پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ کے مقاصد اور اصل اہداف کیا ہیں؟ آج کی تھریڈ میں ہم اس کا جائزہ لیں گے عوامی مارچ کا آغاز بلاول بھٹو کی قیادت میں کراچی سے ہوچکا ہے جو کہ مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا مختلف شہروں میں پڑاو کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے گا
1/15 #AwamiMarch
اس سیاسی مشق کو سمجھنے کیلئے ہمیں ماضی قریب کی سیاسی صورتحال دیکھنی پڑے گی زرداری صاحب نے اپنے دورِ صدارت میں تحریک انصاف کو پنجاب میں پنپنے اور پھلنے پھولنے کیلئے غیر اعلانیہ مدد کی کیونکہ ان کے خیال میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے سیاسی نظریات
2/15
ملتے جلتے ہیں اگر خان صاحب کو سیاسی طور پر مضبوط کیا جائے تو وہ رائیٹسٹ ووٹ بینک جو کہ بلا شرکت غیر نوازشریف کی ملکیت ہے کو تقسیم کریں گے تو پیپلزپارٹی جو کہ لیفٹسٹ ووٹ بینک کی نمائیندہ جماعت ہے کیلئے خوش آئیند ہوگا اس سوچ کے تحت زرداری صاحب نے
3/15
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ذریعے مدد فراہم کی اور تحریک انصاف کا پنجاب میں تنظیمی ڈھانچہ بنانے میں معاون رہے لیکن جب پاشا صاحب نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کا بیڑا اٹھا لیا تو زرداری صاحب کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ وہ اپنے طاقتور حریف نوازشریف کا سیاسی
4/15
کردار کم ہوتا دیکھ رہے تھا یاد رہے پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ ارکان کی اچھی خاصی تعداد جنوبی پنجاب اور دیہی پنجاب سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے منتخب ہو جایا کرتی تھی اب جبکہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت مل گی تھی تو زرداری صاحب کے مطابق
5/15
عمران خان مسلم لیگ ن کے ووٹ پر اثرانداز ہوں گے اور پرو ایسٹیبلشمنٹ اور مذہبی ووٹ میں سے اچھا خاصا حصہ لیں گے جس کا سیاسی نقصان نوازشریف کو ہوگا پیپلزپارٹی چونکہ اینٹی ایسٹیبلشمنٹ اور لبرل ووٹ کی نمائیندہ جماعت سمجھی جاتی تھی اس لئے زرداری صاحب کیلئے
6/15
یہ بات اطمینان کا باعث تھی کہ ان کے سپورٹر اور ووٹر ان کی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہیں گے آپکو یاد ہوگا شروع شروع میں نیازی صاحب صرف میاں برادران اور پنجاب حکومت کو ہدف تنقید بناتے تھے اور زرداری صاحب کے بارے ایک لفظ بھی زبان پر لانا گناہ سمجھتے تھے یہ سب ایک
7/15
زرداری نیازی غیراعلانیہ گٹھ جوڑ تھا اشرافیہ کی سرپرستی میں پی ٹی آئی ایک سیاسی طاقت بن کر ابھری لیکن اس کا سیاسی نقصان میاں صاحب کی بجائے زرداری صاحب کو ہوا کیونکہ خان صاحب نے جنوبی پنجاب خیبرپختونخواہ میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی تھیں اور پیپلزپارٹی کے
8/15
قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نمبرز کم ہوگئے خان صاحب لبرل ووٹ اور لوئر مڈل کلاس ووٹ لے اڑے جو کہ پہلے بلا شرکت غیر پیپلزپارٹی کی صندوق میں ڈلتا تھا اس طرح پیپلزپارٹی نہ صرف اسمبلیوں میں سکڑ گئی بلکہ پنجاب میں اسکا تنظیمی ڈھانچہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا
9/15
صورتحال یہ تھی کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں سینکڑوں یونین کونسل میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ہی نہیں تھے پیپلزپارٹی جوکہ پنجاب کی دوسری بڑی سیاسی جماعت اور میاں برادران کی طاقتور حریف مانی جاتی تھی اس کا پنجاب میں نام و نشان مٹنے لگا تو زرداری صاحب کو
