#RockCut #architecture #sichuan
دیوقامت لیشن بدھا (لیشن، چین)
Leshan Giant Buddha(Near Min, Qingyi and Dadu River, Leshan City)
Circa: 8th C.
آنکھیں موندے اوربارعب اندازمیں بیٹھےبرلب دریائےمن، چنگی اور دادو، صوبہ سیچوان(چین)میں واقع لیشان بدھاکا 71 میٹر(233 فٹ) اونچادیوہیکل مجسمہ
جو 1940 میں دریافت ھوا، چٹانی طرزتعمیر کی حیران کن مثال ھے۔
ہائی ٹونگ نامی ایک راہب تھا جس نے اس منصوبے کا آغاز کیا تھا۔اسکی فکر ان دیرینہ لوگوں کی حفاظت کیلیے تھی جو تین دریاؤں کے سنگم کے آس پاس اپنی روزی کماتے تھے۔ ٹونگ کاماننا تھاکہ بدھاپانی کی روح کوقابو میں لائیں گے۔
20 سال
کی بھیک مانگنے کے بعد، آخر کار اس نے اس منصوبے کے لیے کافی رقم جمع کر لی۔ ٹونگ کی وفات کے بعد اس کے دو شاگردوں نے اس مجسمے کو مکمل کروایا۔
بدھا کامقام عام طور پر واٹر لائن سے اوپر ھے لیکن یہ علاقہ 70سالوں میں بدترین سیلاب کی زد میں آیا ھے۔
بدھا کہ ہیت (Structure) کو زیرقلم لائیں
تو بدھا کی انگلیاں 8.3 میٹر لمبی (تقریباً 27 فٹ) ہیں۔ 9 میٹر چوڑا (تقریباً 30 فٹ) قدم اتنا بڑا ھے کہ 100 لوگ بیٹھ سکتےہیں اور 24میٹر چوڑا (تقریباً 79 فٹ) کندھا اتنا بڑا ھےکہ کھیل کا میدان معلوم ھوتا ھے۔
اس مجسمے کوتراشنے میں 90 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔
تینگ خاندان (Tang Dynasty)
کےعہدمیں 713میں شروع ھوا اور803میں مکمل ھوا۔
اس دوران ہزاروں کارکنوں نےاس منصوبےپراپنی کوششیں، محنتیں اورحکمتیں صرف کیں۔
دنیاکےمنفرداوربہترین تراشیدہ پتھرکےبدھاکوچینی شاعری گیت اورکہانی میں نمایاں جگہ دی گئی۔دسمبر1996میں مجسمےکو #یونیسکو کی کی فہرست میں شامل کیا۔ #UNESCO #History
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
#ancient
#History
آبنائے جبرالٹر (اسپین_مراکش)
Gibraltar Strait (#Spain and #Morocco)
آبنائے (Strait) یعنی خشکی کے دو ٹکڑوں کے مابین آبی گزرگاہ
تقریبا 5 ملین سال قبل، 14 کلومیٹر لمبا "آبنائے جبرالٹر"جس کاقدیم نام "Pillars of Heracles" ھے،یہ سپین اورمراکش کی درمیانی آبی گزرگاہ ھے۔
اسپین پر 711کےموریش حملے (Morrocan Invasion)میں اہم ترین تھا۔ یورپی طاقتوں کیلیےایک اہم، بھاری مقابلہ کرنےوالا اسٹریٹجک اڈہ بن گیا۔
دوبراعظموں یورپ اور افریقہ کوملانےوالےاس آبی راستے پر کوئی پل کیوں نہ بنایاجاسکا؟
یہ ایک دلچسپ سوال ھےجس کاجواب ھے کہ یہان پانی کی گہرائی900میٹر ھے۔
اگریہاں پل تعمیر کیا جائےتو ان کو سنبھالنے کیلئے مضبوط دھاروں (Currents)کا طریقہ ابھی تک ایجاد نہیں ھوا لیکن حال ہی میں ایک بنگالی غوطہ خور نےان مضبوط دھاروں اورگہرائی کوعبورکرکےایک بڑی انسانی آبی کامیابی حاصل کی ھے۔
