بلوچ خواتین: وہ پاکستان کے سب سے کم ترقی یافتہ صوبے سے ہیں ، جہاں نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں خواتین کی دوران زچگی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اسکے باوجود وہ جراࣿت ، استقامت اور طاقت کی علامت کے طور پر اسطرح ابھری ہیں... #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence
جس کا تصور کچھ دہائیوں پہلے شاید کسی نے کیا ہو۔
بلوچ خواتین، ایک ایسے طویل تنازعہ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزی ہوتی آئی ہے ، وہ اپنی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی دیرینہ جدوجہد کا چہرہ بن کہ سامنے آئی ہیں۔
گمشدہ افراد کی رہائی کے لئے جدوجہد ہو یا یونیورسٹی کیمپس میں جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لئے ، بلوچ خواتین کو اپنے ہی صوبہ میں پائی جانے والی ناانصافیوں کی طرف عالمی توجہ دلانے کے لئے تمام تر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکام کی طرف سے توجہ نہ دینے کے باوجود ،
انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنے آئینی حقوق اور قانونی طریقہ کار پر عمل پیرا ہونے کی درخواست کرنے کے لئے کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد سے تربیت تک ہر جگہ اس طرح آواز اٹھائی ہے کہ وہ لوگ بھی سننے پہ مجبور ہوگئے جو سننا نہیں چاہتے۔
ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں، بیویوں کے روپ میں مردوں سے وابستہ ہونے کے ناطے ہو یا حقوق کیلئے متحرک انسان کے طور، ہم نے بلوچ خواتین کو اپنے پیاروں کے تابوتوں کا بوجھ بھی اٹھاتے دیکھا ہے: ایسی بے وقت اموات کے تابوت جو کبھی ریاستی تشدد کبھی دہشتگردوں یا کبھی پدرشاہانہ غرور کا نتیجہ ہیں۔
ایسی اموات کا بوجھ جو کسی کو برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ . کریمہ کی پراسرار موت ، اور شاہینہ کا شوہر کے ہاتھوں مبینہ قتل سے لے کہ ، ننھی برمش کا اپنی والدہ کو مجرموں کے ہاتھوں کھونے تک ، پچھلے سال یہی دیکھا گیا کہ بلوچ خواتین پر پدرشاہانہ تشدد کے واقعات میں اور اضافہ ہوا ہے۔
جیسے کہ عورت مارچ کا وقت قریب آرہا ہے ، ہم بلوچ خواتین سے محبت ❤️ کا اظہار کرتے ہیں اور انصاف اور مساوات کے لئے ان کی پر امن جدوجہد پر اظہار یکجہتی 🙏 کرتے ہیں!
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے زیادہ کمزور اور حساس ترین طبقہ ہیں ، اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں جس حد تک بچوں سے زیادتی عام ہے ہم بچوں کے تحفظ میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence#ChildProtection
بچوں کے ساتھ بدسلوکی بہت سی شکلیں لیتی ہے مثلاً جسمانی ، جنسی اور جذباتی ۔ بچوں سے جسمانی زیادتی میں بچوں کی مشقت، جبری مشقت اور بچوں کو مارنے (یا تشدد) کا عمل شامل ہیں جو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بڑوں کی جانب سے ان کو "تادیب" دینے کی آڑ میں عام ہے۔
جنسی زیادتی میں بچوں کی شادیوں سے لے کر بچوں کی فحش تصویریں یا وڈیو بنانا جنسی زیادتی ، ریپ اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم شامل ہیں۔ جذباتی طور پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی سب سے عام شکل ہے -اس میں زبانی زیادتی ، انہیں نظرانداز کرنے ، پیار کو روکنے ۔۔
Child abuse takes many forms, which can be broadly categorized as physical, sexual, & emotional. Physical child abuse includes child labour & hitting (or physically harming) children - which is a common practice employed by parents under the guise of "disciplining" them.
Sexual child abuse spans from child marriages to child pornography and sexual assault. Emotional child abuse, which is the most common form of child abuse globally, can refer to a wide range of behaviors such as verbal abuse, emotional neglect, withholding of affection...
They come from the most underdeveloped province of Pakistan, with the highest female mortality rate - not just in the country, but in the whole world. Yet they have emerged as epitomes of resilience, perseverance... #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence#SaluteBalochWomen
& strength, that no one would've imagined a few decades ago.
Baloch women, the victims & survivors of a long conflict that has resulted in all kinds of human rights violations, have through their activism become the face of a longstanding human rights struggle in Balochistan.
Be it the struggle for release of missing persons or an end to sexual harassment at university campuses, Baloch women have faced all hardships to bring global attention to the injustices that prevail in their homeland.
اسنے آپ کی شادی کا پیغام مسترد کردیا؟ اتنی ہمت اس گھٹیا عورت کی؟ وہ آپ کو جنسی تسکین دینے کو نا کہہ کے اپنے حق کا استعمال کرتی ہے؟ اوہ ، اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ آپ کی نازک مردانہ انا کو داغدار کردے! #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence#AcidAttacks
ایک عورت کو اپنے اس بھرم اور اعتماد پہ کہ اس کے جسم اور زندگی پر اسے کوئی حق حاصل ہے اسکی کڑی سزا ملتی ہے۔ پدرشاہی تشدد کے پاس ایک سے زیادہ ہتھیار موجود ہیں جن میں سے ایک ہتھیار تیزاب سے حملہ کرنا ہے۔
جس کا مقصد ہدف کو جسمانی طور پر تکلیف دینے اور جذباتی طور پر ہمیشہ کے لئے داغدار بنانا ہے۔
پچھلے ایک سال کے دوران ، ہم نے دیکھا ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی پر تیزاب صرف اس لئے پھینکا کہ اس نے اس مرد کی جانب سے غلاموں کی طرح کے سلوک کو قبول کرنے سے انکار کیا..
She rejected your proposal? What a bitch. She exercised her right to say no to your unsolicited sexual advances? Oh, how dare she tarnish your fragile male ego like this! #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence#AcidAttacks
She must be punished for having the audacity to believe that she has any rights over her body and life. And how will she be punished? Well, the patriarchy has multiple weapons to make it happen, one of which is the horrific phenomenon of acid attacks.
Acid attacks are among the most brutal and gruesome forms of patriarchal violence that aim to leave the target physically hurt and emotionally scarred forever.
During the last one year, we have seen men throwing acid on their wives for refusing to be treated like their slaves...
اس سال ہماری A-Z مہم پدرشاہی تشدد کے بارے میں ہے۔ ہم پدرشاہی تشدد کو زبانی ، جذباتی ، جسمانی ، جنسی اور معاشی تشدد کی مختلف شکلوں سے تعبیر کرتے ہیں جو خواتین ، غیر صنفی افراد اور خواجہ سراؤں کے خلاف برپا ہوتا ہے۔ #AuratMarch2021#AtoZofPatriarchalViolence#patriarchykapendamic
ہم سمجھتے ہیں کہ اجتماعی تشدد نظامی اور ساختی ہے ، اور معاشروں ، ثقافتوں ، اداروں اور ریاست کے توسط سے یہ پروان چڑھتا ہے۔ یہ تشدد اکثر سرمایہ داری ، منافرت ، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ لہذا ہم ان سب عوامل کے خاتمہ کو اپنی جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔۔
اور یقین کرتے ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جو ہماری جدوجہد کو ایک دوسرے سے منسلک اور باہم جڑی ہوئی بناتی ہے۔