دل سے پڑھیں !
قرآن میں ایسے بہت سے واقعات اور مقامات کا ذکر ہے کہ جن تک ابھی انسان نہیں پہنچ سکا
مثلاً یاجوج ماجوج کی قوم
سد سکندری
ملکہ بلقیس کا تخت
حضرت نوح کی کشتی
تابوت سکینہ
ہیکل سلیمانی
عبرانی زبان میں لکھی الواح
اور بہت سی اقوام کہ جن کا قرآن میں نام سے ذکر ہے مگر ⬇️
دنیا میں ان کا وجود کہیں نظر نہیں آتا
آج ایک بہن نے اس حوالے سے سوال اٹھایا کہ سائنس کے اس دور میں جب انسان سمندروں کی تہیں کھنگال رہا ہے
خلاؤں کو تسخیر کر رہا ہے
تو کیا ممکن ہے کہ ابھی تک انسان یاجوج ماجوج کے ٹھکانے اور دیگر جن اشیا و مقامات کا ذکر کیا ہے
ان تک نا پہنچ سکے ؟ ⬇️
جبکہ جدید ترین سیٹلائٹ ہمارے پاس موجود ہے
امریکہ کا دعویٰ بھی کہ دنیا میں ایک سوئی تک اس سے پوشیدہ نہیں ہے
پھر الگور سیٹلائٹ بھی ہے کہ جس کے ذریعے سے پوری زمین کی تصویر ون کلک میں بن جاتی ہے
یہ سیٹلائٹ خلا میں 2017 میں بھیجا گیا
اور اگلے چند سالوں بعد آپ کو زمین پہ موسمی تغیرات⬇️
سمندری طوفانوں اور دیگر تبدیلیوں کی خبر لمحہ بہ لمحہ ملا کرے گی
اور خطرات سے بچنے کی پیش بندی کر پائیں گے
اتنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے یہ بات واقعی عجب ہے کہ ہم ان سب تک کیوں نہیں پہنچ پائے
جب کہ ان سب اشیا کا قرآن میں ذکر ہے
لہذا ایمان کا تقاضا تو یہی ہے کہ یہ سب ⬇️
کہیں نا کہیں موجود ضرور ہے
اس حوالے سے ایک مثال آپ کو دیتا ہوں تاکہ آپ کو بات سمجھنے میں آسانی ہو
قرآن میں وضاحت سے قوم عاد و ثمود کے پہاڑوں میں بنے محلات کا ذکر ہے
یہ محلات میں مگر دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے تھے
جس کی وجہ سے مغربی مستشرقین قرآن کی صداقت پر سوال اٹھاتے تھے⬇️
پھر وقت آیا
سعودیہ کے صحرا میں 1970 میں ایک امریکی ماہر آثار قدیمہ کو دوران کھدائی یہ محلات ملے
یہ پہاڑوں میں اونچے برجوں کی شکل میں تھے
جیسا کہ قرآن میں ذکر تھا
یوں قرآن کی سچائی مغربی دنیا پر آشکار ہوئی
اسی طرح ہر چیز کا وقت ہے
جس کا آتا جائے گا
وہ دنیا کے سامنے آتی جائے گی⬇️
اہل یہود بڑی بے چینی سے تابوت سکینہ،الواح اور بنی اسرائیل کے انبیاء کے دیگر تبرکات تلاش کر رہے ہیں
ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر و دریافت بھی ان کا خواب ہے
اب یہ سوال کہ جدید سائنس ناکام کیوں ہے ؟
تو آئیے آپ کو کچھ ایسے رازوں سے آگاہ کرتا ہوں کہ جن تک جدید دنیا کوشش کے باوجود ⬇️
نہیں پہنچ پائی ہے
برمودا تکون کا تو آپ سب جانتے ہی ہیں
اہرام مصر کے اسرار بھی ابھی تک دنیا پر نہیں کھلے ہیں
جدید ٹیکنالوجی گھٹنے ٹیک چکی ہے
مختلف تھیوریز ہیں
مصدقہ تحقیق کسی کی نہیں
اسی طرح اردن کا شہر پیٹرا بھی ایک بہت بڑا راز ہے
ماچو پیچو کے کھنڈرات بھی ابھی تک لاینحل ہیں ⬇️
مگر جدید دور کا سب سے بڑا عجوبہ ایمزون کے جنگلات ہیں
جی ہاں وہ جنگلات جو کہ دنیا کی کل آکسیجن کا اسی فیصد پیدا کرتے ہیں
کیا آپ کو معلوم ہے
ہزاروں مربع میل پہ پھیلے ان جنگلات کا صرف بارہ فیصد حصہ قابل رسائی ہے
جی ہاں صرف بارہ فیصد !
