خود کو دھوکا مت دو !
یاست اگر قانون بنائے اور لازم قرار دے کہ !
میلاد النبی، یوم علی، یوم عاشورہ، مجالس، جلوس، صحابہ کے ایام، بزرگانِ دین کے عرس
صرف وہ شخص منائے
جو پکا نمازی ہو
جس کا رزق حلال ہو
جو مخلوق خدا کیلئے نافع ہو
جس کے معاملات صاف ہوں
جو ریاست کا وفادار اور ٹیکس⬇️
ادا کرنے والا ہو
جو کسی اخلاقی، مالی اور قانونی جرم میں ملوث نا ہو
جس نے کبھی کسی کا حق نا کھایا ہو
جس نے کبھی ذخیرہ اندوزی کی ہو نا ناجائز منافع خوری
کسی یتیم کا مال کھایا ہو نا بہن ،بیٹی کی جائیداد ہڑپ کی ہو
جس نے اسلام کو کبھی دھندہ بنایا ہو
نا اللہ ،رسول کا نام بیچا ہو ⬇️
وہ جو فرقہ پرستی سے دور رہتا ہو
جو ہر فرقے کی مسجد میں نماز پڑھ لیتا ہو
جو اپنے تعلقات اسلامی اخوت کی بنیاد پر استوار کرتا ہو
جس کا اخلاق اتنا اچھا ہو کہ لوگ گواہی دیں
جو علم نا بیچتا ہو
جو سگریٹ نوشی سے لے کر شراب تک ہر نشے سے دور رہتا ہو
جو نامحرم عورتوں کو گھورتا نا ہو ⬇️
جو اپنے مال سے زکوٰۃ بروقت نکالتا ہو
جس کا دل خوف خدا سے کانپتا ہو
جو اپنے اہل خانہ کے لئے رحیم کریم ہو
جو جھوٹ نا بولتا ہو
امانت میں خیانت نا کرتا ہو
حرص ، ہوس سے پاک ہو
گالی دیتا ہو نا بدزبانی کرتا ہو
جو بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پہ شفقت کرتا ہو
جس کے والدین اسے دعائیں دیتے ⬇️
ہوں
جس کے کردار کی گواہی اہل محلہ دیتے ہوں
صرف اور صرف ایسے افراد ہی میلاد ،مجالس منانے کے اہل قرار پائیں
تو خدا کی قسم !
پورے ملک سے سو بھی نہیں نکلیں گے
مجھ سمیت سب منافق ہیں
سب دوغلے ہیں
سب اللہ ،رسول کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں
ٹیکس چوری ،ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی⬇️
، غریبوں کی حق تلفی سر عام کرتے ہیں
اور پھر سال میں ایک دو بار میلاد یا مجلس منا کر
عمرہ یا حج کر کے سمجھتے ہیں
اللہ راضی ہو گیا ؟؟
اللہ کو کیا سمجھ رکھا ہے ؟
کیا وہ تمہاری نیتوں سے واقف نہیں ہے ؟
کیا وہ تمہارے ارادوں کو نہیں پہچانتا ؟
کیا وہ شہ رگ سے نزدیک نہیں ہے ؟
وہ تو کہیں⬇️
باہر ہے ہی نہیں
وہ تو تمہارے اندر ہے
وہ کہتا ہے تیرا دل میری دو انگلیوں کے درمیان ہے
اپنے جیسے میرے جیسے اندھوں کو دھوکا دے سکتا ہے
اس رب العالمین کو نہیں
وہ فرماتا ہے جو مجھے دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے وہ خود کو دھوکا دیتا ہے
اور کیا سمجھتے ہو؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم⬇️
جو کائنات کی سب سے دانا ہستی ہیں
کیا وہ تمہارے کرتوتوں کو نظر انداز کر کے ایک مجلس یا میلاد سے خوش ہو جاتے ہوں گے ؟
یعنی تم ان کا ایک حکم بھی نا مانو !
