے گا
وہ پاکستان واپس آئے
ایٹمی پروگرام شروع کیا
اور پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا
یہ کام عربوں کو بھی کرنا چاہیے تھا
ایک مضبوط فوج کے بغیر کوئی ملک محفوظ نہیں ہے 🔻
ہمارے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں
مگر وہ اپنی اس حالت کے خود بھی ذمے دار ہیں
پہلے خود کو بدلیں
پھر اللہ کی مدد آئے گی
چاہے وہ پاکستان سے آئے
ترکی یا ایران سے آئے
اللہ جس سے چاہے گا
کام لے لے گا #میرا
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"آپ یقین نہیں کریں گے"
کہ تبلیغی جماعت دین اسلام کی نہیں بلکہ دیوبند فرقے کی تبلیغ کرتی ہے
چونک گئے نا ؟
مزید سنیں !
آپ یہ بھی نہیں مانیں گے کہ دعوت اسلامی صیہونی خواہش پر عالم اسلام میں ناصبیت پھیلا رہی ہے
اور اس جماعت کے اثاثے کھربوں تک پہنچ چکے ہیں
آگے بڑھیں !
آپ کیلئے یہ 🔻
ماننا بھی مشکل ہو گا کہ وہابی برانڈ آف اسلام آل یہود نے خود اپنی نگرانی میں تیار کروایا اور اسے اپنے خرچے پہ عالم اسلام میں پھیلایا
اسے محض الزام مت سمجھیں
پرنس سلمان اور ہیلری کلنٹن ،امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس کی باقاعدہ تائید اور تصدیق کر چکے ہیں
اور آپ اسے بھی تسلیم نہیں کریں🔻
گے کہ اہل تشیع کی کچھ جماعتیں اسلام سے زیادہ ایران کی وفادار ہیں
اور ان کا مقصد ایرانی پراکسی کو دنیا بھر میں جاری رکھنا ہے
اسی طرح گدی نشینوں کے حالات واقعات تو شاید آپ جانتے ہی ہوں گے
کہ کیسے اپنے بزرگوں کے نام بیچ بیچ کر کھا رہے ہیں ؟
جبکہ اسلام کے بنیادی اصول تک ان کو معلوم🔻
"73 کے بعد کے آئین کے مطابق"
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کام غیر اسلامی ہو گا
سود کو سرکاری سرپرستی حاصل رہے گی اور بینکاری نظام اسی بنیادوں پر چلایا جائے گا
عدالتیں انصاف کے علاؤہ سب کچھ کریں گی
افسر شاہی عوام سے اپنی خدمت کروائے گی اور عوام الناس کو ذلیل و خوار کرنا اس کا🔻
بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا
چھوٹے موٹے جرائم کرنے والوں کو ریاست عبرت کا نشانہ بنا دے گی
مگر بڑے ڈاکے ڈالنے والوں، اربوں کی چوریوں اور لوٹ مار کرنے والوں کو ریاست پروٹوکول دے گی
جو جتنا بڑا مجرم ہو گا
وہ اتنا ہی زیادہ معزز ٹھہرایا جائے گا
پولیس سیاستدانوں کی ذاتی خدمت پر مامور 🔻
رہے گی
پولیس افسران سیاست دانوں کے بچوں کی بھی غلامی کرتے رہیں گے
قومی زبان اردو صرف بولنے کی حد تک رہے گی
دفتری زبان انگریزی ہی رہے گی تاکہ انگریز آقاؤں سے وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے
انگریزی زبان اس لئے بھی لازم رہے گی تاکہ اس ملک کے عوام کو ان کی اصل اوقات میں رکھا جا سکے🔻
" یا غوثِ اعظم دستگیر"
سیدنا غوثِ اعظم پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی رحمۃ اللہ علیہ کو اولیا میں وہی مقام حاصل ہے
جو انبیاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے
لاکھوں اولیاء آپ کے مطیع ہیں
سلسلہ قادریہ خطہ عرب کا سب سے بڑا سلسلہ ہے
جس سے عرب کے ⬇️
علاوی برصغیر ، وسط ایشیاء اور افریقہ کے بھی کروڑوں لوگ منسلک ہیں
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ،شیخ شہاب الدین سہروردی ، شاہ کمال کیتھل ، سخی سلطان باہو جیسے ہزاروں جلیل القدر بزرگ اسی سلسلے کا حصہ ہیں
تمام سلاسل میں سب سے بڑا سلسلہ بھی سلسلہ قادریہ ہے
موجودہ عالم اسلام ⬇️
میں ہر جگہ قادری بزرگوں کے نشانات موجود ہیں