باقی اٹھاسی فیصد پہ آج تک انسانی قدم نہیں ⬇️
پہنچے ہیں
یہ جنگلات اتنے گھنے ہیں کہ ان سے گزر ممکن نہیں ہے
ان میں انسانی وجود جتنی خوفناک چیونٹیاں پائی جاتی ہیں
جو زندہ انسانوں کو کھا جاتی ہیں
یہاں بے شمار سونا ہے
جو سیٹلائٹ سے نظر آتا ہے
مگر کسی میں ہمت نہیں جا کر لا سکے
اسی طرح شداد کی بنائی جنت جو حال ہی میں عمان میں ⬇️
دریافت ہوئی ہے
کوئی اسے دیکھنے نہیں جا سکتا
کیونکہ اس کے اردگرد فاسفورس کی تہیں جمی ہیں
جن کو پار کرنے کے چکر میں بندہ خود پار ہو جاتا ہے
اور قطب جنوبی اور شمالی تو آپ کو معلوم ہی ہے
آج تک کوئی پار نہیں کر پایا
نا ہی کبھی کر پائے گا
یہ اللہ کے راز ہیں
اس کے علاؤہ بھی زمین پر ⬇️
ایسے بےشمار مقامات ہیں
جن تک کبھی انسان نہیں پہنچا
اور تب تک نہیں پہنچے گا
جب تک اللہ نہیں چاہے گا
یاجوج ماجوج اللہ کے وعدے کے مطابق قرب قیامت ہی نکلیں گے
تب تک وہ جہاں بھی ہیں
محفوظ ہیں
ایسے ہی اب حیات کا چشمہ بھی انسانی دسترس سے باہر ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ⬇️
جناب سلمان فارسی کو دیگر جہانوں کی سیر کا وعدہ کیا
اور پھر کروائی بھی
ایک پہاڑ کے قریب سے آپ نے جناب سلمان سے کہا کہ یہاں سے ادھر جاؤ
سلمان گئے تو آگے دنیا ہی الگ تھی
اور ہزاروں محیر العقول چیزیں ہیں
جو ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی ہیں
فرشتے ہیں
مگر ہم نے کبھی نہیں دیکھے
ارواح ⬇️
زندہ ہیں اور گردش کرتی ہیں
مگر ہمیں نظر نہیں آتیں
آسیب ،جنات ،بھوت ،چڑیلیں سب سائنس کے بس سے باہر ہیں
جو قرآن میں ہے سب حق ہے
علم چاہیے تو رسول اللہ نے ایک ہی در بتایا ہے
مولا علی علیہ السلام کا
مولا مولا کریں
کچھ نا کچھ تو سمجھ آ ہی جائے گا
جادو(magic) کا ذکر قرآن مجید میں دو طریقوں سے آیا ہے
ایک سورہ طہ( 66,67 )میں جب فرعون کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو ان کے جادو کے زور سے دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں جنہیں دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے جی میں خوف پایا۔ اللہ نے ⬇️
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی اور عصا ڈالنے کو حکم دیا جو ان تمام بناوٹوں کو نگل گیا
اس قسم کا جادو دنیا میں ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی ہے
بہت سے لوگ اسی قسم کے جادو کے مظاہرے دکھا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں
اور یہ پوری دنیا میں عام ہے
اس قسم کے جادو میں دراصل انسانی حسوں کو⬇️
کو دھوکا دیا جاتا ہے
یہ عموماً بے ضرر ہے اور بظاہر اس کی کوئی ممانعت نازل نہیں ہوئی ہے
دوسری قسم کا جادو جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں کیا گیا ہے
اللہ فرماتا ہے:
"وہ جو اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے، حضرت سلیمان کے زمانہ میں، اور سلیمان نے کفر نا کیا،ہاں وہ ⬇️
"غمگسار رسول ﷺ"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اتنا زیادہ ذکر کرتے کہ ہمیں ان پہ رشک آتا، آپ ﷺ انہیں اکثر یاد کرتے اور ان کی باتیں سنایا کرتے تھے"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی⬇️
