#Temple #Kashmir
مرتند سورج مندر (اننت ناگ، سرینگر کشمیر)
Martand Sun Temple (Anantnag, Kashmir)___8th AD
اننت ناگ (بھارتی کشمیر) میں واقع مرتند سورج مندر جو آٹھویں صدی کی سناتنی تہذیب (Sanatani Civilization) کاگڑھ تھا، کو وادئ کشمیرکی ٹاپ پر تعمیر کیاگیا جوکلاسک کشمیری طرزِتعمیر
کا نمونہ تھا۔
سورج مندر کی وجہ شہرت اس کا گندھارا، گپت اور چینی طرزتعمیر کا کلاسک اورجاذب نظر امتزاج ھے۔
یہ ھندو مندر سوریادیو (Suryadev) کے نام سے منسوب تھاجسے "مرتند" کہا جاتا تھا۔ سناتنی تہذیب دراصل ایک ایساھندو عقیدہ (Hindi Cult)تھا جنکی تعلیمات (Teachings) خالصتاً بھگوت گیتا
رامائن، اپنشد، رگ وید سے مشروط تھیں گویا اس عقیدے کی بنیاد ہی قدیم مذہبی کتب کی تحریروں پرمشتمل تھی۔
سورج مندر کو 15ویں صدی میں اسلام کے نام پر ایک صوفی تبلیغ کار محمد حمدانی کے کہنےپر کشمیری سلطان اسکندرشاہ میر نے تباہ کر دیاتھا۔
باقی ماندہ مندر زلزلوں اوروقت کی دھول سےمتاثرھوا۔
مستطیل نما مندر جس کے شروع میں ہی ایک بنیادی مقبرہ ھے جس کی پشت پر صحن ھے۔
بنیادی مقبرے کے اردگرد 84 مقبرے قائم ہیں۔ مندر 220 فٹ لمبا اور 142 فٹ چوڑا ھے۔ بعد میں تعمیر شدہ مندر اصل مندر کی نسبت بہت چھوٹا ھے۔
مندر کا ابتدائی مقبرہ اہرامی شکل کا ھے۔
بے شک وادی کشمیراسوقت گھمبیر اور
مشکل حالات سے دوبار ھے مگر پھر بھی 9 مئی کو یہاں "Navgrah Ashtamangalam Pooja" ادا کی گئیں جس میں گورنر منوج سنہا نے شرکت کی۔
بہت سے حکمرانوں اور Indian Archeological Survey نے اس مندر کی تاریخی شان و شوکت کو بحال اور اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
سورج مندر اننت ناگ عالمی ورثے اور #یونیسکو سائیٹ کا باقائدہ حصہ ھے۔
#Cosmology
#Philosophy
#HistoryBuff
جارڈینو برونو (Giordano Bruno)
1548-1600
پاکستان میں "Giordano" کےنام سےگردش کرتاایک مشہور اورمہنگابرینڈ جوایک اطالوی(Italian)شاعر اورماہرعلم الکائنات (Cosmologist)پر مبنی ھے جسے1600میں اپنےان نظریات کی بنا پرہجوم کےدرمیان زندہ جلادیاگیاجوصدیوں
بعد من و عن درست ثابت ھوئے۔
جارڈینو بنیادی طور پر ایک کیتھولک راہب (Catholic Monk) تھا۔ دنیاؤں کے بارے میں سوالات کرنے سے نہ رکنے پر اسےبہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ جارڈینو نے ایک سے زیادہ دنیاؤں کافلسفہ پیش کیا۔
اس کا کہنا تھا؛
"خلا کی کوئی حد نہیں، ستارے جو رت کوچمکتے ہیں دراصل
چھوٹے سورج ہیں اوریہ مختلف سیاروں کے گرد گردش کرتےہیں، یہ لامتناہی دنیالامتناہی خدا سےجوڑتی ھے یعنی ایک 'خدا' (Almighty/Creator) ضرور ھے جو انسانی اصولوں سے بہت عظیم ھے"
