میں نے بکریاں پالنے والے
ایک چھوٹے سے فارمر سے پوچھا
کہ
آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں
اور
سالانہ کتنا کما لیتے ہو؟
اُس نے کہا میرے پاس اچھی نسل کی
بارہ بکریاں ہیں
جو مجھے سالانہ
چھ لاکھ روپے دیتی ہیں
جو ماہانہ پچاس ہزار بنتا ہے
مگر
میں نے جب بکریوں کے ریوڑ پر
نظر دوڑائی تو
جاری ہے👇
اُس میں بارہ نہیں تیرہ بکریاں تھیں
جب میں نے اُس سے
تیرھویں بکری کے بارے میں پوچھا تو
اُسکا جو جواب تھا
وہ کمال کا تھا
اور
اُسکا وہی ایک جملہ دراصل کامیاب ہونے کا بہت بڑا راز تھا
اُس نے کہا کہ بارہ بکریوں سے میں چھ لاکھ منافع حاصل کرتا ہوں
اور
اُس تیرھویں بکری کے
جاری ہے 👇
دو بچے ہوتے ہیں
ایک کی قربانی کرتا ہوں
اور
دوسرا کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں
اِس لئے یہ بکری میں نے گنتی میں
شامل نہیں کی
یہ تیرہویں بکری باقی کی
بارہ بکریوں کی محافظ ہے
اور
میرے لئے باعث خیر وبرکت ہے
یقین کریں کہ
یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے
جاری ہے 👇
دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کے
فلسفے ایک طرف
اور
اُس بکریاں پالنے والے نوجوان کا
یہ جملہ ایک طرف
مجھے وہ بات ان پڑھ سادہ لوح
گلہ بان
کامیابی کا وہ فلسفہ سمجھا گیا
جو کامرس کی موٹی موٹی کتابیں مجھے نہ سمجھا سکیں
(منقول)
جاری ہے 👇
حضرت علی رضی اللّٰه تعالی عنہ کا قول ہے
لوگ رزق کو محنت میں تلاش کرتے ہیں حالانکہ یہ سخاوت میں پوشیدہ ہے۔۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
غیر سیاسی پوسٹ
ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیرلگا دیا
ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو
روانگی سےقبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا
وزیر نے کہا کہ
موسم بہت اچھا ہے
اور
اگلے کئی روز تک اِسی طرح رہےگا
بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی
جاری ہے 👇
امکان نہیں ہے
بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا
راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا
اُس نے کہا حضور
آپ کا اقبال بلند ہو
آپ اِس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟
بادشاہ نے کہا شکار پر
کمہار کہنے لگا
حضور
موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہونے
اور
بارش کے
جاری ہے 👇
امکانات بہت زیادہ ہیں
بادشاہ نے کہا
ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے
تو کیا جانے موسم کیا ہے؟
میرے وزیر نے بتایا ہے کہ
موسم نہایت خوشگوار ہے
اور
شکار کے لیے بہت موزوں ہے
اور
تم کہہ رہے ہو کہ
بارش ہونے والی ہے؟
پھر بادشاہ نے ایک مصاحب کو حکم دیا
کہ
اِس بے پر کی
عرب میں ایک عورت "ام جعفر"بہت سخی تھی
لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی
کہ
دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے
وہ جس راستے سے گزرتی
اُس راستے پر دو اندھے بیٹھنا شروع ہو گئے
جب ام جعفر کی سواری گزرتی
وہ آواز سُن کر
صدائیں لگاتے
ایک کی صدا ہوتی
"الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے
جاری ہے 👇
روزی عطا کر
دوسرا اندھا کہتا
یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر
ام جعفر اُن دونوں کی صدائیں سنتی
اور
دونوں کو عطا کرتی
جو شخص اللّٰه کا فضل طلب کر رہا تھا
اُسے دو درہم دیتی
جبکہ
"ام جعفر" کے فضل کے طلبگار کو
ایک بھنی ہوئی مرغی دیتی
دلچسپ بات یہ ہے کہ
جاری ہے 👇
