آفس ٹائیم ہے تو زیادہ ٹیوٹر نہیں دیکھتا
ابھی ایک دوست نے وٹساپ پر ایک
فوٹو بیجھیں اور ضد کی
کہ
ابھی لکھوں
میں نے بتایا کہ بردار میں کام میں
مصروف ہوں
بولے اگر آپ کی بیٹی ہوتی تو ؟
اِن الفاظ کے سامنے میں ہار گیا
میری ٹیوٹ کے آخر میں ایک فوٹو
ملے گی جو کہ کسی معصوم
جاری ہے 👇
بچی کی ہے جس کے سر میں گولی
پیوست ہے
( یہ پتہ نہیں کہ بچ گئ یا نہیں)
یہ گولی ہوائ فائرنگ کا نتیجہ ہے
میں نے نیو ائیر نائیٹ پر بھی لکھا تھا
ہوائ فائرنگ کے بارے
آج بھی لکھ رہا ہوں
بھائ خدا کا واسطہ ہوائ فائرنگ سے
گریز کریں
آپ کا شوق پتہ نہیں کِس کِس کی
جان لے گا
جاری ہے 👇
آپ کے پاس اسلحہ ہے آپ چلانا چاہتے ہیں
ظاہر ہے پاس ہے تو دل بھی کرتا ہے
میں کہتا ہوں
ضرور چلائیں
روازنہ چلائیں
اپنی بندوق
رائیفل
پستول
رپیٹر
جو کچھ بھی ہے آپ کے پاس
ضرور چلایا کریں
روازنہ چلائیں
کوئ پابندی نہیں ہے
لیکن
ایک کام کریں
کسی پلاٹ کی دیوار کے ساتھ
جاری ہے 👇
ریت کا ڈھیر لگوا لیں
تو اس پر فائیرنگ کر کے اپنا شوق
پورا کر لیں
لیکن خدارا ہوائ فائرنگ نہ کریں
میں پولیس سے بھی درخواست کروں گا
لائسنس ہولڈروں کو ریت کے ڈھیر پر
محفوظ طریقہ سے فائرنگ کرنے کی
اجازت دی جائے
تاکہ
انسانی جان اِس گندے ہوائ فائرنگ
کے شوق کی وجہ سے محفوظ رہیں
جاری ہے👇
میری درخواست ہے آپ سب سے
ہوائ فائرنگ کرنے والوں کی رپورٹ کریں
آپ کے علاقہ کا تھانہ نہیں سنتا تو
اوپر تک جائیں
ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت
کو بچانے کے برابر ہے۔۔
میری اِس ٹیوٹ کو اپنے اپنے
علاقہ کے ڈی پی او
یا اعلیٰ حکام
کو ٹیگ کریں
کہ
ریت پر فائرنگ کی اجازت دی جائے
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
ایک دفعہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللّٰه سے کہا
یا رب
میں الواح میں پڑھ پاتا ہوں
کہ
ایک بہترین اُمت ہوگی
جو ہمیشہ اچھی باتوں کو سکھاتی رہے گی
اور
بری باتوں سے روکتی رہے گی
اے اللّٰه۔۔ وہ اُمت میری ہو
تو
اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا
موسیٰ
وہ تو احمد ﷺ کی امت ہوگی
جاری ہے 👇
موسیٰ پھر بولے
یا رب
اِن الواح سے ایک ایسی اُمت کا پتہ چلتا ہے
جو
سب سے آخر میں پیدا ہوگی
لیکن
جنت میں سب سے پہلے داخل ہوگی
اے اللّٰه
وہ میری اُمت ہو
اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا
" وہ احمد ﷺ کی اُمت ہوگی"
موسیٰ پھر بولے
یا رب
الواح بتاتی ہیں
ایک اُمت ہوگی جن کی کتاب اُن
جاری ہے👇
کے سینوں میں دِل میں ہوگی
اور وہ دِل میں دیکھ کر پڑھتے ہوں گے
حالانکہ
اَن سے پہلے کی سب امتیں اپنی کتاب
دیکھ کر پڑھتے ہیں دِل سے نہیں
پڑھتے
حتیٰ کہ اُن کی کتاب ہٹا لی جائے تو پھر اُن کو کچھ یاد نہیں رہتا
جبکہ
آپ نے اُس اُمت کو حفظ کی ایسی قوت دی ہے جو کسی اُمت کو نہیں
ممکن ہے میری طرح آپ بھی زندگی میں کچھ اجنبیوں کو اپنا سمجھنے کی غلطی کر چکے ہوں
ایسا ہے تو یہ حکایت آپ کو مزہ دے گی
ایک شاندار عربی حکایت کا اردو ترجمہ
اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنے ہوئے گوشت
جاری ہے👇
کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کر پیش کرتے تھے
اگر کسی تقریب میں گھر کے سربراہ کو پتا چلتا کہ
اِس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے زیادہ ہے
یا
زیادہ ہوسکتی ہے
تو
وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں
(گوشت کے بغیر)
ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر
جاری ہے 👇
اپنے اہلِ خانہ
رشتہ داروں
اور
انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ
گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ہاں شادی کی تقریب تھی
جس میں اُس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی
اِس تحریر میں ایک سبق ہے
جس کو سمجھ آ جائے وہ بتا دے
ایک ملٹی نیشنل بینک کے
سی ای او نے معاشی ماہرین کو
اّس وقت سوچ میں ڈال دیا
جب
اُس نے کہا کہ
سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباہی کا باعث ہے
کیا ؟
سب ماہرین نے حیران ہو کر پوچھا
سی ای او