ان نظریات کوچرچ ہادریوں نے خطرناک قرار دیا مگرجارڈینو نے اسے واپس لینے سےانکار کیا۔
اپنےانہی نظریات کی بناء پر
#ancient
#religions
مندائی مذہب (Mandaeism)
فلسطین سےجنم لینےوالا پہلی صدی قبل مسیح کا ایک ایسامذہب جس میں عیسٰی(علیہ السلام) کو "Christ the Liar" تسلیم کیا مجاتاھے اور "John" کو اپناپیغمبر۔
فلسطین سےمیسوپوٹیمیا (قدیم عراق)و بابل (قدیم ایران) سفرکرنے والا مذہب جس کےآج دنیابھر میں
کم وبیش 1یک لاکھ کےقریب پیروکارہیں، خود کو"Knowledge of Light"کہتاھےجس کابنیادی عقیدہ روشنی اوراندھیرے(Light and Darkness) کے مابین تمیزھے۔
پانی کویہ نہایت مقدس گردانتےہیں۔
ان کاماننا ھےکہ دنیا دوحصوں میں منقسم ھے: ایک روشنی کی دنیاجو "حی ربی" پرمشتمل ھےدوسری اندھیراجوبصورت ارواح
اجسام میں قیدھوتی ھے۔
یہ اپنےمذہب کو "Religion of Light" سے متعارف کرواتے ہیں۔ یہ مذہب اپنی زبان یعنی زیادہ ترعربی اور اعرامی ، اپنا رسم الخط یعنی گنزا ربا (Ginza Rabba) رکھتاھے جو بابلی تلمود (Babylonian Talmud)و عکادین (میخی ،Akkadian/Conical ) سےخاصاملتا جلتاھے۔
اگرچہ منڈی ازم
#Pakistan
#cities
#History
سرگودھا (Sargodha)
شہرسرگودھا کا قدیم سنسکرتی نام "سورگودھم" (Savergodhama) سےملتاجلتا ھےجس کےمعانی 'حیرت انگیز رہائش" کے ہیں۔
لیکن متفقہ روایت میں ھے کہ "سر" کے مقامی لفظی معانی "جھیل" جبکہ "گودھا" اس طاقتور ھندؤسادھو کانام تھاجو اس علاقےپر قابض تھااور
سرگودھا انہی دو الفاظ کامرکب بنا۔
1850میں جہاں آج کل گول مسجدھے،ایک تالاب ھواکرتا تھاجس پرگودھاھندؤ قابض تھا، جسےپاکستان بننےکےبعدبھی "گول کھوہ" کہاجاتارہا۔
سرگودھاشہرکاماسٹر پلان 1903 میں لیڈی ٹروپر (Lady Trooper) نے دیا تھا۔
1940 سے ضلعی ہیڈ کوارٹر ھونےکی وجہ سےسرگودھا کو1960
میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کادرجہ دیاگیا تھا۔
تقسیم کے وقت یہ علاقہ مسلم لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔ 1946 کےانتخابات میں بابائےقوم محمد علی جناح نے2 دفعہ سرگودھاکا دورہ کیا۔
سرگودھامیں پنجابی ثقافت کی چکی چل رہی ھے۔
اپنی جغرافیائی اہمیت کےپیش نظربہت جلد آبادی بڑھتی گئی اسی اہمیت کو
#Pakistan
#cities
#History
ڈیرہ غازی خان (Dera Ghazi Khan)
نام سےہی عیاں ھے کہ "غازیوں کا ڈیرہ"
دریائےسندھ کے سیلابی میدان میں واقع پنجاب کےاس قصبےکی بنیادپندرہویں صدی میں غازی خان میرانی نےرکھی تھی جوایک بلوچ سردارکےبیٹے اورملتان کے لانگاہ سلطانوں کےولی تھے۔
15ویں صدی میں پگل کے