10/15
اپنی سیاسی غلطی کا اندازہ ہوا تب سے پیپلزپارٹی پنجاب میں کم بیک کرنے میں کوشاں ہے حالیہ عوامی مارچ کا ایک مقصد پنجاب میں اپنی بقا کی جنگ بھی ہے چونکہ نیازی سرکار نے اپنے وعدوں اور دعوں کے برعکس عوام کو مایوس کیا ہے وہ خان صاحب سے منہ موڑ رہے ہیں تو اس
11/15
سیاسی صورتحال میں پیپلزپارٹی زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے وہ خان صاحب سے روٹھی عوام کا رخ اپنی طرف موڑنے کیلئے ایک شاندار سیاسی مشق کر رہی ہے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے مقتدر حلقوں پر واضح کر رہی کہ وہ اب بھی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے
12/15
بظاہر تو پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ کا ہدف نیازی سرکار کا خاتمہ ہیں لیکن دراصل وہ آئیندہ عام انتخابات میں اپنے نمبرز بڑھانے کیلئے نکلے ہیں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں سندھ میں اپنی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور
13/15
تحریک انصاف کی متوقع ٹوٹ پھوٹ میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہتے ہیں پیپلزپارٹی کا عوامی مارچ جب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگا تو وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی ماری بیچاری عوام کی بہت سی ہمدردیاں سمیٹ چکا ہوگا شاید زرداری صاحب خان صاحب کی غیراعلانیہ مدد کے
14/15
غلط سیاسی فیصلے کا ازالہ عوامی مارچ سے کررہے ہے اسکے ذریعے نیازی سرکار کو گھر بھیجنا ممکن نہ ہو لیکن پیپلزپارٹی بہت کچھ حاصل کرلے گی جو کہ وہ غلط فیصلے کی وجہ سے کھو چکی تھی اور شاید وہ ایک بار پھر پنجاب کی دوسری بڑی پارٹی بن جائے
15/15 #AwamiMarch
صابر محمود ہاشمی ایک سیاسی کارکن سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں اورگزشتہ دو ہفتوں سے نیازی سرکار نے انکو ناحق قید کیا ہواہے اور انکو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہےآجکی تھریڈ میں ہم نون لیگ کیلئے انکی خدمات قربانیوں مشکلات اور قائدین کے کردار کا احاطہ کریں گے
1/11
صابرہاشمی کو وزیراعظم کیخلاف بیہودہ ٹرینڈ چلانے کے جھوٹے الزام میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے حراست میں لیا تو مریم نواز نے پارٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کے ایک کریمنل لاز کےماہر وکیل کواپنےکارکن کی قانونی امداد کیلئے مقرر کیاجو کہ ایک قابل تحسین قدم ہے
2/11
طلال چوہدری صاحب گرفتاری کی رات اظہار یکجہتی کیلئے پولیس سٹیشن گئے عظمی بخاری اور شاہد خاقان عباسی نے مین سٹریم میڈیا پر انکے لئے آواز اٹھائی سوشل میڈیا ٹیم نے ٹویٹر ٹرینڈ کے ذریعے ہائبرڈ حکومت کی بزدلانہ اقدام کی مذمت کی اور رہائی کیلئے آواز اٹھائی گی
3/11
جب سے خان صاحب اپنے سرپرست کے دست شفقت سے محروم ہوئے ہیں پاکستانی سیاست میں گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے بہت سی ملاقاتوں کے بعد اپوزیشن میاں صاحب کو پنجاب کی وزرات اعلیٰ چوہدری برادران کو دینے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے 1/20