اور یہ امید رکھو کہ وہ تمہاری زبانی کلامی محبت سے خوش ہو جائیں گے ؟
کیسے ؟
ایسے کیسے ؟
کیا یہ توہین رسالت نہیں ہے؟
اور اہل بیت⬇️
کو کیا سمجھتا ہے ؟
مولا علی علیہ السلام نے زندگی میں کبھی تہجد بھی قضا نا کی
پوری زندگی آئینے کی طرح شفاف گزاری
کائنات کا مولا ہو کر مزدوری کی
مولا علی اور مولا حسین دونوں نے نماز کی حالت میں جان اللہ کے سپرد کی
اور تو سال میں عید کی ایک نماز پڑھ کر سمجھتا ہے تیری وہ شفاعت کریں⬇️
گے ؟ کیسے ؟
یہ مولوی یہ ذاکر سب جھوٹ بولتے ہیں
عمل کے بغیر علم کا کوئی تصور نہیں
اگر کچھ کئے بنا ہی جنت ملنی ہوتی تو وہ نفوسِ قدسیہ جو جنت کے سرداران ہیں
کیا وہ اس قدر پرہیزگار ہوتے ؟
یہ پیشہ ور ملا تمہیں عمل سے ہٹا کر میلادوں اور مجلسوں پہ کیوں لاتا ہے ؟
کیونکہ یہ اس کا دھندہ ⬇️
ہے۔ اسے پیسے ملتے ہیں،پروٹوکول ملتا ہے
مزیدار کھانے ملتے ہیں
ہزاروں صحابہ کرام،لاکھوں تابعین، کروڑوں صالحین میلاد ،مجلسیں اور جلوس نکالے بغیر ہی بخشے گئے
اور ہم اصل کو چھوڑ کر صرف تماشبینی پہ لگے ہیں
اللہ کے بندو !
میلاد و مجلس بھی اس کی قبول ہوتی ہے
جو صالح اور پرہیز گار ہو ⬇️
ہم جیسوں کی تو آہ بھی قبول نہیں ہوتی
اتنی ریاکاری اور منافقت کبھی امت مسلمہ میں نہیں تھی
جتنی کہ اب ہے
میں منع نہیں کرتا
میلاد و مجالس اہل بیت خیر و برکت کا یقینی ذریعہ ہے
مگر کسی فاسق اور بے عمل کو یہ فائدہ کیوں دیں گے ؟
خود پہ رحم کھاؤ 🙏🙏
خود کو دھوکا دینا بند کرو ! #میرا
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
ایوب خان کے دور میں پاکستان کیسا تھا ؟
پاکستان تیزی سے ترقی کرتے ممالک میں شامل تھا
بین الاقوامی ادارے پیشینگوئی کر رہے تھے کہ پاکستان جلد ایک مضبوط معیشت بن جائے گا
کراچی اور نیویارک کا موازنہ کیا جاتا تھا اور برملا کہا جاتا تھا کہ اگلے دس سالوں بعد کراچی نیویارک سے آگے ہو گا⬇️
چائنیز حبیب بینک کراچی کی عمارت کو حیرت ناک نظروں سے دیکھتے اور رشک کرتے تھے
یہ اس وقت پاکستان کی سب سے اونچی عمارت تھی
تربیلا اور منگلا ڈیم کے نقشے چائنیز نے ہم سے لئے
اور ڈیم بنانے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی
پاکستانی ماہرین نے چین میں ڈیم بنانے کا آغاز کیا
پاکستان نے پی آئی اے⬇️
کے چار جہاز چین کو تحفے میں دئیے
چینی حجاج پہلے پاکستان آتے اور پھر آگے حج پر جاتے تھے
سات بڑی رابطہ نہروں کے ساتھ پاکستان دنیا کا سب سے بہترین آبپاشی کا نظام رکھنے والا ملک بن چکا تھا
قانون کی حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ سائیکل کی بتی نا ہونے پر بھی جرمانہ ہوتا تھا
پولیس کا ایک⬇️
دل سے پڑھیں !
قرآن میں ایسے بہت سے واقعات اور مقامات کا ذکر ہے کہ جن تک ابھی انسان نہیں پہنچ سکا
مثلاً یاجوج ماجوج کی قوم
سد سکندری
ملکہ بلقیس کا تخت
حضرت نوح کی کشتی
تابوت سکینہ
ہیکل سلیمانی
عبرانی زبان میں لکھی الواح
اور بہت سی اقوام کہ جن کا قرآن میں نام سے ذکر ہے مگر ⬇️
دنیا میں ان کا وجود کہیں نظر نہیں آتا
آج ایک بہن نے اس حوالے سے سوال اٹھایا کہ سائنس کے اس دور میں جب انسان سمندروں کی تہیں کھنگال رہا ہے
خلاؤں کو تسخیر کر رہا ہے
تو کیا ممکن ہے کہ ابھی تک انسان یاجوج ماجوج کے ٹھکانے اور دیگر جن اشیا و مقامات کا ذکر کیا ہے
ان تک نا پہنچ سکے ؟ ⬇️
جبکہ جدید ترین سیٹلائٹ ہمارے پاس موجود ہے
امریکہ کا دعویٰ بھی کہ دنیا میں ایک سوئی تک اس سے پوشیدہ نہیں ہے
پھر الگور سیٹلائٹ بھی ہے کہ جس کے ذریعے سے پوری زمین کی تصویر ون کلک میں بن جاتی ہے
یہ سیٹلائٹ خلا میں 2017 میں بھیجا گیا
اور اگلے چند سالوں بعد آپ کو زمین پہ موسمی تغیرات⬇️
جادو(magic) کا ذکر قرآن مجید میں دو طریقوں سے آیا ہے
ایک سورہ طہ( 66,67 )میں جب فرعون کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں جو ان کے جادو کے زور سے دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں جنہیں دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے جی میں خوف پایا۔ اللہ نے ⬇️