کوئی شک نہیں کہ یہ آبی راستہ ایک بنیادی اوراھم تاریخی جغرافیائی
#magnificent
#EducationMatters
صادق پبلک سکول (بہاولپور)
Sadiq Public School (#Bahawalpur)
A Royal Legacy
ایشیاء کا سب سےبڑا سکول
1953میں بہاولپور کےنواب صادق محمد خان عباسی چہارم کےنام پر تعمیر کیا گیا "صادق پبلک سکول" (SPS)، جسے نواب صادق نے ہی تعمیر کیا، 450سے زائد ایکٹر رقبے
پر پھیلا ایشیاء کا سب سےبڑا سکول ھے۔
صادق پبلک سکول کی تعمیر کے تمام اخراجات خود نواب صاحب نے اٹھائے۔ اس وقت کے چیف منسٹر مخدوم زادہ حسن محمود نے اس پروجیکٹ کو اپنی نگرانی میں سپروائز کیا
سکول کا افتتاح7 اساتذہ اور صرف 37طلباء کی موجودگی میں خود نواب صادق نے 18 جنوری 1954 کو کیا۔
سکول کا ابتدائی سٹرکچر 2 بورڈنگ ہاؤسز، 5 سٹاف رومز، بنیادی اکیڈمی بلاک پر مشتمل تھا۔ سکول کے پہلے پرنسپل خان انور سکندرخان تھے۔
سکول کو 1966 میں انٹرمیڈیٹ اور 1994 میں کیمبرج A Level کا درجہ دیا گیا۔
ہر سال طلباء کی بڑھتی تعداد نے سکول کو استحکام بخشا، متخیر حصرات نے سکول کو فنڈز
#Sikhs
#Punjab
#architecture
حویلی سوجن سنگھ (راولپنڈی)
Haveli Sujan Singh (Rawalpindi, #Pakistan)___1893ء
شہر راولپنڈی میں اپنےتاریخی ماضی اور ورثےکے بارےمیں بتنےکیلئےبہت کچھ ھےجیسے تقریبا132سال قبل اپنے وقت کےسب سےشاندار فن تعمیر اورسکھ ورثہ حویلی رائے بہادر سوجن سنگھ۔
حویلی کو
رائے بہادر سوجن سنگھ نے1893میں اپنےخاندان کی رہائش گاہ کےطور پر بنایاتھا۔ وہ اپنے دور کی ایک ممتاز شخصیت اور راولپنڈی کے ایک امیر تاجر تھےجن کا لکڑی کاکاروبار پھل پھول رہاتھا۔ وہ فن تعمیر اور ڈیزائن کامنفرد احساس رکھتے تھے لیکن یہ گھرصرف ایک حویلی نہ تھی بلکہ ایک زندہ میوزیم تھا۔
حویلی کا احاطہ رقبہ 24,000 مربع فٹ (2,230 مربع میٹر) چار منزلوں پر پھیلا ھوا ھے جو میں 45 کمروں پر مشتمل ھے جو کبھی شام کو بڑے بڑے چراغوں اور فانوسوں سے روشن ھوتے تھے۔
اور میوزیم ایسے کہ حویلی کوخاص طور پر رائے بہادر کے خاندان کی تصاویر، نوادرات، وکٹورین فرنیچر سے سجایاگیاتھا اور
#Iran
#Pakistan
#FactsMatter
رضا پہلوی (Reza Pahlavii) 1960- to yet
1979میں ایرانی انقلاب کے آنےسےوھاں کنگ محمد پہلوی کی بادشاہت کااختتام ھوا اور روح اللہ خامنہ ای کےتحت ماڈرن مگرشرعی ایران کی بنیادرکھی گئی۔
رضاپہلوی اسی آخری ایرانی بادشاہ کےجلاوطن کیےگئےولی عہداور امریکہ نوازہیں
جو آج کل ایران-امریکہ جنگ کی وجہ سےدوبارہ سرگرم ھوچکےہیں۔
