My Authors
Read all threads
کہتے ہیں کہ ایک سوداگر بچہ تجارت کی غرض سے کسی شہر میں گیا۔ جاتے وقت لوگوں نے اس کو آگاہ کر دیا تھا کہ جہاں جا رہے ہو وہاں کے لوگ انتہائی جھگڑالو اور شرپسند ہیں ان سے ہوشیار رہنا۔ سوداگر بچے نے اس شہر میں پہنچ کر ایک سرائے میں قیام کیا اور چند دنوں کے لئے ایک ملازم بھی رکھ لیا۔
اگلے دن ایک کانے آدمی نے سوداگر بچے سے آ کر کہا کہ غالباً آپ کے والد کا انتقال ہو گیا ہے شاید اسی وجہ سے آپ خود یہاں تشریف لائے ہیں؟ وہ بیچارے جب بھی یہاں تشریف لاتے تو اسی سرائے میں قیام کرتے تھے۔ سوداگر بچہ اس کانے شخص کی باتوں سے سمجھ گیا کہ اب یہ کوئی دغا بازی کرنے والا ہے
اس لئے وہ ہوشیار ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد کانے نے کہا۔ آپ کے والد آنکھوں کی تجارت کرتے تھے۔ ان کے پاس میں نے اپنی ایک آنکھ گروی رکھ کر کچھ روپے  لئے تھے اب آپ وہ روپے لے کر میری آنکھ واپس کر دیجئے۔ سوداگر بچہ یہ سن کر بہت گھبرایا اور اس کانے کو کل کا وعدہ کر کے اس وقت تو ٹال دیا۔
اگلے دن جب آیا تو سوداگر بچہ اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔ اس نے کانے سے کہا کہ میرے پاس والد مرحوم کی گروی رکھی ہوئی سینکڑوں آنکھیں ہیں۔ میں رات بھر تمہاری آنکھ تلاش کرتا رہا لیکن نہ مل سکی۔ اب صرف یہی طریقہ ہے کہ تم دوسری آنکھ بھی مجھے دے دو
تاکہ میں اس کے ساتھ ملا کر تلاش کر لوں اور تمہیں دے دوں۔ اس کے علاوہ مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کہیں کسی دوسرے کی آنکھ بدل نہ جائے۔ کانے  نے جب یہ سنا تو سمجھ گیا کہ یہاں دال گلنا دشوار ہے۔ وہ سوداگر بچے سے اپنی جان چھڑوا کر وہاں سے رفوچکر ہو گیا۔
سوداگر بچہ جب اس شرپسند اور منافقوں کے شہر سے دلبرداشتہ ہو کر نکلنے لگا تو اس نے ملازم کو تنخواہ دینا چاہی۔ ملازم نے کہا کہ حضور نے ملازمت دیتے وقت کہا تھا کہ کچھ دیں گے، روپوں کا معاہدہ نہیں ہوا تھا اس لئے مجھے روپے نہیں بلکہ کچھ چاہئے۔ سوداگر بچہ سوچنے لگا
اور ایک ترکیب اس کے ذہن میں آ ہی گئی۔ اس نے ملازم کو بازار بھیج کر ٹال دیا اور اس روز کی پکی ہوئی مسور کی دال ایک کوزے میں بھری۔ پھر تھوڑی سی کالی مرچیں ڈال کر کوزے کو الماری میں رکھ دیا۔ ملازم جب واپس آیا تو سوداگر بچے نے کہا کہ دیکھو تو الماری میں کیا رکھا ہے؟
حضور اس میں دال ہے۔ سوداگر بچے نے کہا! اور کیا ہے؟ ملازم بولا۔ کالا کالا معلوم ہوتا ہے۔ سوداگر بچے نے کہا! کالا کالا کیا ہے؟ ملازم نے کہا! کچھ ہے۔ سوداگر بچے نے اسی وقت کہا! جس کچھ دینے کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا، وہ یہی ہے۔ تم اس کو لے لو اور اپنے گھر کا راستہ لو۔
اس وقت سے یہ مثل مشہور ہو گئی کہ دال میں کچھ کالا ہے.
ختم شد
____________________________________
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Enjoying this thread?

Keep Current with ندیّا اطہر

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just three indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!