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی اور عصا ڈالنے کو حکم دیا جو ان تمام بناوٹوں کو نگل گیا
اس قسم کا جادو دنیا میں ہمیشہ سے رہا ہے اور اب بھی ہے
بہت سے لوگ اسی قسم کے جادو کے مظاہرے دکھا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں
اور یہ پوری دنیا میں عام ہے
اس قسم کے جادو میں دراصل انسانی حسوں کو⬇️
کو دھوکا دیا جاتا ہے
یہ عموماً بے ضرر ہے اور بظاہر اس کی کوئی ممانعت نازل نہیں ہوئی ہے
دوسری قسم کا جادو جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں کیا گیا ہے
اللہ فرماتا ہے:
"وہ جو اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے، حضرت سلیمان کے زمانہ میں، اور سلیمان نے کفر نا کیا،ہاں وہ ⬇️
"غمگسار رسول ﷺ"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اتنا زیادہ ذکر کرتے کہ ہمیں ان پہ رشک آتا، آپ ﷺ انہیں اکثر یاد کرتے اور ان کی باتیں سنایا کرتے تھے"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی⬇️
کی زندگی میں دو ہستیاں بہت اہم تھیں
ایک جناب ابو طالب علیہ السلام جبکہ دوسری جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا،
انہی دو ہستیوں کے بچھڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا سال غم منایا
امہات المومنین میں جو مقام جناب خدیجتہ الکبری کو حاصل ہے
وہ کسی اور کا نصیب نا بن سکا ⬇️
جناب خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو ان کی نفاست اور پاکیزگی کی بنیاد پر "طاہرہ " کا لقب دیا گیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے چھ اولادیں ہوئیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اول ہونے کے بعد ان کا سب سے بڑا اعزاز سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ ⬇️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا دن میں ایک بار لازمی سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے ملنے تشریف لے جاتے
سفر پہ روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ سے ملتے اور واپسی پر سب سے پہلے آپ کے گھر جاتے
باپ تشریف لاتا تو بیٹی سارے کام چھوڑ کر آگے بڑھ کر 🔻
استقبال کرتی
ہاتھوں کو بوسہ دیتی اور ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتی
خود بھی ساتھ بیٹھ جاتی
اور جب تک حضور تشریف فرما رہتے
صرف آپ کے پاس بیٹھی رہتیں
اور جب بیٹی تشریف لاتیں تو نبیوں کا سلطان کھڑا ہو کر استقبال کرتا
پیشانی چومتا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیتا
باپ بیٹی ایسے باتیں 🔻
کرتے کہ دیکھنے والوں کو رشک آتا
سیدہ جب تک تشریف فرما رہتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام معمولات ترک کر دیتے
صحابہ کرام آپ کے مزاج آشنا تھے
جب سیدہ آتیں تو سب خاموش بیٹھ جاتے یا ادھر ادھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتے
باپ بیٹی کی گفتگو میں کوئی مخل نا ہوتا
جب سیدہ واپس تشریف لے🔻
"شادیاں یا بربادیاں"
مغرب میں امیر سے امیر آدمی بھی لڑکی کو ساتھ لے کر چرچ جاتا ہے
چند دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں پادری صاحب ایجاب و قبول کرواتے ہیں
سب تالیاں بجاتے ہیں، وش کرتے ہیں
اور ہو گئی شادی !!
یا اگر کوئی زیادہ خرچہ کرے تو کسی ہوٹل میں سب کو بلوا لیتا ہے 🔻
اور چند گھنٹوں میں شادی مکمل ہو جاتی ہے
شادی کا یہ طریقہ اصل میں اسلام نے متعارف کروایا تھا
رشتہ طے ہوا
سادگی سے نکاح ہوا
اور چند رشتہ داروں کو نئے رشتے پر گواہ بنانے کیلئے ولیمہ کیا
اور نئی زندگی شروع
کائنات کی تین شادیاں سب سے بڑی شادیاں ہیں
ایک جناب آدم علیہ السلام و اماں 🔻
کی شادی
دوسری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جناب خدیجتہ الکبری کی شادی اور تیسری سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کی شادی
ان شادیوں کا احوال پڑھیں
تو آپ دنگ رہ جائیں گے
ایسا نہیں ہے کہ عرب معاشرے میں شادیاں دھوم دھام سے نہیں 🔻