جس "Regime Change"کی بازگشت دنیا اس وقت سن رہی ھےوہ اسی بادشاہت اوراپنےایجنٹ کودوبارہ مسنداقتدار پربٹھانےکی گیم ھےتاکہ ایران میں جمہوریت ختم کرکےاپناایجنٹ تعینات کیاجائے۔
یہی تجربہ مغرب پوری شدت سے پاکستان میں یہودی پروڈکٹ
"عمران خان" کی صورت میں بھی کرچکا تاکہ اپنے ایجنٹ کے تحت واحداسلامی ریاست کویرغمال بنایاجاسکے مگر اسےمنہ کی کھانی پڑی۔طالبان سےہرصورت ڈائیلاگ، ملک ڈیفالٹ کیلئےIMFکو خط، فوج کوبغاوت پر اکسانا، PTI بیرون ملک سےآپریٹ ھونا،بیرونی فنڈنگ، 356بےنامی اکاؤنٹس، برطانوی کلبس، کینسر ہسپتال،
#Muslims
#Scientist
الہیزان ابن الہیثم (Alhezan Ibn Alhaytham)
965-1040
سائنس تو ایجاد ہی مغرب کی ھےاسی لئےمغرب نےکیمرے کاموجد بھی فرانسیسی جوزف نی اپس (Joseph Nièpcè/1826)کو جبرا منوابھی لیا مگریہ غلط ھے۔
آج جو ماڈرن کیمرہ جگہ جگہ دکھائی دیتاھے درحقیقت جوزف سے 1000سال قبل اسلامی
گولڈن عہدکےمسلمان ماہر طب، فلکیات، ریاضی دان ابن الہیثم نے ایجاد کیاتھا۔ اپ کا تعلق بصرہ (عراق) سےتھا۔
لفظ کیمرہ بھی سب سےپہلے ابن الہیثم نے ہی اپنی کتاب "کتاب المناظر" میں متعارف کروایاتھا۔
دن رات روشنی کی حرکت پرمسلسل محو تجربات ابن الہیثم نےجب کمرہ تاریک کرکے ایک سوراخ بنایاتو
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ باہر کا منظر اس چھید سے الٹا گزر دیوار پر واضح نظر آنے لگا۔
اس چھوٹےسےسوراخ نے ابن الہیثم پر ہی نہیں بلکہ دنیاپر بڑےبڑے افق کھولے۔
ابن الہیثم نےاپنےاس تجربے کو "Camera Obscurà" کانام دیا۔ اگر وہ یہ تجربہ نہ کرتاتو آج دنیا کےہاتھ میں یہ کیمرہ نہ ھوتا۔
#Cosmology
#Philosophy
#HistoryBuff
جارڈینو برونو (Giordano Bruno)
1548-1600
پاکستان میں "Giordano" کےنام سےگردش کرتاایک مشہور اورمہنگابرینڈ جوایک اطالوی(Italian)شاعر اورماہرعلم الکائنات (Cosmologist)پر مبنی ھے جسے1600میں اپنےان نظریات کی بنا پرہجوم کےدرمیان زندہ جلادیاگیاجوصدیوں
بعد من و عن درست ثابت ھوئے۔
جارڈینو بنیادی طور پر ایک کیتھولک راہب (Catholic Monk) تھا۔ دنیاؤں کے بارے میں سوالات کرنے سے نہ رکنے پر اسےبہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ جارڈینو نے ایک سے زیادہ دنیاؤں کافلسفہ پیش کیا۔
اس کا کہنا تھا؛
"خلا کی کوئی حد نہیں، ستارے جو رت کوچمکتے ہیں دراصل
چھوٹے سورج ہیں اوریہ مختلف سیاروں کے گرد گردش کرتےہیں، یہ لامتناہی دنیالامتناہی خدا سےجوڑتی ھے یعنی ایک 'خدا' (Almighty/Creator) ضرور ھے جو انسانی اصولوں سے بہت عظیم ھے"
ان نظریات کوچرچ ہادریوں نے خطرناک قرار دیا مگرجارڈینو نے اسے واپس لینے سےانکار کیا۔
اپنےانہی نظریات کی بناء پر