نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
جاتیں تو حضور دو چار قدم ساتھ چل کر انہیں روانہ کرتے
جب تک سیدہ نگاہوں سے اوجھل نا ہو جاتیں
مسکرا کر جاتا ہوئے دیکھتے رہتے
جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
: ہم نے فاطمہ سے زیادہ کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ نا دیکھا ان کے چلنے کا انداز بالکل آپ🔻
جیسا تھا"
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوقت وصال بیمار تھے تو سیدہ تشریف لائیں
جنابِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کے کان میں کوئی بات کہی جس سے وہ پہلے رونے اور پھر ہنسنے لگیں
بعد میں ہم نے فاطمہ سے پوچھا تو انہوں نے 🔻
بتایا کہ میں روئی اس لئے تھی کہ حضور نے مجھے اپنے وصال کا بتایا تھا
اور ہنسی اس لئے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ فاطمہ میرے اہل بیت میں سے آپ سب سے پہلے مجھ سے ملو گی
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدہ چھ ماہ حیات رہیں
آپ نے مکمل گوشہ نشینی اختیار فرمائی
ہمہ وقت عبادت🔻
میں مصروف رہتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں اشک بار رہتیں
صرف چھ ماہ بعد ہی آپ بھی خالق کائنات کی بارگاہ میں جا پہنچیں
اس کائنات نے ابتدائے آفرینش سے ابد تک
ایسا باپ دیکھا
نا ایسی بیٹی دیکھی
اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد!!
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻
2004 میں سوات میں طالبان داخل ہوئے اور 2007 تک پورے سوات پر قبضہ کر لیا
اپنی خود ساختہ شریعت نافذ کرنے کے بعد قتل و غارتگری کا وہ بازار گرم کیا الامان الحفیظ !
وحشی درندوں کے مسلح جتھے گلیوں میں گشت کرتے اور معمولی مزاحمت پر ذبح کر ڈالتے
خوف و ہراس پھیلانے کیلئے لاشیں ایک چوک ⬇️
میں لا کر ڈال دیتے اور اوپر پرچی لکھ کر رکھ دیتے کہ کوئی اسے دفنائے گا نہیں !
ان "اسلامی مجاہدین" کو جس گھر کی جو لڑکی پسند آ جاتی اسے نکاح کی دعوت دیتے
اور انکار پہ اجتماعی آبرو ریزی کر ڈالتے
2004 سے 2009 تک دس ہزار سے زیادہ لوگ بیہمانہ طریقے سے قتل کر دئیے گئے
اور ایک ہزار⬇️
سے زیادہ لڑکیوں کو جبری طور پر بیویاں بنا لیا گیا
2009 میں آپریشن راہ نجات شروع ہونے تک سوات کے لوگ نا جانے کتنی ہی کربلاؤں سے گزر چکے تھے
کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں لاش نہ آئی ہو
ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر گئے
لگتا یوں تھا کہ کچھ دنوں تک طالبان اسلام آباد پہ قبضہ⬇️
"ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وکدے"
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایک منفرد اور عجیب و غریب ملک ہے
اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں چاروں موسم ،صحرا،پہاڑ،جنگل ،دریا،میدان،سمندر اور سطع مرتفع سب موجود ہے
پاکستان کے زمینی بارڈرز کی کل لمبائی 7307 کلومیٹرز ہے
جبکہ 1000⬇️
کلومیٹر سمندری ساحل الگ ہے
ہمارا سب سے لمبا بارڈر انڈیا کے ساتھ جو کہ 3320 کلومیٹرز ہے
افغانستان کے ساتھ2670 ،چائنہ کے ساتھ 559 جبکہ ایران کے ساتھ 958 کلومیٹرز ہے
ان میں سے سوائے چائنہ بارڈر کے باقی تمام بارڈرز غیر محفوظ ہیں
سب سے خطرناک افغان بارڈر
دوسرے نمبر پہ انڈیا اور ⬇️
تیسرے نمبر پہ ایران ہے
پاکستانی فورسز کی کل تعداد کچھ یوں ہے
آرمی : 11 لاکھ
بحریہ : 40000
آئر فورس: 78000
پیرا ملٹری فورس: 4,82000
11 لاکھ آرمی میں سے آدھی یعنی ساڑھے پانچ لاکھ مکمل فعال ہے
جبکہ باقی آدھی چھاؤنیوں میں موجود ریزور فورس ہے
یاد رہے اس ساڑھے پانچ لاکھ میں سے تین ⬇️