عرب میں ایک عورت "ام جعفر"بہت سخی تھی
لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی
کہ
دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے
وہ جس راستے سے گزرتی
اُس راستے پر دو اندھے بیٹھنا شروع ہو گئے
جب ام جعفر کی سواری گزرتی
وہ آواز سُن کر
صدائیں لگاتے
ایک کی صدا ہوتی
"الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے
جاری ہے 👇
روزی عطا کر
دوسرا اندھا کہتا
یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر
ام جعفر اُن دونوں کی صدائیں سنتی
اور
دونوں کو عطا کرتی
جو شخص اللّٰه کا فضل طلب کر رہا تھا
اُسے دو درہم دیتی
جبکہ
"ام جعفر" کے فضل کے طلبگار کو
ایک بھنی ہوئی مرغی دیتی
دلچسپ بات یہ ہے کہ
جاری ہے 👇
دونوں ایک دوسرے کو پوچھتے
"تم کو کیا ملا ؟
جسے مرغی ملتی
وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو
دو درہم میں بیچ دیتا
کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا
ایک دن ام جعفر اُس اندھے کے پاس آئی
جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا
اور
اُس سے سوال کیا
"کیا تمہارے پاس سو دینار جمع ہو گئے؟"
جاری ہے 👇
اندھا حیران ہو گیا
اُس نے کہا
نہیں
مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی
جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا
ام جعفر نے کہا
"جو اللّٰه کا فضل طلب کر رہا تھا
میں اُسے دو درہم دیتی
اور
تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں
"دس دینار"
ڈال کر دیتی رہی
اندھے نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا
جاری ہے 👇
وہ چیخنے اور چلانے لگا
ہائے میری کمبختی
کاش
میں ایسا نہ کرتا
میں مارا گیا
ام جعفر نے کہا
یقینا اللّٰه کا"فضل"طلب کرنے والا
کامیاب ہے
اور
انسانوں کے"فضل" کا طلبگار محروم ہے
(عربی سے مترجم)
جو اللّٰه کے فضل کے سوا
دیگر راستے تلاش کرتے ہیں
انھیں دنیا میں گھاٹا ملتا ہے
جاری ہے 👇
اور آخرت میں رسوائی نصیب ہوتی ہے
کم ہی ایسے ہوں گے جو فاقوں سے مر جاتے ہوں گے
اِس کے باوجود اِس دنیا میں ایسوں کی کمی نہیں
جو درہم و دینار کی خاطر ایمان تک بیچ دیتے ہیں
جب کہ مسلمان کا ایمان ہی اُس کی سب سے بڑی دولت وطاقت ہے
اللّٰه تعالیٰ سے جب بھی مانگو
اُس کا فضل مانگو
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
بعض لوگ
میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں
فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ
کہنا یہ چاہیے کہ
فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے اس لیئے کہ
قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے
حکم دونوں اللّٰه کے ہیں
معنی کا فرق ہے
جاری ہے 👇
قضا کا معنی
تقدیر الہی
نوشتہ تقدیر
فیصلہ
اتفاق یا حادثہ
جبکہ
رضا کا معنی
مرضی
خوشنودی
اور
خوشی
(فیروز اللغات فارسی)
لہذا
جب اللّٰه تعالی کسی کے بارے
فیصلہ نافذ کرتا ہے
اُس کو قضا کہتے ہیں
اور
جب کسی کام کی وجہ سےراضی ہوتا ہے
تب
اُس وقت بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے
جاری ہے👇
جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللّٰه اُن سے راضی اور وہ اللّٰه سے راضی
(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
بیشک اللّٰه راضی ہوا ایمان والوں سے
(الفتح 18)
ابھی ایک جگہ بیٹھا تھا تو ایک بندے
نے بات سنائی اچھی لگی تو آپ سے شئیر
کر رہا ہوں
بات ایسی ہے ہماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ہے
اکثر وہاں ناشتہ کرنے جاتے ہیں
کافی رش ہوتا ہے ناشتے والے کے پاس
میں نے کافی دفعہ مشاہدہ کیا
کہ
ایک شخص آتا ہے
اور
کھانا کھا کر
جاری ہے 👇
بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ہی
نکل جاتا ہے جھانسہ دے کر
ایک دن جب وہ کھانا کھا رہا تھا
تو
میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے
مالک کو بتا دیا
کہ
وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے
رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ہے
آج یہ جانے نہ پائے..
