"صوفی ازم "
صوفی ازم کیا ہے ؟
کیا یہ بھی کوئی فرقہ ہے ؟
جوابات توجہ سے پڑھئے :
صوفی ایک اصطلاح ہے
جیسے حج کرنے والا حاجی، تبلیغ کرنے والا مبلغ، پابندی سے نماز پڑھنے والا نمازی، علوم حاصل کرنے والا عالم، قرآن حفظ کرنے والا حافظ اور قرآن کی قرات کرنے والا قاری کہلاتا ہے
ایسے ہی 🔻
قرآن و سنت کی مکمل پابندی کرتے ہوئے تزکیہ نفس یعنی نفس کو پاک کرنے کی کوشش کرنے والا "صوفی" کہلاتا ہے
صوفی ازم کوئی فرقہ نہیں ہے
بلکہ یہ اسلام کی روحانی زندگی اور تربیت کا نام ہے
اور اس کی ابتدا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان نبوت 🔻
سے پہلے ہفتوں تک غار حرا میں مراقبہ فرماتے
دن رات وہیں قیام کرتے
اور آخر کئی مہینوں بعد یہیں پہ جبرائیل حاضر ہوئے اور نزول قرآن کی شروعات ہوئی
آپ غار حرا سے نیچے تشریف لائے اور اعلان نبوت فرمایا
گویا کائنات کے سب سے بڑے صوفی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
جیسا کہ 🔻
سب سے بڑے معلم،مبلغ،ہادی، مصلح اور عالم بھی آپ ہی ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ تعلیم مولا علی علیہ السلام کو پہنچی
اور مولا علی علیہ السلام سے یہ فیض امت محمدیہ کو نصیب ہوا
تصوف کے چودہ میں سے تیرہ سلاسل براہ راست مولا علی علیہ السلام سے شروع ہوتے ہیں
ماسوائے نقشبندیہ 🔻
سلسلے کے کہ اس کی بنیاد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے
بانی سلسلہ حضرت شیخ بہاؤ الدین نقشبند کو براہ راست روحانی فیض سیدنا ابوبکر صدیق سے پہنچا
اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مولا علی علیہ السلام سے پہنچا تھا
کہ بعد از رسول وہی تمام علوم کے منبع ہیں 🔻
اب آپ قرون اولی کے صوفیاء کرام کو دیکھیں
ان کی اکثریت تابعین پر مشتمل ہے
امام الاولیاء حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے براہ راست مولا علی علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی
ان سے آگے خواجہ عبد الواحد نے اور ان سے آگے حضرت فضیل بن عیاض نے روحانی فیض حاصل کیا
اسی طرح سینکڑوں 🔻
صوفیاء تابعین اور تبع تابعین سے آپ کو ملیں گے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے ایک سو سال کے اندر کی تاریخ پڑھیں
بڑے بڑے صوفیا کرام آپ کو اسی دور میں ملتے ہیں
ان سب کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے براہ راست تعلیم ملی تھی
کیا یہ سب گمراہ تھے ؟🔻
اگر یہ سب گمراہ تھے تو پھر صحابہ کرام کیسے حق پر تھے کہ جن سے ان صوفیاء نے تعلیم حاصل کی ؟
جبکہ ان سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریمﷺ اور آپ کے بعد مولا علی علیہ السلام سے سیکھا
منہ پھاڑ کے فٹا فٹ صوفیا کو گمراہ کہہ دینا آسان ہے
مگر اگر ان سب کا شجرہ طریقت 🔻
و شجرہ نسب دیکھ کر اور ان کی دین اسلام اور انسانیت کیلئے خدمات دیکھ کر فرشتے بھی انہیں سلام پیش کرتے ہیں
کوئی اولیا کا جتنا بھی بڑا منکر ہو
تجربہ کرے
ایک بار کسی بزرگ کے دربار پہ جائے
اور مزار کے اندر کھڑا ہو کر وہی کہے
جو وہ اپنے ہم خیالوں کے ساتھ بیٹھ کر کہتا ہے
خدا کی قسم! 🔻
زبان گنگ ہو جائے گی
میں نے بالخصوص بہت سی احادیث و آیات کا مطالعہ کیا
اور اولیا کے فضائل دیکھے
میں نے حتمی نتیجہ یہ نکالا کہ ان اولیا و صوفیاء کرام پر منفی تنقید صرف وہی کر سکتا ہے
جس کا دل ہدایت سے اور دماغ شعور سے خالی ہے
یہ بھی مگر سچ ہے
کہ تصوف کے نام پربہت سی گمراہیاں 🔻
بھی معاشرے میں در آئیں
خصوصاً ہمارے ہندوستانی معاشرے میں
مگر اصل صوفی ازم اسلام ہے
اور اسلام صوفی ازم ہے
"قد افلح من تزکی"
کی عملی تفسیر ہے
آج کل کے رانگ نمبرز کی وجہ سے تصوف کے اصل مقصد اور بنیاد پر حرف مت اٹھائیں کہ اس کی ابتدا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی 🔻
مولا علی علیہ السلام نے اس کو ایک تنا ور درخت بنایا
اولیاء،صوفیا و علمائے حق اس کی شاخیں ہیں
مومنین ،صالحین اور فرقہ پرستی سے بچے مسلمان اس کے پھل اور پتے ہیں
لہذا میرے بھائیو !
