آج سے تقریباً ایک سال پہلے 24 فروری
کو میں نے ایک ٹیوٹ کیا تھا
ٹیوٹ تھا
"ایک ایسی حدیث بتاؤں گا جو ابھی
وجود میں نہیں آئ نہ کسی کتاب میں ہے"
لوگوں نے بہت برا بھلا کہا
لیکن جب اگلے دن 25 فروری کو میں نے
پورا تھریڈ لکھا تو جو خاندانی تھے
حلالی تھے انہوں نے برا بھلا کہنے
جاری ہے 👇
پر مجھ سے معزرت کی
اور جن کی نسل کا کوئ پتہ نہیں تھا وہ
انفالو کر کے بھاگ گئے
میں لکھتا ہوں اپنے فائیدہ کے لیئے
کیونکہ
میری بات پر کوئ اچھے رستہ پر
آگیا تو مجھے بھی فائیدہ ہوگا
پھر چاہے تحریر میری ہو یا کسی کی
مقصد صرف یہ اچھائ پھیلانا
دوبارہ وہی تھریڈ پیش خدمت ہے
جاری ہے 👇
آپ کو ایک ایسی
حدیثِ مُبارکہ سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں
جو حدیث کی کسی کتاب میں
موجود نہیں
اِسکے باوجود یہ حدیث
اُن لوگوں کو بھی ماننی ہو گی
جو حدیث کو دین کا لازم حصہ نہیں سمجھتے،
یہ اُن سُنیوں کے لیئے بھی معتبر رہے گی
جو شیعہ کُتبِ کی احادیث نہیں مانتے
اور وہ شیعہ
جاری ہے 👇
بھی اِسے مانیں گے جو
سُنّی کُتبِ احادیث کو معتبر نہیں مانتے،
سب سے اہم بات یہ ہے کہ
اِس حدیث کے الفاظ حضرت مُحمدﷺ نے ابھی کہے ہی نہیں
بات بہت سادہ ہے
اِس حدیث کا راوی کوئی انسان نہیں
خود اللّٰه تعالیٰ ہے۔
اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے کہ
نبیﷺ نے یہ الفاظ ابھی کہنے ہیں
جاری ہے 👇
اللّٰه تعالٰی قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہوئے سورۃ فُرقان کی تیسویں آیت میں
فرماتا ہے
کہ
"رسولﷺ فریاد کریں گے
اے میرے رب میری اُمّت نے قُرآن کو
مَهْجُور کر دیا تھا"
(یہ ہے وہ حدیث جو ابھی بیان ہونی ہے)
میں نے اِس لفظ مھجور کے تشریحی مفہوم پر تحقیق کی تو دل میں ٹیسیں
جاری ہے👇
اٹھنے لگی
حضرت مُحمدﷺ کے دور میں جب کسی طاقتور اونٹ یا گھوڑے کا
غرور ختم کرنا مقصود ہوتا تو
چند فُٹ رسی کا ایک سرا اُس کی اگلی
اور
ایک سرا پچھلی ٹانگ سےباندھ کر
اُسے کئی دن چلایا جاتا تھا
اُس رسی کے سروں سےاپنے دو پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے
وہ اونٹ یا گھوڑا
لڑکھڑا کر
جاری ہے 👇
آہستہ آہستہ چلنے پر مجبور ہو جاتا تھا
اور
بلآخر اپنی طاقت اور تیز رفتاری کا فخر بھول کر
اپنے مالک کے قبضے میں آجاتا تھا
ایسے دو پاؤں بندھے مجبور جانور کو مھجور کہتے تھے
ہجرت یعنی گھر چھوڑنے پر
مجبور انسان کو بھی
قدیم عربی میں مھجور کہتے تھے،
آپ اِن دونوں میں سےجو بھی
جاری ہے👇
مطلب لے لیں،
کیا آپ کے دل کو نبیﷺ کی یہ فریاد نہیں تڑپاتی ؟
ذرا تصوُر کیجیے
کہ
آپ اور میں بھی اُس وقت
اپنے نبیﷺ کی طرف
شفاعت کے لیے آس بھری نظروں سے
دیکھ رہے ہونگے
جب نبیﷺ اللّٰه تعالیٰ سے
ہماری ہی کوتاہی کی فریاد کریں گے
وہ ہم ہی تو ہیں جس نے نبیﷺ کے لائے ہوئے
جاری ہے 👇
زندہ اور طاقتور قُرآن کو
مھجور کیا ہے
قُرآن کے علاوہ ہر فرقے کے پاس سب کُچھ ہے صحابہؓ کے قصے بھی بتائے جائیں گے
اولیا کی کرامات بھی
دوسرے فرقوں کے نظریات کا رد بھی
سبھی کُچھ ہے بس قُرآن نہیں
اللّٰه تعالیٰ سورہ روم میں فرماتا ہے
کہ
"اسی کی طرف رجوع کرتے رہو
اور اس کا
جاری ہے👇
تقویٰ اختیار کرو
اور
نماز قائم کرو
اور
مشرکوں میں سےمت ہو جاؤ
اُن مشرکوں میں سےجنہوں نے
اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا
اور گروہ در گروہ ہوگئے
ہر گروہ اُسی پر مگن ہے
جو اُس کے پاس ہے
یہی وہ مُسلمان نُما فرقوں میں بٹے لوگ ہیں جنہوں نے قُرآن کو مھجور کیا
اور جن کے خلاف
جاری ہے👇
ہمارے نبی محمدﷺ
اللّٰه تعالیٰ سے
فریاد کریں گے
یہ لوگ تو قصے کہانیوں
