"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻
ہوتی تھیں
بالکل ہوتی تھیں
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے طرز عمل سے اسے خاص و عام کیلئے آسان بنایا
شادیوں کے رسم و رواج پوری دنیا میں الگ الگ ہیں
اسلام جہاں بھی گیا اس نے مقامی تہذیب و ثقافت کی محض اصلاح کی
کہیں بھی کوئی ناروا روک ٹوک نہیں کی
ہمارا خطہ شادیوں کے🔻
لحاظ سے سب سے دلچسپ خطہ ہے
یہاں شادی بیاہ کی رسومات بہت زیادہ ہیں
شادیاں کئی کئی دنوں تک چلتی ہیں اور ان پہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے
خصوصاً پنجاب میں شادی کرنا کسی بڑے عذاب سے کم نہیں ہے
نارمل شادی بھی تین دن کی ہوتی ہے
مہندی،بارات اور ولیمہ جیسے تین🔻
فنکشن لازمی ہیں
جن پہ غریب سے غریب آدمی کا بھی پانچ ،چھ لاکھ روپیہ تو ضرور خرچ ہو جاتا ہے
زیادہ خرچہ لڑکی والوں کا ہوتا ہے
جنہیں اپنی بیٹی کو بھاری جہیز دینے کے علاؤہ بارات کو بہترین کھانا بھی کھلانا ہوتا ہے۔ اس کے علاؤہ پورے گھر والوں کے تین فنکشنوں کے کم از کم تین جوڑے تو 🔻
لازم ہوتے ہیں
اور عموماً یہ کپڑے بہت مہنگے خریدے جاتے ہیں
نمود و نمائش اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سب اپنی اوقات سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں
شادیاں مکمل ہونے کے چار چار سال بعد بھی قرضے اتار رہے ہوتے ہیں
لڑکے والوں کی طرف بھی عجیب رواج ہوتے ہیں
اس خاندان سے جڑے سب لوگوں کو کپڑے🔻
دینے پڑتے ہیں
شادیوں کی عمومی شاپنگ ہی لاکھوں سے شروع ہوتی ہے
پھر شادی ہالز اور ولیمے کا خرچہ وغیرہ
اب ساتھ ہنی مون جیسی علت بھی لگ گئی ہے
شادیوں پہ پیسے اڑانا ،آتش بازی اور لائٹنگ کرنا بھی معمول میں شامل ہے
قریبی رشتہ دار مہمان شادی شروع ہونے سے ایک دن پہلے پہنچ جاتے ہیں اور🔻
شادی ختم ہونے کے ایک دن بعد جاتے ہیں
ان شادیوں کا دلچسپ پہلو ان میں ہونے والی لڑائیاں اور ناراضگیاں ہیں
ایک دوسرے کے مخالف رشتہ دار عام طور پر شادی والے گھروں میں اکٹھے ہوتے ہیں
پھر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں
جو اکثر وجہ فساد بن جاتا ہے
دولہا ،دلہن کے خاندان کی🔻
بڑی ذمہ داری ان سب کو منا کر شادی کا وقت پاس کرنا بھی ہوتا ہے
خاص طور پر داماد اس موقعے پر اپنی اہمیت جتانے کیلئے بڑے لچ تلتے ہیں
امرا کے طبقے میں یہ سب تو نہیں ہوتا
مگر وہاں ناچ گانے کی محفلوں پر لاکھوں لٹا دئیے جاتے ہیں
مشہور گلوکار اور اداکار لائے جاتے ہیں
جو یقیناً بھاری🔻
معاوضہ وصول کرتے ہیں
یہ کلاس ٹیکس چوری بھی کرتی ہے اور ملازموں کا استحصال بھی
شادیوں پہ مگر خرچہ کرتے وقت تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں
اب کچھ سوالات میں یہاں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں:
ان سب رسومات اور فضولیات کا شادی سے کیا تعلق ہے ؟
کیا ان سب کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی ہے ؟ 🔻
شادی کا اصل مقصد تو نسل انسانی اور عائلی زندگی کی بقا ہے
اس کے ذریعے سے ایک خاندان کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور باہمی رشتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے
دین نے تو اسے بہت آسان بنایا ہے
ہم نے اتنا مشکل کیوں بنا لیا ؟؟
مسجد کی صورت میں ہر محلے میں ہمارے پاس کمیونٹی سنٹر موجود ہیں۔ وہیں پہ 🔻
نکاح کریں
مختصر دعوت دیں
اور شادی مکمل
ہم مگر چونکہ برائے نام مسلمان ہیں
اس لئے فضول خرچی کئے بغیر کوئی کام کر ہی نہیں سکتے
بھلے اس کے بعد کئی سال قرضہ اتارتے رہیں
میرے ایک زمین دار دوست نے شادی کیلئے بینک سے سات لاکھ قرض لیا
پھر زمین چھوٹے بھائی کے پاس گروی رکھی اور جو انیس🔻
سالوں بعد اسے واپس ملی جب اس کے بچے بھی جوان ہو چکے تھے
ایسی مثالیں ہزاروں ہیں
ان شادیوں کو دیکھ کر تو ہر گز نہیں لگتا کہ ہم کوئی غریب ملک ہیں
یا کہیں پر مہنگائی کا وجود بھی ہے
اب ایک دکھ بھرا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیں
لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد ہونے والی شادیوں میں سے آج کل کی🔻