اگر آپ فرقہ پرستی اور شخصیت پرستی کی لعنت سے بچے ہیں
تو آپ بھی صوفی ہیں
صوفی ہونا ایک اعزاز ہے
اگر 🔻
اللہ آپ کو بخشے
جیسے حج عمرے اور علم حاصل کرنے کی توفیق اللہ عطا کرتا ہے
ایسے ہی اپنے قرب کے اس راستے پر چلنے کی توفیق بھی اللہ ہی عطا کرتا ہے
اس کی پہلی سیڑھی قرآن وسنت پہ مکمل عمل اور کسی نیک سیرت بزرگ کا دامن تھامنا ہے
جو آپ کو بعین ویسے ہی سکھائے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ🔻
وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو اپنے پاس بٹھا کر سکھاتے تھے
جیسے مولا علی علیہ السلام نے صحابہ کو تربیت دی
اور ہاں اگر کوئی اونچی مسند پہ عالیشان لباس پہن کر بیٹھا ہے
تو ایسے شخص سے دور رہیں
یہ رانگ نمبر ہے
جو کوئی بھی شخص قرآن وسنت پہ عمل نا کرتا ہو
وہ بھلے ہوا میں اڑتا ہو وہ صوفی 🔻
نہیں ہو سکتا
تصوف میں سب سے پہلے آپ کو اطیعوالرسول پہ کاربند کیا جاتا ہے
آپ کی اخلاقی تربیت کی جاتی ہے
آپ کے دل سے حسد،بغض،کینہ اور ہر قسم کا تعصب نکال دیا جاتا ہے
اپ کو لوگوں کیلئے مفید بنایا جاتا ہے
آپ کو حق الیقین کے بعد عین الیقین کی منزل تک پہنچا دیا جاتا ہے
آپ کو باور🔻
کروایا جاتا ہے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے
اور اللہ کے سوا کوئی دوسری طاقت نہیں ہے
اللہ کی آپ کے دل میں محبت پیدا کی جاتی ہے
اللہ سے آپ کو ڈرایا نہیں جاتا
صرف ایک بات کا ڈر دل میں بٹھایا جاتا ہے کہ کہیں اللہ ناراض نا ہو جائے
صوفیائے کرام سے بہتر مسلمان ہونا ممکن نہیں ہے🔻
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
" قیامت والے دن میرے کچھ امتی ایسے ہوں گے جو نا تو نبی ہوں گے اور نا ہی شہید، مگر سب ان پر فخر اور رشک کرتے ہوں گے"
(داؤد،مشکواۃ)
یہی اولیا ہوں
یہی صوفیا ہوں گے
اور کچھ ان میں علما بھی ہوں گے
اللہ سب کو 🔻
ہدایت بخشے اور راہ حق پر چلنے کی توفیق دے
کسی کے نا ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
جو اللہ جاری کرے اسے کون روک سکتا ہے ؟؟
بہتر ہے علم حاصل کریں
ورنہ آپ کا نادانی میں کیا انکار آپ کا ایمان چھین لے گا !!