کی زندگی میں دو ہستیاں بہت اہم تھیں
ایک جناب ابو طالب علیہ السلام جبکہ دوسری جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا،
انہی دو ہستیوں کے بچھڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا سال غم منایا
امہات المومنین میں جو مقام جناب خدیجتہ الکبری کو حاصل ہے
وہ کسی اور کا نصیب نا بن سکا ⬇️
جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو ان کی نفاست اور پاکیزگی کی بنیاد پر "طاہرہ " کا لقب دیا گیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے چھ اولادیں ہوئیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اول ہونے کے بعد ان کا سب سے بڑا اعزاز سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ ⬇️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻
"شاہ است حسین"
امام حسن علیہ السلام نے حضرت معاویہ سے صلح اس بنیادی شرط پر کی تھی کہ یزید کو اقتدار نہیں دیا جائے گا
مسلمانوں کے اگلے حکمران کا فیصلہ مجلس شوریٰ اسی طریقے پر کرے گی جس طریق پر پہلے خلفائے راشدین کا انتخاب کیا گیا تھا
معاہدے کے تھوڑے عرصے بعد امام حسن علیہ السلام🔻
کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا
آپ کی شہادت پر باقاعدہ خوشیاں منائی گئیں
اس کے بعد ہزاروں جید صحابہ کرام کی موجودگی میں کیا گیا صلح نامہ توڑ دیا گیا
حضرت معاویہ نے یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے زبردست مہم چلائی
امام بخآری کے مطابق یزید کو بادشاہ بنانے کیلئے حضرت معاویہ نے تمام تر 🔻
اسلامی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا
رشوت ،دھونس، دھمکی اور مخالفین کا قتل عام کیا گیا
تمام مورخین اس پر متفق ہیں کہ یزید کو اقتدار دینے کا مقصد دین اسلام کی تباہی تھا
اور پھر یزید بادشاہ بن گیا
تمام صحابہ کرام و دیگر مسلمانوں کے تحفظات درست ثابت ہوئے
یزید نے تخت نشین ہوتے ہی🔻
"شیر خدا کی بیٹی"
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد !
یزید کے دربار پہ سکتہ طاری تھا
تمام خوشامدی امراء اور یزید خود مہر بلب تھا۔ ساٹھ ہزار مربع میل کا اکلوتا حکمران ایک خاتون کی گرجتی آواز کو سن کر دہل رہا تھا
وہ یزید جس نے مخالفت میں بولنے والی ہر زبان کو کاٹ دیا تھا
آج خود 🔻
قوت گویائی سے محروم ہو چکا تھا
اس کے ظالم جرنیل بھی انگشت بدنداں تھے
بھرے دربار میں شیر خدا کی بیٹی بول رہی تھی
اور زمانہ سن رہا تھا
فرشتے بھی سن رہے تھے
کائنات کی حرکت رک چکی تھی
یہ بنت علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں
جو کربلا سے دمشق میں قیدی بنا کر لائی 🔻
گئی تھیں
یزید پلید کے وفاداروں نے 72 تن شہید کرنے کے بعد اہل بیت کی حرمت کو بھی پامال کیا
اہل بیت کی دشمنی جو یزید کو باپ دادا سے ملی تھی
اس نے خانوادہ رسول کو نا صرف کہ شہید کیا
بلکہ کربلا سے دمشق تک ان کا تماشا بنایا
جن کا انبیاء بھی احترام کرتے ہیں
جن کا نام سن کر فرشتے درود🔻