جادو(magic) کا ذکر قرآن مجید میں دو طریقوں سے آیا ہے
ایک سورہ طہ( 66,67 )میں جب فرعون کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو ان کے جادو کے زور سے دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں جنہیں دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے جی میں خوف پایا۔ اللہ نے ⬇️
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی اور عصا ڈالنے کو حکم دیا جو ان تمام بناوٹوں کو نگل گیا
اس قسم کا جادو دنیا میں ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی ہے
بہت سے لوگ اسی قسم کے جادو کے مظاہرے دکھا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں
اور یہ پوری دنیا میں عام ہے
اس قسم کے جادو میں دراصل انسانی حسوں کو⬇️
کو دھوکا دیا جاتا ہے
یہ عموماً بے ضرر ہے اور بظاہر اس کی کوئی ممانعت نازل نہیں ہوئی ہے
دوسری قسم کا جادو جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں کیا گیا ہے
اللہ فرماتا ہے:
"وہ جو اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے، حضرت سلیمان کے زمانہ میں، اور سلیمان نے کفر نا کیا،ہاں وہ ⬇️
شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور جو جادو جو بابل میں ہاروت و ماروت پر اترا
اور وہ دونوں کسی کو کچھ نا سکھاتے جب تک یہ نا کہہ لیتے کہ ہم تو بڑی آزمائش میں ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو
تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور وہ ضرر نہیں پہنچا⬇️
کسی مگر اللہ کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا
نفع نہ دے گا
بے شک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں، اور بے شک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا"
یہ والا جادو ہے جو نسل در نسل آگے ⬇️
چلتا آ رہا ہے
اس قسم کا جادو نص قرآنی سے قطعاً حرام اور کفر ثابت ہے
کرنے والا اور کروانے والا دونوں دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتے ہیں
جیسا کہ آپ نے آیت کے ترجمے میں پڑھا
ایسا جاود کرنے والے جناب سلیمن علیہ السلام کے زمانے سے اب تک ہیں
حتی کہ یہی جادو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ⬇️
وسلم پر کرنے کی کوشش کی گئی
جس کے بعد سورہ فلق اور والناس نازل ہوئیں
جن کا مقصد امت کو جادو کا ایک آسان علاج تعلیم کرنا تھا
یہی جادو ہے جس کے اشتہارات لگے نظر آتے ہیں
"الو کے خونی تعویزوں سے موت ہو سکتی ہے"
"محبوب آپ کے قدموں میں"
"دشمن زیر ہو گا"
اللہ کے واضح فرمان کے مطابق ⬇️
ان جادوگروں سے مدد لینے والا بھی کافر ہو جاتا ہے
کیونکہ یہ جادو شیطانی طاقتوں کے ذریعے کیا جاتا ہے
اور شیطان سے مدد لینے کا مطلب رحمان کا انکار ہے
یاد رہے !
یہ جادو اللہ نے ہی نازل فرمایا
مگر یہ نری آزمائش ہے
جادو کروانے کے پیچھے سب سے بڑا محرک جو میرے تجربے میں آیا ہے
وہ حسد⬇️
ہے۔ لوگ حسد کی وجہ سے ایک دوسرے کو برباد کرنے کیلئے یا کسی دلی رنجش کیلئے جادو کا سہارا لیتے ہیں
اور زیادہ تر عورتیں یا بزدل لوگ ایسا کرتے ہیں
جو سامنے آ کر لڑ نہیں سکتے
یا اپنا باطن کا بغض دکھانا نہیں چاہتے
بہت سے لوگ اس کی سنگینی سے لاعلم ہوتے ہیں
اور انجانے میں ایمان جیسی⬇️
قیمتی دولت سے محروم ہو جاتے ہیں
جعلی پیروں اور عاملوں کے آستانے انہی کی وجہ سے چلتے ہیں
یہ بھی جان لیں کہ اس قسم کے جادو آسانی سے سیکھ لیے جاتے ہیں
کیونکہ ان کو سیکھنے کیلئے غلاظت کا سہارا لینا پڑتا ہے
جو با آسانی دستیاب ہوتی ہے
جبکہ اس کے بر عکس نوری علوم سیکھنے کیلئے انتہائی ⬇️
زیادہ پاکیزگی اور پرہیز گاری کی ضرورت ہوتی ہے
جس کی توفیق و سعی ہر کسی کے بس کے بات نہیں ہے
تسلی والی بات یہ بھی ہے کہ جہاں جادو کرنے والے ہوتے ہیں
وہیں اس کا توڑ اور کاٹ پلٹ کرنے والے بھی موجود ہیں
میں خود ایک زمانے میں جادو کا توڑ اور کاٹ پلٹ کیا کرتا تھا
بچے ہوئے تو چھوڑ ⬇️
دیا کہ اس کے بچوں پر اثرات آنے کا خطرہ تھا
اس تحریر کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب جان لیں !
جادو کروانا کوئی مذاق نہیں ہے
جس پہ کروائیں گے اسے تو وقتی مسلہ ہو گا
کروانے والے کے مگر دونوں جہان برباد ہو جائیں گے
ایسے بہت سے واقعات کا عینی شاہد ہوں
کبھی عبرت کیلئے پیش کروں گا !!
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
"غمگسار رسول ﷺ"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اتنا زیادہ ذکر کرتے کہ ہمیں ان پہ رشک آتا، آپ ﷺ انہیں اکثر یاد کرتے اور ان کی باتیں سنایا کرتے تھے"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی⬇️
کی زندگی میں دو ہستیاں بہت اہم تھیں
ایک جناب ابو طالب علیہ السلام جبکہ دوسری جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا،
انہی دو ہستیوں کے بچھڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا سال غم منایا
امہات المومنین میں جو مقام جناب خدیجتہ الکبری کو حاصل ہے
وہ کسی اور کا نصیب نا بن سکا ⬇️
جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو ان کی نفاست اور پاکیزگی کی بنیاد پر "طاہرہ " کا لقب دیا گیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے چھ اولادیں ہوئیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اول ہونے کے بعد ان کا سب سے بڑا اعزاز سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ ⬇️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻
" علم برائے روزگار "
وسیم خان بی اے پاس تھا اور "آر بی آواری" کمپنی کا ڈسٹرکٹ سیلز مینیجر تھا
کمپنی زرعی ادویات کی فراہمی کے علاؤہ جدید زراعت پر کام بھی کرتی تھی
اچھی تنخواہ تھی
وہ اور اس کا خاندان مطمئن زندگی گزار رہے تھے
ان کی زندگی میں طوفان تب آیا جب کمپنی نے ساہیوال ریجن🔻
میں اچانک کام وائنڈ اپ کر دیا
وسیم کے ساتھ سینکڑوں لوگ بیٹھے بٹھائے بے روزگار ہو گئے
کمپنی نے خسارے کا بہانہ کر کے کسی بھی قسم کا مالی تعاون کرنے سے بھی انکار کر دیا
کچھ لوگ کمپنی کے خلاف عدالت چلے گئے
مگر سب بے سود رہا
وسیم کے پاس ایک رہائشی گھر کے علاؤہ دو مرلے کا ایک مکان 🔻
تھا۔ اس نے اس مکان میں سنوکر کلب کھول لیا۔ روزگار کا کچھ سلسلہ تو چل نکلا مگر آئے روز پولیس کے چھاپوں اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے وہ کاروبار بند کر دیا
حالانکہ اس نے کبھی جوا وغیر کھیلنے کی اجازت نہ دی تھی
پولیس مگر روز خرچہ مانگتی تھی
کچھ وقت ایسا گزرا کہ اسے دوستوں سے پیسے 🔻