اور ہم سب کو اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے !! #میرا
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"دین ملا فی سبیل اللہ فساد"
کوثر نیازی نے بھٹو سے کہا :
" آپ کی حکومت کیخلاف چلنے والی تحریک کو مذہبی رنگ دیا جانے والا ہے، آپ کو اسے روکنا چاہیے"
بھٹو طاقت اور مقبولیت کے نشے سے چور تھا
اس نے توجہ نہیں دی
اور پھر وہی ہوا
بھٹو کو ہٹانے کیلئے چلنے والی تحریک،" تحریک نظام مصطفیٰ"🔻
میں تبدیل ہو گئی
اور اس تحریک کو چلانے والے وہ ملا تھے جو جلسوں میں بھی ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے
اس تحریک کو لاشوں کی ضرورت تھی جو مسلم مسجد حملے نے پوری کر دی
اور پھر 5 جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا
اگلے گیارہ سال "مرد مومن مرد حق" ضیاء الحق نے 🔻
بھی اسلام کا نام ہی بیچا
روس کیخلاف پیڈ جہاد نے ملا کو شتر بے مہار بنا دیا
دھڑا دھڑ نئے مدارس کھل گئے
سعودیہ نے وہابیت کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا
اور مجاہدین سڑکوں پہ اسلحہ لہراتے عام نظر آنے لگے
افغانستان نے منشیات کا سیلاب آ گیا
ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر نے پورے پاکستانی 🔻
"آلا ان اولیاء اللہ"
حدیث قدسی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے بغض رکھا، میرا اس سے اعلان جنگ ہے، کتب احادیث میں درج ہے کہ صحابہ کرام اس حدیث کو سن کر زار و قطار رویا کرتے تھے اور اللہ کے کسی ولی کی بے ادبی سے پناہ مانگتے🔻
تھے۔ دوسری حدیث میں مضمون کچھ یوں ہے کہ جب میرا نیک بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کر لیتا ہے
تو میں اس کی زبان بن جاتا ہوں،میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں،
اسی بات کو اقبال نے اپنے لفظوں میں کچھ یوں بیان کیا:
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی 🔻
ہیں تقدیریں
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفريں ، کارکشا ، کارساز
خاکی و نوری نہاد ، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نياز
اولیا کی کچھ صفات ہمیں قرآن سے بھی ملتی ہیں
جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
"میرے ولیوں کو کسی قسم کو خوف و ملال نہیں ہوتا"
دوسری 🔻
ہائی اسکول میں ہمارے ایک ہیڈ ماسٹر تھے
ان کی چار بیٹیاں تھیں
بیٹا کوئی نہیں تھا
ایک دن وہ صبح سکول آئے تو اسمبلی میں رونے لگے
اور کہا آج ایک بدمعاش نے سکول جاتی میری بیٹیوں کو ہراساں کیا
پولیس نے کاروائی نہیں کی
کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا
جو اسے روکتا
ہم نے اگلے آدھے گھنٹے میں 🔻
اس بدمعاش کو ڈھونڈ نکالا
اور علاقے کے ایک معروف چوک میں کھمبے کے ساتھ باندھ دیا
لڑکیوں کو چھٹی ہونے تک وہ وہیں بندھا رہا
چھٹی کے وقت ہر لڑکی اسے ایک تھپڑ مارتے ہوئے گزری
پولیس کو بلا لیا تھا
مگر گرفتار کرنے نہیں صرف تماشا دیکھنے کو
شام کو اسے بیہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا 🔻
اس کے بعد آج تک کسی بچی کو ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ ہمارے علاقے میں پیش نہیں آیا
یہ غنڈے آسمان سے نہیں ٹپکتے
ہمارے ہی ساتھ رہتے ہیں
ایک بار کچھ کرتے ہیں
تو ہم ڈر جاتے ہیں
جس سے ان کا حوصلہ بڑھتا ہے