ان بزرگان نے دین اسلام اور انسانیت کی ایسی خدمت کی کہ جس کی مثال ملنا ممکن نہیں
سیدنا غوثِ اعظم جیلانی نجیب الطرفین سید زادے تھے
یعنی حسنی ،حسیںنی سید تھے
برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کے سب سے بڑے روحانی پیشوا خواجہ معین الدین چشتی ⬇️
"عقلمندوں کیلئے"
ابلیس جن ہے
فرشتوں کا سردار بھی رہا ہے
اسے لامحدود اختیارات ملے ہیں
آپ کے ذہن میں وسوسے ڈال سکتا ہے
آپ کے خون میں گردش کر سکتا ہے
کروڑوں میل کا فاصلہ پلک جھپکنے میں طے کر سکتا ہے
آسمانوں پر بھی جا سکتا تھا
مگر توہین آدم کے بعد بین ہے
اب جانے کی کوشش ⬇️
کرے تو آگے سے فرشتے آگ کے گولے پھینکتے ہیں
بیک وقت ہزاروں جگہوں پر موجود ہو سکتا ہے
اپنی ساری ذریت کو خود کنٹرول کرتا ہے
اولاد آدم کا دشمن ہے
اور آدم کی اولاد کو نا اہل بنانا اس کا سب سے بڑا ٹاسک ہے
افریقہ و مغرب میں اس کی پوجا بھی ہوتی ہے
بڑے بڑے معبد بنے ہیں
دنیا بھر میں ⬇️
جتنے جادو، ٹونے، سفلی و شیطانی علوم ہیں سب اس کے دم سے ہیں
رحمان کے مقابل شیطانی طاقتوں کا پورا نظام یہی چلاتا ہے
اگر ایک شخص جادو کی مدد سے کسی کو بیمار کر دیتا ہے تو یہ کرنے والا دراصل ابلیس ہوتا ہے
اگر آپ جہاز میں سفر کر رہے ہیں
اور کینیڈا کی فضاؤں میں ہیں
لاہور میں بیٹھا ⬇️
اصحاب کہف کا غار رہتی دنیا تک مسلمانوں کیلئے زیارت گاہ بن گیا
حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں لوٹا دیں
حضرت موسیٰ و ہارون کے ترکے کی چند چیزیں بنی اسرائیل کے لئے فتوحات کا وسیلہ تھیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں رکھنے کی جگہ کو اللہ نے ⬇️
قیامت تک کیلئے نماز کی جگہ بنا دیا
جناب حاجرہ بی بی کی صفا مروہ پہ دوڑ کو قیامت تک لئے ہر حج عمرے کرنے والے پر لازم کر دیا
کوہ طور پہاڑ کو اس لئے عزت مل گئی کہ حضرت موسیٰ وہاں بیٹھ کر اللہ سے کلام کرتے تھے
حجر اسود ایک پتھر ہے
مگر اسے فضیلت حاصل ہے کہ اسے رسول اللہﷺ نے بوسہ ⬇️
دیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر سے ملحقہ جگہ کو ریاض الجنہ قرار دے دیا
ہر وہ چیز جو انبیا ،اولیا و صالحین سے منسلک رہی اسے زیارت و برکت والا بنا دیا
کس نے بنایا ؟
اللہ نے !
جی ہاں اللہ نے خود بنایا
اور حکم دے کر بنایا
حج کے تمام مناسک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ⬇️
ایوب خان کے دور میں پاکستان کیسا تھا ؟
پاکستان تیزی سے ترقی کرتے ممالک میں شامل تھا
بین الاقوامی ادارے پیشینگوئی کر رہے تھے کہ پاکستان جلد ایک مضبوط معیشت بن جائے گا
کراچی اور نیویارک کا موازنہ کیا جاتا تھا اور برملا کہا جاتا تھا کہ اگلے دس سالوں بعد کراچی نیویارک سے آگے ہو گا⬇️
چائنیز حبیب بینک کراچی کی عمارت کو حیرت ناک نظروں سے دیکھتے اور رشک کرتے تھے
یہ اس وقت پاکستان کی سب سے اونچی عمارت تھی
تربیلا اور منگلا ڈیم کے نقشے چائنیز نے ہم سے لئے
اور ڈیم بنانے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی
پاکستانی ماہرین نے چین میں ڈیم بنانے کا آغاز کیا
پاکستان نے پی آئی اے⬇️
کے چار جہاز چین کو تحفے میں دئیے
چینی حجاج پہلے پاکستان آتے اور پھر آگے حج پر جاتے تھے
سات بڑی رابطہ نہروں کے ساتھ پاکستان دنیا کا سب سے بہترین آبپاشی کا نظام رکھنے والا ملک بن چکا تھا
قانون کی حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ سائیکل کی بتی نا ہونے پر بھی جرمانہ ہوتا تھا
پولیس کا ایک⬇️