"غمگسار رسول ﷺ"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اتنا زیادہ ذکر کرتے کہ ہمیں ان پہ رشک آتا، آپ ﷺ انہیں اکثر یاد کرتے اور ان کی باتیں سنایا کرتے تھے"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی⬇️
کی زندگی میں دو ہستیاں بہت اہم تھیں
ایک جناب ابو طالب علیہ السلام جبکہ دوسری جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا،
انہی دو ہستیوں کے بچھڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا سال غم منایا
امہات المومنین میں جو مقام جناب خدیجتہ الکبری کو حاصل ہے
وہ کسی اور کا نصیب نا بن سکا ⬇️
جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو ان کی نفاست اور پاکیزگی کی بنیاد پر "طاہرہ " کا لقب دیا گیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے چھ اولادیں ہوئیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اول ہونے کے بعد ان کا سب سے بڑا اعزاز سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ ⬇️
علیہا کی والدہ ہونا بھی ہے
تیسرا بڑا اعزاز مولا علی علیہ السلام کا بچپن آپ کی گود میں گزرنا ہے
دین اسلام اور نبوت کو اپنے آغاز سے سیدہ خدیجتہ الکبری کی مالی مدد اور سرپرستی ملی۔ آپ نے نا صرف یہ کہ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کیا بلکہ پہلی وحی سے لے وفات تک لمحہ بہ لمحہ حضور اکرم ⬇️
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا
اور ایسا دیا کہ حق ادا کر دیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کفار مکہ کے سلوک سے رنجیدہ ہوتے
آپ انہیں تسلی دیتیں
ان کی دلجوئی فرماتیں اور آپ کا مکمل خیال رکھتیں
پچیس سالہ رفاقت میں ایک لمحہ بھی ایسا نا آیا جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ⬇️
کو خدیجہ کی ضرورت پڑی ہو اور آپ حاضر نا ہوں
وفا کی ایسی مثال ملنا ممکن ہی نہیں ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بات ،اپنا ہر راز آپ سے کہتے
وہ آپ کی بہترین مشیر تھیں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سے معاملات میں ان سے مشورہ لیا
کائنات میں اس سے پہلے کسی نے میاں ⬇️
بیوی میں ایسی محبت نا دیکھی تھی
آج بھی جب کہیں مسلمان نکاح پڑھاتے ہیں تو دعا مانگی جاتی ہے کہ یا اللہ زوجین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا جیسی محبت عطا فرما !
سیدہ خدیجتہ الکبری انتہائی شفیق ہونے کے ساتھ ساتھ سخی خاتون بھی تھیں ⬇️
ان کی سخاوت کے چرچے عرب میں عام تھے
عرب کا ہر خاص و عام ان سے متاثر تھا
قریش میں ان کے ہم پلہ کوئی خاتون نا تھی
بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب لاجواب تھا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی حیات میں دوسرا عقد نا کیا
اپنا دکھ سکھ کا سارا وقت جناب خدیجہ کو دیا⬇️
حتی کہ ان کے وصال کے بعد بھی انہیں یاد ہر وقت یاد رکھا
ایسی شاندار رفیقہ حیات کہ رفاقت بھی جس پہ ناز کرے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جناب خدیجتہ الکبری کی وفات کے بعد مہینوں غم زدہ دیکھا گیا
آقا ﷺ ہر جگہ ان کی کمی محسوس کرتے
اسلام ہمیشہ جناب خدیجتہ الکبری کا مقروض ⬇️
رہے گا
عثمانی خلفا نے جناب خدیجتہ الکبری کا شاندار مزار تعمیر کروایا
جسے پلید نجدیوں نے 1926 میں شہید کر دیا
آج دس رمضان المبارک جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کا یوم وصال ہے
کائنات کی خاتونِ اوّل کو خراج تحسین پیش کریں
اور اپنی آخرت آسان کریں #یوم_وصال_حضرت_خدیجتہ_الکبری
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
جادو(magic) کا ذکر قرآن مجید میں دو طریقوں سے آیا ہے
ایک سورہ طہ( 66,67 )میں جب فرعون کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو ان کے جادو کے زور سے دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں جنہیں دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے جی میں خوف پایا۔ اللہ نے ⬇️
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی اور عصا ڈالنے کو حکم دیا جو ان تمام بناوٹوں کو نگل گیا
اس قسم کا جادو دنیا میں ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی ہے
بہت سے لوگ اسی قسم کے جادو کے مظاہرے دکھا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں
اور یہ پوری دنیا میں عام ہے
اس قسم کے جادو میں دراصل انسانی حسوں کو⬇️
کو دھوکا دیا جاتا ہے
یہ عموماً بے ضرر ہے اور بظاہر اس کی کوئی ممانعت نازل نہیں ہوئی ہے
دوسری قسم کا جادو جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں کیا گیا ہے
اللہ فرماتا ہے:
"وہ جو اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے، حضرت سلیمان کے زمانہ میں، اور سلیمان نے کفر نا کیا،ہاں وہ ⬇️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