یہ نیازی سرکار کے سابق سرپرست کا بلاواسطہ مطالبہ ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے نکات ہیں جس پر طرفین میں کافی حد تک اتفاق ہوچکا ہے لیکن "وزارتِ اعلیٰ" پر کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا کیونکہ پنجاب سیاسی طور پر بہت اہمیت کا حامل صوبہ ہے 2/20
اگر ہم پنجاب کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ یہ صوبہ مقتدر قوتوں کے ہم خیال سیاستدانوں کی سرزمین رہی ہے اور قبل از اور بعد از قیام پاکستان یہاں سے اشرافیہ کے حمایتی الیکشن میں کامیاب ہوتےرہےہیں جوکہ ایسٹیبلشمنٹ کی رٹ قائم رکھنے3/20
آجکل عدم اعتماد کا بازار گرم ہے سبکی نظریں نوازشریف کی طرف لگی ہوئی ہیں سب عمران خان کو وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اس نے ہر طرح سے عوام اور پاکستان کا بیڑاغرق کردیا ہے سیاسی اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کے سربراہوں اور وفود کی ایک دوسرے سے ملاقاتوں
1/12
میں عدم اعتماد ہی زیرِ بحث ہے اور اس کو ممکن بنانے کیلئے حکمت عملی ہورہی ہے عوام الناس، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکن بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آراء دے رہے ہیں جہاں کچھ لوگ جلد از جلد عدم اعتماد لانے کے حق میں ہیں تو کچھ اسکی مخالفت میں بھی دلائل دے
2/12
رہے ہیں ایسے میں میرا بھی ایک نقطہ نظر ہے جس کو بیان کرنے کیلئے میں یہ. تھریڈ لکھ رہا ہوں جب نوازشریف کیخلاف پانامہ لیکس کے ذریعے سازش کی جارہی تھی تب بھی مجھ سمیت کچھ لوگوں کو آئی ایس پی آر نے میڈیا ٹالک میں تصویریں دکھا کر غدار کہا گیا تھا شاید آئندہ
3/12
آزادی کشمیر کیلئے ایک غدار تھریڈ
گزشتہ چھ سات سالوں میں نوازشریف کیخلاف الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاص حکمت عملی کے تحت بہت شدت سے مہم جوئی کی گئی کہ نوازشریف مودی کا یار ہے اس کی فیکٹریوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کام کرتے ہیں 1/20
شریف فیملی کی بھارت میں فیکٹریاں ہیں اور ان کے بھارت میں کاروباری مفادات ہیں اور طرح طرح کی باتیں کرکے نوازشریف کی محب الوطنی کو مشکوک کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں یہ بے بنیاد پراپیگنڈا منظم انداز سے اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا 2/20
بین الاقوامی طاقتیں نوازشریف سے ناخوش تھیں کیونکہ انکی زیرقیادت پاکستان گیم چینجر منصوبہ سی پیک کا حصہ تھا اور دنیا میں طاقت کا توازن بدلنے کیلئے اہم کردار ادا کررہا تھا جہاں گوادر بندرگاہ کی کامیابی سے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ دبئی کو خدشات لاحق تھے 3/20
پاکستان میں تبدیلی سرکار کی تبدیلی ناگزیر ہوگی ہے طبل جنگ بجا دیا گیا ہے
گزشتہ ماہ جنوب مشرقی ایشیا کے سیاسی منظرنامہ میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان میں نمایاں تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں
آئیں اس چند ٹویٹ پر مبنی تھریڈ میں جائزہ لیتے ہیں
+ 1 +
🔸 چین کا لداخ کے اندر گھس جانا اور وادی گلوان پر قبضہ و دعویٰ ملکیت کردینا
🔹نیپال کا آئینی ترمیم کے ذریعے بھارتی زیر قبضہ علاقوں کو اپنے نقشہ میں شامل کرنا
🔸بھوٹان کا اپنے ندی نالوں کا بھارت کو جانے والا پانی روک دینا
+ 2 +
🔹چین کا واضح جارحانہ دو ٹوک انداز میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کو ہانگ کانگ سے دور رہنے کا کہنا
🔸چینی وزارت خارجہ کا شہبازشریف کو کورونا انفیکٹد ہونے پر فون اور علاج معالجہ کی پیشکش
+ 3 +