اور
فضائل پر بھی اندھے بہرے ہو کر
گرتے ہیں
جبکہ
اللّٰه تعالیٰ قُرآن کی آیات کو بھی
صرف سوچ سمجھ کر قبول کرنے
کو کہتا ہے
اللّٰه تعالیٰ سورہ فرقان کی
آیت 73 میں اپنے بندوں کا ذکر کرتے ہوئے
کہتا ہے کہ
جاری ہے👇
"جب انہیں میری آیات سنای جاتی ہیں
تو وہ اُن پر اندھے بہرے ہو
کر نہیں گرتے"
یعنی اللّٰه تعالیٰ اپنی آیات میں
غور و فکر کی دعوت پر
اسقدر زور دے رہا ہے
کہ
انہیں بغیر سوچے سمجھے
ماننے والوں کو
اندھے بہروں سےتشبیہہ دے ڈالی
کے علاؤہ ہر قسم کا مواد ملے گا
قُرآن کی اکا دکا آیات اگر
ان کے کسی بیان یا کتاب میں
شامل بھی ہوں
تب بھی اُس پر غور و فکر کی
دعوت نہیں ہوگی
جبکہ اللّٰه تعالیٰ سورہ ص میں
فرماتا ہےکہ
"یہ بڑی برکت والی کتاب ہے
جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی
تاکہ لوگ اِسکی آیتوں میں غورکریں
جاری ہے👇
اورعقلمند نصیحت حاصل کریں"
آپ کو شاید یہ جانکر
حیرت ہو
کہ
کئی فرقے قُرآن
میں غور کرنے والے کے لیے
اٹھارہ شرائط لازمی قرار دیتے ہیں
جن میں ایک یہ بھی ہے
کہ
قُرآن میں غور کرنے والے
کو ناسخ منسوخ کا علم ہو
طرح طرح کے ناموں کے
اِن فرقوں نے ہمارے نبیﷺ کے دین کو
لنگڑا کر
جاری ہے👇
چلنے پر مجبور کر دیا ہے
ابھی بھی وقت ہے
قرآن خود سیکھنا شروع کریں
کیونکہ
کل آپ کو اپنا جواب خود دینا ہوگا
روزِ قیامت
اکابرین اور عُلماء سب اپنا اپنا حساب دیں گے نہ یہ کسی کے پیچھے چھُپ سکیں گے
نہ ہم
قُرآن کی آیات کے تراجم
اور
تشریح پڑھیں
اوراُسکی آیات میں تدبُر کریں
جاری ہے👇
میں آپ کو اُس اسلام کی طرف
لوٹنے کی دعوت دیتا ہوں
جو میرے نبی محمدﷺ لائے تھے
اور
جس میں کوئ فرقہ نہیں تھا
کوئ اختلاف نہیں تھا
بس قرآن اور سنت رائج تھی
میں آپکو پُورے خلوص سے
دعوت دیتا ہوں
کہ
آئیے فرقہ وارانہ علم کو
اَن سیکھا UNLEARN کر کے
قُرآن
اور
رائج سُنّت کی
جاری ہے 👇
طرف لوٹ جاتے ہیں
آئیے صحابہ کے دور کے اسلام میں داخل ہو جائیں
مُجھے یقین ہے آپ میری دعوت پر اکیلے میں غور ضرور کریں گے
یاد رکھیں
اللّٰه تعالیٰ سورۃ القصص
کی 85 آیت میں فرماتا ہے
"بے شک جس نے تُم پر قُرآن فرض کیا
وہ تُمہیں ایک انجام تک پُہنچانے والا ہے"
جاری ہے 👇
مجھے لگتا ہے آپ کو یہ بات
کبھی بتائ ہی نہیں گئ
کہ
قرآن آپ پر فرض ہے
خیر آج آپ نے جان لیا
اِس سے پہلے
کہ
اللّٰه تعالیٰ انجام کی طرف لوٹائے
قُرآن کی طرف لوٹیئے
اور
روزانہ صرف چند آیات پر
خُود غور شُروع کریں
اللّٰه تعالیٰ مُجھے
اور
آپکو تعصب سے نکل کر قُرآن و سُنت پر
جاری ہے 👇
غور و فکر کی توفیق دے
اور
ہمیں فرقوں سے بے زار کر کے
نبی محمد ﷺ کے لائے ہوئے
خالص اور زندہ پیغام کی طرف لوٹا دے۔
آمین ثم آمین
دعاؤں میں یاد رکھئے گا
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
انسان کی یہ فطرت ہے
کہ
کوئی کھانے پینے کی
مرغوب چیز دیکھے
یا
خوشبو ہی آ جائے تو
اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے
گرمی اور تپش کی حالت میں
ٹھنڈی
سایہ دار
اور
خوش منظر جگہ دیکھ کر
وہاں ٹھہرنے
اور
آرام کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے
جاری ہے 👇
اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے
کہ
کسی غیر عورت پر
اچانک نگاہ پڑ جانے سے
بسا اوقات "شہوانی تقاضا" پیدا ہو جاتا ہے
جو غلبہ شیطانی سے
بہت برے نتائج تک بھی پہنچا سکتا ہے
اور
کم از کم آدمی ایک قسم کی
بےچینی میں تو مبتلا ہو ہی جاتا ہے
باقی رہی کسر ہمارے ٹی وی کے ڈرامے
بیہودا لباس
جاری ہے 👇
انٹرنیٹ کا غلط استمعال
اس چیز کو موقع دیتا ہے گناہ کی طرف
لے جانے میں
