بعض لوگ
میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں
فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ
کہنا یہ چاہیے کہ
فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے اس لیئے کہ
قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے
حکم دونوں اللّٰه کے ہیں
معنی کا فرق ہے
جاری ہے 👇
قضا کا معنی
تقدیر الہی
نوشتہ تقدیر
فیصلہ
اتفاق یا حادثہ
جبکہ
رضا کا معنی
مرضی
خوشنودی
اور
خوشی
(فیروز اللغات فارسی)
لہذا
جب اللّٰه تعالی کسی کے بارے
فیصلہ نافذ کرتا ہے
اُس کو قضا کہتے ہیں
اور
جب کسی کام کی وجہ سےراضی ہوتا ہے
تب
اُس وقت بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے
جاری ہے👇
جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللّٰه اُن سے راضی اور وہ اللّٰه سے راضی
(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
بیشک اللّٰه راضی ہوا ایمان والوں سے
(الفتح 18)
ابھی ایک جگہ بیٹھا تھا تو ایک بندے
نے بات سنائی اچھی لگی تو آپ سے شئیر
کر رہا ہوں
بات ایسی ہے ہماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ہے
اکثر وہاں ناشتہ کرنے جاتے ہیں
کافی رش ہوتا ہے ناشتے والے کے پاس
میں نے کافی دفعہ مشاہدہ کیا
کہ
ایک شخص آتا ہے
اور
کھانا کھا کر
جاری ہے 👇
بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ہی
نکل جاتا ہے جھانسہ دے کر
ایک دن جب وہ کھانا کھا رہا تھا
تو
میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے
مالک کو بتا دیا
کہ
وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے
رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ہے
آج یہ جانے نہ پائے..
جاری ہے 👇
اِس کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے آج
میری بات سُن کر ناشتے والا
مالک مُسکرانے لگ گیا
اور
کہنے لگا
کہ
اُسے نکلنے دو
کُچھ نہیں کہنا اُس کو
بعد میں بات کرتے ہیں
حسبِ معمول وہ بندہ ناشتہ کرنے کے بعد
اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا جھانسہ دے کر
چُپکے سے نکل گیا
میں نے ناشتہ والے
آج سے تقریباً ایک سال پہلے 24 فروری
کو میں نے ایک ٹیوٹ کیا تھا
ٹیوٹ تھا
"ایک ایسی حدیث بتاؤں گا جو ابھی
وجود میں نہیں آئ نہ کسی کتاب میں ہے"
لوگوں نے بہت برا بھلا کہا
لیکن جب اگلے دن 25 فروری کو میں نے
پورا تھریڈ لکھا تو جو خاندانی تھے
حلالی تھے انہوں نے برا بھلا کہنے
جاری ہے 👇
پر مجھ سے معزرت کی
اور جن کی نسل کا کوئ پتہ نہیں تھا وہ
انفالو کر کے بھاگ گئے
میں لکھتا ہوں اپنے فائیدہ کے لیئے
کیونکہ
میری بات پر کوئ اچھے رستہ پر
آگیا تو مجھے بھی فائیدہ ہوگا
پھر چاہے تحریر میری ہو یا کسی کی
مقصد صرف یہ اچھائ پھیلانا
دوبارہ وہی تھریڈ پیش خدمت ہے
جاری ہے 👇
آپ کو ایک ایسی
حدیثِ مُبارکہ سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں
جو حدیث کی کسی کتاب میں
موجود نہیں
اِسکے باوجود یہ حدیث
اُن لوگوں کو بھی ماننی ہو گی
جو حدیث کو دین کا لازم حصہ نہیں سمجھتے،
یہ اُن سُنیوں کے لیئے بھی معتبر رہے گی
جو شیعہ کُتبِ کی احادیث نہیں مانتے
اور وہ شیعہ
جاری ہے 👇
انسان کی یہ فطرت ہے
کہ
کوئی کھانے پینے کی
مرغوب چیز دیکھے
یا
خوشبو ہی آ جائے تو
اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے
گرمی اور تپش کی حالت میں
ٹھنڈی
سایہ دار
اور
خوش منظر جگہ دیکھ کر
وہاں ٹھہرنے
اور
آرام کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے
جاری ہے 👇
اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے
کہ
کسی غیر عورت پر
اچانک نگاہ پڑ جانے سے
بسا اوقات "شہوانی تقاضا" پیدا ہو جاتا ہے
جو غلبہ شیطانی سے
بہت برے نتائج تک بھی پہنچا سکتا ہے
اور
کم از کم آدمی ایک قسم کی
بےچینی میں تو مبتلا ہو ہی جاتا ہے
باقی رہی کسر ہمارے ٹی وی کے ڈرامے
بیہودا لباس
جاری ہے 👇
انٹرنیٹ کا غلط استمعال
اس چیز کو موقع دیتا ہے گناہ کی طرف
لے جانے میں
جو آپ کے خون میں دوڑتا ہے
وہ ہے "شیطان"
پھر وہ انسان سے وہ کچھ کرواتا ہے
جو کہ جانور بھی نہیں کرتے
ثبوت کے طور پر
آج کل جو چھوٹی بچیوں سے لے کر
بوڑھی عورتوں کے ساتھ
حتیٰ کہ مرد بچوں سے لے کر
منہ بند رکھنا حکمت ھے
کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی
بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں
اُن تینوں کو موت کے گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا
جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار
اور
مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر
جاری ہے 👇
مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا
رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر
جب چھوڑا جاتا تھا
تو
دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا
اور
نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا
چنانچہ
اُن تینوں کو اُس موت کے تختے کے ساتھ
کھڑا کیا گیا
اُن میں سے ایک
جاری ہے 👇
■ ایک عالم
■ ایک وکیل
■ اور ایک فلسفی
تھا
سب سے پہلے عالم کو اُس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا
اور
اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی
تو
عالم کہنے لگا میرا اللّٰه تعالیٰ پر
پختہ یقین ہے
وہی موت دے گا
اور
زندگی بخشے گا
بس اِس کے سوا کچھ نہیں کہنا