جاری ہے 👇
اِس کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے آج
میری بات سُن کر ناشتے والا
مالک مُسکرانے لگ گیا
اور
کہنے لگا
کہ
اُسے نکلنے دو
کُچھ نہیں کہنا اُس کو
بعد میں بات کرتے ہیں
حسبِ معمول وہ بندہ ناشتہ کرنے کے بعد
اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا جھانسہ دے کر
چُپکے سے نکل گیا
میں نے ناشتہ والے
آج سے تقریباً ایک سال پہلے 24 فروری
کو میں نے ایک ٹیوٹ کیا تھا
ٹیوٹ تھا
"ایک ایسی حدیث بتاؤں گا جو ابھی
وجود میں نہیں آئ نہ کسی کتاب میں ہے"
لوگوں نے بہت برا بھلا کہا
لیکن جب اگلے دن 25 فروری کو میں نے
پورا تھریڈ لکھا تو جو خاندانی تھے
حلالی تھے انہوں نے برا بھلا کہنے
جاری ہے 👇
پر مجھ سے معزرت کی
اور جن کی نسل کا کوئ پتہ نہیں تھا وہ
انفالو کر کے بھاگ گئے
میں لکھتا ہوں اپنے فائیدہ کے لیئے
کیونکہ
میری بات پر کوئ اچھے رستہ پر
آگیا تو مجھے بھی فائیدہ ہوگا
پھر چاہے تحریر میری ہو یا کسی کی
مقصد صرف یہ اچھائ پھیلانا
دوبارہ وہی تھریڈ پیش خدمت ہے
جاری ہے 👇
آپ کو ایک ایسی
حدیثِ مُبارکہ سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں
جو حدیث کی کسی کتاب میں
موجود نہیں
اِسکے باوجود یہ حدیث
اُن لوگوں کو بھی ماننی ہو گی
جو حدیث کو دین کا لازم حصہ نہیں سمجھتے،
یہ اُن سُنیوں کے لیئے بھی معتبر رہے گی
جو شیعہ کُتبِ کی احادیث نہیں مانتے
اور وہ شیعہ
جاری ہے 👇
انسان کی یہ فطرت ہے
کہ
کوئی کھانے پینے کی
مرغوب چیز دیکھے
یا
خوشبو ہی آ جائے تو
اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے
گرمی اور تپش کی حالت میں
ٹھنڈی
سایہ دار
اور
خوش منظر جگہ دیکھ کر
وہاں ٹھہرنے
اور
آرام کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے
جاری ہے 👇
اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے
کہ
کسی غیر عورت پر
اچانک نگاہ پڑ جانے سے
بسا اوقات "شہوانی تقاضا" پیدا ہو جاتا ہے
جو غلبہ شیطانی سے
بہت برے نتائج تک بھی پہنچا سکتا ہے
اور
کم از کم آدمی ایک قسم کی
بےچینی میں تو مبتلا ہو ہی جاتا ہے
باقی رہی کسر ہمارے ٹی وی کے ڈرامے
بیہودا لباس
جاری ہے 👇
انٹرنیٹ کا غلط استمعال
اس چیز کو موقع دیتا ہے گناہ کی طرف
لے جانے میں
جو آپ کے خون میں دوڑتا ہے
وہ ہے "شیطان"
پھر وہ انسان سے وہ کچھ کرواتا ہے
جو کہ جانور بھی نہیں کرتے
ثبوت کے طور پر
آج کل جو چھوٹی بچیوں سے لے کر
بوڑھی عورتوں کے ساتھ
حتیٰ کہ مرد بچوں سے لے کر