جو آپ کے خون میں دوڑتا ہے
وہ ہے "شیطان"
پھر وہ انسان سے وہ کچھ کرواتا ہے
جو کہ جانور بھی نہیں کرتے
ثبوت کے طور پر
آج کل جو چھوٹی بچیوں سے لے کر
بوڑھی عورتوں کے ساتھ
حتیٰ کہ مرد بچوں سے لے کر
منہ بند رکھنا حکمت ھے
کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی
بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں
اُن تینوں کو موت کے گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا
جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار
اور
مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر
جاری ہے 👇
مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا
رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر
جب چھوڑا جاتا تھا
تو
دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا
اور
نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا
چنانچہ
اُن تینوں کو اُس موت کے تختے کے ساتھ
کھڑا کیا گیا
اُن میں سے ایک
جاری ہے 👇
■ ایک عالم
■ ایک وکیل
■ اور ایک فلسفی
تھا
سب سے پہلے عالم کو اُس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا
اور
اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی
تو
عالم کہنے لگا میرا اللّٰه تعالیٰ پر
پختہ یقین ہے
وہی موت دے گا
اور
زندگی بخشے گا
بس اِس کے سوا کچھ نہیں کہنا
مشہور عرب مفکر اور داعی
ڈاکٹر علی طنطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
کہ
وہ کابل میں تھے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے حکم ہوا
کہ
فوری طور پر ایک ضروری کام سے
روس چلے جائیں
وہ تیار ہوئے لیکن یہ پریشانی لاحق ہوئی
کہ
غیر مسلم ملک ہے وہاں اُن کا ذبیحہ
مجھ سے تو نہیں
جاری ہے 👇
کھایا جائے گا
گھر میں دو دیسی مرغیاں تھی
بیگم نے ذبح کراکے زاد سفر میں یہ کہتے رکھ دیا کہ
جب تک اِن سے کام چلتا ہے
چلانا آگے کا اللّٰه پاک بندوبست کرے گا
وہ کہتے ہیں
میں تاشقند پہنچا ہی تھا
کہ
وہاں کے ایک مسلمان شیخ نے گھر دعوت کی
میں اُن کے گھر جانے کے لئے نکلا تھا
جاری ہے 👇
کہ راستے میں ایک غریب عورت
بھوک سے نڈھال اپنے بچوں کے ساتھ سڑک کنارے کھڑی تھی
میں واپس مڑا گھر سے دونوں مرغیاں لا کر انہیں پکڑا دی
ابھی ایک گھنٹہ نہیں گزرا تھا
کہ
کابل سے تار آئی کہ وہ کام جس کے لئے آپ کو بھیجا تھا
وہ ہوگیا آپ واپسی کی فلائیٹ پکڑ لیں
میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے
کہ
آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں
خاموش ہو جاتے ہیں
بحث نہیں کرتے
اگر
کوئی آپکو برا بھلا بھی کہہ دے تو
یہ کہہ کر مسکرا کر آگے بڑھ جاتےہیں
کہ "Yes I'm "
اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا
کہ
آپ سچ میں ویسے ہی ہوتے ہیں
فرق صرف یہ ہے
کہ
وہ بات آپکے لیۓ
جاری ہے 👇
اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک
کتا بھونکتا اور دوڑتا ہے
نہ یہ کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے
نہ گاڑی میں بیٹھتا چاہتا ہے
اور نہ ہی اُسے گاڑی چلانی ہے
بس خوامخواہ بھوکنا اُس کی عادت ہے
ایسے ہی زندگی کے سفر میں
جب
آپ اپنی منزل کیطرف رواں داواں ہوتے ہیں
جاری ہے👇
تو کچھ اِسی عادت کے لوگ
بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
اِس لئے جب آپ اپنی منزل پر رواں دواں ہوں اور
لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی
کوشش کریں تو
اُن سے الجھنے کے بجائے
اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں
آپ کو تلخ نہیں ہونا