ایک طاقتوربھاٹی راجپوت حکمران راؤ کیلانہ نےڈیرہ غازی خان پر حملہ کیااوربلوچوں کوشکست دی۔ ڈیرہ غازی خان 16ویں اور18رویں صدی کےدرمیان مغلیہ سلطنت کےصوبہ ملتان کاحصہ تھا۔
میرانیوں کی 15نسلوں نے(تقریبا 200 سال) اس علاقےپر حکومت کی۔ ان دنوں ڈیرہ غازی خان کےقریب کھیلوں کی بھرمارتھی اور
میدان سرسبز تھے۔ دریائےسندھ کے ذریعہ فراہم کردہ باغات اور کستوری نہر کی وجہ سےاس وقت اسے "ڈیرہ پھلاں دا سہرا" کے نام سےجانا جاتاتھا۔
1739ءمیں نادر شاہ نے حملہ کیا۔ 1747ءمیں نادر شاہ کےقتل پر اس پر احمدشاہ ابدالی قابض ھوا۔ 1819ء میں راجا رنجیت سنگھ کاقبضہ ھوا۔ 1849ءمیں انگریزوں کا
#Pakistan
#cities
#History
سیالکوٹ (Sialkot)
دریائےچناب کےقریب واقع شہر اقبال و فیض کا ایک دلچسپ رخ
کھیلوں کااسہر سیالکوٹ قدیم ھندوستانی مقدس رزمیہ کتاب "مہابھارت" کا عنوان "مدرا بادشاہت" (Madra Kingdom)کاپایہ تخت ھوا کرتا تھا۔ یونانی کتب میں اس خطےکے باسیوں کو"Sagala"یا "Sakala"
سےلکھاگیا ھےجسےوسط ایشیائی ساکا یا Scynthians نے آباد کیاھو گاجو برصغیر میں ہجرت کر گئےتھے۔
مہابھارت اس خطےکو "ڈھیلے اور بچھائی خواتین" کے مرکز کے طور پر دہراتی ھے۔
سیالکوٹ شروع سے ہی برصغیر کےاہم صنعتی شہروں میں سےایک تھا۔ گزرتے وقت کیساتھ ساتھ سیالکوٹ کی بنیاد راجہ سل(King Sul)
نے رکھی اور بعد میں اس کی تعمیر نو راجہ سالیواہیان (Raja Salivahian) نے کی۔
اس نے شہر میں ایک قلعہ بھی تعمیرکروایا، اس طرح اس شہر کوسیال+کوٹ کانام دیا گیا جس کامطلب ھے "فورٹ آف سیا" (Fort of Sia).
بعد از تقسیم سیالکوٹ کی مسلم آبادی نےمسلم لیگ اور محمد علی جناح کی حمایت کی اور بہت
#Pakistan
#cities
#History
فیصل آباد (Faisalabad)
یونین جیک کی طرز پر بنا ھواپاکستان کا مانچسٹر شہر 1892میں لیفٹیننٹ گورنر جیمز براڈوڈ لائل نے دریافت کیا اور اسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
اس سے قبل یہاں دیہاتی اکثریت تھی جنہیں "جانگلی" کہا جاتاتھا۔ لائل پور سےقبل اسے ساندل بار
کہاجاتا تھاجس کےبارے میں روایت ھےکہ پنجابی ہیرو دلانھٹی کے دادا کانام بجلی خان عرف ساندل تھا۔
پاکستان کا تیسرابڑا شہر اوائل میں پانچ تحصیلوں ضلع فیصل آباد،سمندری، تاندلیانوالہ، جڑانوالہ اورچک جھمرہ پر مشتمل تھا۔ اس شہرکی اصل ترقی سرجیمز لائل کےدورمیں ھوئی۔
لائل پور کے کالونائزیشن
آفیسر سر کیپٹن پونام ینگ نے یونین جیک کی طرز پر سوڈان کےدارالحکومت خرطوم کانقشہ لائلپور کیلئے بنایا۔
6سال کےعرصے میں بننےوالے آتھ بازاروں کےوسط میں کھڑےگھنٹہ گھر کی تعمیر انگریز آرکیٹیکچر کاایک نادر نمونہ ھے جسکی تعمیر تاج محل آگرہ بنانے والے معماروں کے خاندان کے ایک شخص گلاب خان