جب ہم کہتے ہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں
تو مل کر حفاظت کیوں نہیں کرتے ؟🔻
"جذباتی مسلمانوں کیلئے"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے بھی مکہ کے ایک معزز ترین شخص تھے
ہاشمی ،قریشی نسب اور کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بے پناہ عزت حاصل تھی
بے داغ کردار، تجارتی سوجھ بوجھ اور خوش اخلاقی کی بدولت مقبولیت اس سے سوا تھی
اس سب کے 🔻
باوجود جب آپﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا، دین کی دعوت دی تو بے انتہا مشکلات کا سامنا کیا
آپ پر پتھر بھی برسائے گئے
گالیاں بھی دی گئیں
طعنے،طنز اور معاشرتی بائیکاٹ بھی کیا گیا
آپﷺ کے مٹھی بھر ساتھی موجود تھے
مگر وہ آپﷺ کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تھے
یہ سلسلہ ایک آدھ دن نہیں 13 سال 🔻
تک چلا
کیا ان تیرہ سالوں میں کوئی ایک واقعہ ایسا ملتا ہے کہ کسی مسلمان نے کسی کافر پہ حملہ کیا ہو ؟
جبکہ مسلمانوں میں مولا علی، حضرت عمر فاروق اور سیدنا امیر حمزہ جیسے بہادر موجود تھے
حضرت عثمان غنی جیسا رئیس بھی موجود تھا
پھر بھی لڑ کیوں نا سکے ؟
ہجرت کیوں کی ؟
وہ بھی چھپ 🔻
"آپ یقین نہیں کریں گے"
کہ تبلیغی جماعت دین اسلام کی نہیں بلکہ دیوبند فرقے کی تبلیغ کرتی ہے
چونک گئے نا ؟
مزید سنیں !
آپ یہ بھی نہیں مانیں گے کہ دعوت اسلامی صیہونی خواہش پر عالم اسلام میں ناصبیت پھیلا رہی ہے
اور اس جماعت کے اثاثے کھربوں تک پہنچ چکے ہیں
آگے بڑھیں !
آپ کیلئے یہ 🔻
ماننا بھی مشکل ہو گا کہ وہابی برانڈ آف اسلام آل یہود نے خود اپنی نگرانی میں تیار کروایا اور اسے اپنے خرچے پہ عالم اسلام میں پھیلایا
اسے محض الزام مت سمجھیں
پرنس سلمان اور ہیلری کلنٹن ،امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس کی باقاعدہ تائید اور تصدیق کر چکے ہیں
اور آپ اسے بھی تسلیم نہیں کریں🔻
گے کہ اہل تشیع کی کچھ جماعتیں اسلام سے زیادہ ایران کی وفادار ہیں
اور ان کا مقصد ایرانی پراکسی کو دنیا بھر میں جاری رکھنا ہے
اسی طرح گدی نشینوں کے حالات واقعات تو شاید آپ جانتے ہی ہوں گے
کہ کیسے اپنے بزرگوں کے نام بیچ بیچ کر کھا رہے ہیں ؟
جبکہ اسلام کے بنیادی اصول تک ان کو معلوم🔻
"73 کے بعد کے آئین کے مطابق"
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر کام غیر اسلامی ہو گا
سود کو سرکاری سرپرستی حاصل رہے گی اور بینکاری نظام اسی بنیادوں پر چلایا جائے گا
عدالتیں انصاف کے علاؤہ سب کچھ کریں گی
افسر شاہی عوام سے اپنی خدمت کروائے گی اور عوام الناس کو ذلیل و خوار کرنا اس کا🔻
بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا
چھوٹے موٹے جرائم کرنے والوں کو ریاست عبرت کا نشانہ بنا دے گی
مگر بڑے ڈاکے ڈالنے والوں، اربوں کی چوریوں اور لوٹ مار کرنے والوں کو ریاست پروٹوکول دے گی
جو جتنا بڑا مجرم ہو گا
وہ اتنا ہی زیادہ معزز ٹھہرایا جائے گا
پولیس سیاستدانوں کی ذاتی خدمت پر مامور 🔻
رہے گی
پولیس افسران سیاست دانوں کے بچوں کی بھی غلامی کرتے رہیں گے
قومی زبان اردو صرف بولنے کی حد تک رہے گی
دفتری زبان انگریزی ہی رہے گی تاکہ انگریز آقاؤں سے وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے
انگریزی زبان اس لئے بھی لازم رہے گی تاکہ اس ملک کے عوام کو ان کی اصل اوقات میں رکھا جا سکے🔻