شرح کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ ناکام ہو جاتی ہیں
صرف 2019 میں لاہور کی فیملی کورٹ میں 3400 سو خلع کے کیسز رجسٹر ہوئے
جو شادیاں نہیں چلتی ہیں
ان پہ طرفین نے جو بڑی رقمیں خرچ کی ہوتی ہیں وہ بھی ضائع جاتی ہیں
اور پھر کیسز پہ الگ خرچہ ہوتا ہے
یہی شادیاں اگر اللہ و رسول صلی اللہ 🔻
وآلہ وسلم کی مرضی کے مطابق سادگی سے کی جائیں تو ہر طرف سے خیر کا پہلو ہی نکلے گا
جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں ہم ایک منافق ترین معاشرہ ہیں
ہم دین کا نام بھی بوقت ضرورت یا مصیبت استعمال کرتے ہیں
دین کے جن احکامات پر ہم آسانی سے عمل کر سکتے ہیں
ان پر بھی نہیں کرتے
باتیں ایسے کریں 🔻
جیسے ہم سے بڑا پارسا کوئی ہے ہی نہیں
اور جو لوگ سادگی سے شادیاں کرتے ہیں
کیا ان کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ؟
ان کی نئی زندگی شروع نہیں ہوتی ؟
کیا وہ خوش نہیں رہتے ؟
میرا تجربہ ہے کہ زیادہ خوش رہتے ہیں
میں خود اس کا گواہ ہوں
میں نے اپنی شادی انتہائی سادگی سے کی
جہیز بالکل نہیں لیا🔻
اللہ نے چار بچوں سے نوازا
ضروریات زندگی کی ہر نعمت عطا کی
آئیڈل فیملی ہے
دو بیٹے ہیں
دو بیٹیاں ہیں
اب میں اپنی بڑی بیٹی کی شادی کرنا چاہ رہا ہوں
اور ان شاءاللہ انتہائی سادگی سے کروں گا
اللہ کی برکت یقیناً شامل حال ہو گی
دین ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے
مشکلیں ہم خود پیدا 🔻
کرتے ہیں
اور پھر روتے بھی رہتے ہیں
آپ شادی پہ ایک کروڑ خرچ نا کریں
ایک کروڑ سے بیس بچیوں کی شادیاں کروا دیں
آپ کی اولاد ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائے گی
ورنہ تو جو ہم کرتے ہیں
وہ شادیاں کم بربادیاں زیادہ ہیں
اللہ سب کو عمل کی توفیق دے !
آمین #میرا
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻
2004 میں سوات میں طالبان داخل ہوئے اور 2007 تک پورے سوات پر قبضہ کر لیا
اپنی خود ساختہ شریعت نافذ کرنے کے بعد قتل و غارتگری کا وہ بازار گرم کیا الامان الحفیظ !
وحشی درندوں کے مسلح جتھے گلیوں میں گشت کرتے اور معمولی مزاحمت پر ذبح کر ڈالتے
خوف و ہراس پھیلانے کیلئے لاشیں ایک چوک ⬇️
میں لا کر ڈال دیتے اور اوپر پرچی لکھ کر رکھ دیتے کہ کوئی اسے دفنائے گا نہیں !
ان "اسلامی مجاہدین" کو جس گھر کی جو لڑکی پسند آ جاتی اسے نکاح کی دعوت دیتے
اور انکار پہ اجتماعی آبرو ریزی کر ڈالتے
2004 سے 2009 تک دس ہزار سے زیادہ لوگ بیہمانہ طریقے سے قتل کر دئیے گئے
اور ایک ہزار⬇️
سے زیادہ لڑکیوں کو جبری طور پر بیویاں بنا لیا گیا
2009 میں آپریشن راہ نجات شروع ہونے تک سوات کے لوگ نا جانے کتنی ہی کربلاؤں سے گزر چکے تھے
کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں لاش نہ آئی ہو
ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر گئے
لگتا یوں تھا کہ کچھ دنوں تک طالبان اسلام آباد پہ قبضہ⬇️
"ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وکدے"
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایک منفرد اور عجیب و غریب ملک ہے
اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں چاروں موسم ،صحرا،پہاڑ،جنگل ،دریا،میدان،سمندر اور سطع مرتفع سب موجود ہے
پاکستان کے زمینی بارڈرز کی کل لمبائی 7307 کلومیٹرز ہے
جبکہ 1000⬇️
کلومیٹر سمندری ساحل الگ ہے
ہمارا سب سے لمبا بارڈر انڈیا کے ساتھ جو کہ 3320 کلومیٹرز ہے
افغانستان کے ساتھ2670 ،چائنہ کے ساتھ 559 جبکہ ایران کے ساتھ 958 کلومیٹرز ہے
ان میں سے سوائے چائنہ بارڈر کے باقی تمام بارڈرز غیر محفوظ ہیں
سب سے خطرناک افغان بارڈر
دوسرے نمبر پہ انڈیا اور ⬇️
تیسرے نمبر پہ ایران ہے
پاکستانی فورسز کی کل تعداد کچھ یوں ہے
آرمی : 11 لاکھ
بحریہ : 40000
آئر فورس: 78000
پیرا ملٹری فورس: 4,82000
11 لاکھ آرمی میں سے آدھی یعنی ساڑھے پانچ لاکھ مکمل فعال ہے
جبکہ باقی آدھی چھاؤنیوں میں موجود ریزور فورس ہے
یاد رہے اس ساڑھے پانچ لاکھ میں سے تین ⬇️