اِس لئے کہ سائیکل چلانے والا
جاری ہے 👇
کار نہیں خریدتا
وہ کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتا
انشورنس نہیں کرواتا
پیٹرول بھی نہیں خریدتا
اپنی گاڑی سروس
اور
مرمت کے لئے نہیں بھیجتا
کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا
وہ ٹال پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا
سائیکل چلانے کی وجہ سے
صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا
جاری ہے👇
صحت مند رہنے کے باعث
وہ دوائیں نہیں خریدتا
ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا حتیٰ کہ
ملک کے جی ڈی پی میں کچھ بھی
شامل نہیں کرتا
اُس کے برعکس
ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ
اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لئے روزگار کا سبب بنتا ہے
غیر سیاسی پوسٹ
ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیرلگا دیا
ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو
روانگی سےقبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا
وزیر نے کہا کہ
موسم بہت اچھا ہے
اور
اگلے کئی روز تک اِسی طرح رہےگا
بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی
جاری ہے 👇
امکان نہیں ہے
بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا
راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا
اُس نے کہا حضور
آپ کا اقبال بلند ہو
آپ اِس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟
بادشاہ نے کہا شکار پر
کمہار کہنے لگا
حضور
موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہونے
اور
بارش کے
جاری ہے 👇
امکانات بہت زیادہ ہیں
بادشاہ نے کہا
ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے
تو کیا جانے موسم کیا ہے؟
میرے وزیر نے بتایا ہے کہ
موسم نہایت خوشگوار ہے
اور
شکار کے لیے بہت موزوں ہے
اور
تم کہہ رہے ہو کہ
بارش ہونے والی ہے؟
پھر بادشاہ نے ایک مصاحب کو حکم دیا
کہ
اِس بے پر کی
میں نے بکریاں پالنے والے
ایک چھوٹے سے فارمر سے پوچھا
کہ
آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں
اور
سالانہ کتنا کما لیتے ہو؟
اُس نے کہا میرے پاس اچھی نسل کی
بارہ بکریاں ہیں
جو مجھے سالانہ
چھ لاکھ روپے دیتی ہیں
جو ماہانہ پچاس ہزار بنتا ہے
مگر
میں نے جب بکریوں کے ریوڑ پر
نظر دوڑائی تو
جاری ہے👇
اُس میں بارہ نہیں تیرہ بکریاں تھیں
جب میں نے اُس سے
تیرھویں بکری کے بارے میں پوچھا تو
اُسکا جو جواب تھا
وہ کمال کا تھا
اور
اُسکا وہی ایک جملہ دراصل کامیاب ہونے کا بہت بڑا راز تھا
اُس نے کہا کہ بارہ بکریوں سے میں چھ لاکھ منافع حاصل کرتا ہوں
اور
اُس تیرھویں بکری کے
جاری ہے 👇
دو بچے ہوتے ہیں
ایک کی قربانی کرتا ہوں
اور
دوسرا کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں
اِس لئے یہ بکری میں نے گنتی میں
شامل نہیں کی
یہ تیرہویں بکری باقی کی
بارہ بکریوں کی محافظ ہے
اور
میرے لئے باعث خیر وبرکت ہے
عرب میں ایک عورت "ام جعفر"بہت سخی تھی
لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی
کہ
دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے
وہ جس راستے سے گزرتی
اُس راستے پر دو اندھے بیٹھنا شروع ہو گئے
جب ام جعفر کی سواری گزرتی
وہ آواز سُن کر
صدائیں لگاتے
ایک کی صدا ہوتی
"الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے
جاری ہے 👇
روزی عطا کر
دوسرا اندھا کہتا
یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر
ام جعفر اُن دونوں کی صدائیں سنتی
اور
دونوں کو عطا کرتی
جو شخص اللّٰه کا فضل طلب کر رہا تھا
اُسے دو درہم دیتی
جبکہ
"ام جعفر" کے فضل کے طلبگار کو
ایک بھنی ہوئی مرغی دیتی
دلچسپ بات یہ ہے کہ
جاری ہے 👇
دونوں ایک دوسرے کو پوچھتے
"تم کو کیا ملا ؟
جسے مرغی ملتی
وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو
دو درہم میں بیچ دیتا
کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا
ایک دن ام جعفر اُس اندھے کے پاس آئی
جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا
اور
اُس سے سوال کیا