دونوں ایک دوسرے کو پوچھتے
"تم کو کیا ملا ؟
جسے مرغی ملتی
وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو
دو درہم میں بیچ دیتا
کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا
ایک دن ام جعفر اُس اندھے کے پاس آئی
جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا
اور
اُس سے سوال کیا
بعض لوگ
میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں
فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ
کہنا یہ چاہیے کہ
فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے اس لیئے کہ
قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے
حکم دونوں اللّٰه کے ہیں
معنی کا فرق ہے
جاری ہے 👇
قضا کا معنی
تقدیر الہی
نوشتہ تقدیر
فیصلہ
اتفاق یا حادثہ
جبکہ
رضا کا معنی
مرضی
خوشنودی
اور
خوشی
(فیروز اللغات فارسی)
لہذا
جب اللّٰه تعالی کسی کے بارے
فیصلہ نافذ کرتا ہے
اُس کو قضا کہتے ہیں
اور
جب کسی کام کی وجہ سےراضی ہوتا ہے
تب
اُس وقت بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے
جاری ہے👇
جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللّٰه اُن سے راضی اور وہ اللّٰه سے راضی
(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
بیشک اللّٰه راضی ہوا ایمان والوں سے
(الفتح 18)
ابھی ایک جگہ بیٹھا تھا تو ایک بندے
نے بات سنائی اچھی لگی تو آپ سے شئیر
کر رہا ہوں
بات ایسی ہے ہماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ہے
اکثر وہاں ناشتہ کرنے جاتے ہیں
کافی رش ہوتا ہے ناشتے والے کے پاس
میں نے کافی دفعہ مشاہدہ کیا
کہ
ایک شخص آتا ہے
اور
کھانا کھا کر
جاری ہے 👇
بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دئیے بغیر ہی
نکل جاتا ہے جھانسہ دے کر
ایک دن جب وہ کھانا کھا رہا تھا
تو
میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے
مالک کو بتا دیا
کہ
وہ والا بھائی ناشتہ کر کے بغیر بِل دئیے
رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ہے
آج یہ جانے نہ پائے..
جاری ہے 👇
اِس کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے آج
میری بات سُن کر ناشتے والا
مالک مُسکرانے لگ گیا
اور
کہنے لگا
کہ
اُسے نکلنے دو
کُچھ نہیں کہنا اُس کو
بعد میں بات کرتے ہیں
حسبِ معمول وہ بندہ ناشتہ کرنے کے بعد
اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا جھانسہ دے کر
چُپکے سے نکل گیا
میں نے ناشتہ والے
آج سے تقریباً ایک سال پہلے 24 فروری
کو میں نے ایک ٹیوٹ کیا تھا
ٹیوٹ تھا
"ایک ایسی حدیث بتاؤں گا جو ابھی
وجود میں نہیں آئ نہ کسی کتاب میں ہے"
لوگوں نے بہت برا بھلا کہا
لیکن جب اگلے دن 25 فروری کو میں نے
پورا تھریڈ لکھا تو جو خاندانی تھے
حلالی تھے انہوں نے برا بھلا کہنے
جاری ہے 👇
پر مجھ سے معزرت کی
اور جن کی نسل کا کوئ پتہ نہیں تھا وہ
انفالو کر کے بھاگ گئے
میں لکھتا ہوں اپنے فائیدہ کے لیئے
کیونکہ
میری بات پر کوئ اچھے رستہ پر
آگیا تو مجھے بھی فائیدہ ہوگا
پھر چاہے تحریر میری ہو یا کسی کی
مقصد صرف یہ اچھائ پھیلانا
دوبارہ وہی تھریڈ پیش خدمت ہے
جاری ہے 👇
آپ کو ایک ایسی
حدیثِ مُبارکہ سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں
جو حدیث کی کسی کتاب میں
موجود نہیں
اِسکے باوجود یہ حدیث
اُن لوگوں کو بھی ماننی ہو گی
جو حدیث کو دین کا لازم حصہ نہیں سمجھتے،
یہ اُن سُنیوں کے لیئے بھی معتبر رہے گی
جو شیعہ کُتبِ کی احادیث نہیں مانتے
اور وہ شیعہ
جاری ہے 👇