لاکھوں کروڑوں لوگ حج عمرہ پر جاتے ہیں
وہاں گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں
کچھ کی مرادیں پوری ہوتی ہیں
اور
اکثر کی رہ جاتی ہیں
(گو کہ وہ دعائیں آخرت میں کام آجائیں گی)
مگر کیا وجہ ہے کیوں پوری نہیں ہوتیں
ایک انسان پانچ وقت نماز پڑھتا ہے
روزہ
زکاۃ
قرآن
جاری ہے 👇
سب کام انجام دیتا ہے لیکن پھر بھی
مُراد پوری نہیں ہوتی
کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہے ؟
وجہ یہ ہے
ہماری زبان
ہمارے ادا کیئے گئے نا مناسب الفاظ
ایک طرف ہم سارے اچھے کام کرتے ہیں
مگر
دوسری طرف ہم نا شکری والے
الفاظ استعمال کرتے جاتے ہیں
کسی کو کوئ تھوڑی سے تکلیف پہنچے
جاری ہے 👇
تو وہ اپنی قسمت کو کوسنا شروع ہو جاتا ہے
کبھی
کسی ایک نعمت کو نہیں دیکھتا
بیمار ہو جائے تو
"میری تے قسمت خراب ہے بیماری
جان نہیں چھوڑ رہی"
ارے نادان انسان
یہ سوچ کہ جو اپاہج پڑا ہے چارپائی پر
تم اُس سے کتنا اچھے ہو
تم برابر دیکھ سکتے ہو چاہے عینک لگاتے ہو
تم اُس سے
جاری ہے 👇
کتنا اچھے ہو جس کو عینک سے بھی نظر
نہیں آتا
اِس طرح کی لاکھوں مثالیں ہیں
کہ
ہم شکوہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں
مگر
ہم بہت کم شکر ادا کرتے ہیں
جبکہ
اللّٰه تعالیٰ خود فرماتا ہے
تم شکر ادا کرو
میں تمہیں اور عطا کروں گا
تقویٰ مکمل ہو تو مراد بھر آتی ہے
پہلے اپنے اندر تقویٰ
جاری ہے 👇
پیدا کریں
پھر دیکھیں دعا کہاں تک جاتی ہے
اور
کیا اثر دکھاتی ہے
اللّٰه تعالیٰ پر یقین کامل ہی کامیابی
کی ضمانت ہے
حضرت یعقوب علیہ السلام اللّٰه کے نبی تھے
لیکن
ایک منہ سے نکلا چھوٹا سا الفاظ
آنکھوں کی بینائی تک لے گیا
بیٹے کا سالوں تک غم مسلط کر دیا گیا
جانتے ہیں نا
جاری ہے 👇
وہ چھوٹا لفظ کیا تھا ؟
" یوسف تمہارے حوالے"
جبکہ
اللّٰه کے حوالے کرنا تھا
پھر اللّٰه نے اپنے نبی کو سزا دے کر
ثابت کیا
کہ
میں رب ہوں
جو مجھ پر تقویٰ رکھتا ہے
میں اُس کے تقویٰ پر پورا
اترتا ہوں
اپنے نصیب کو یا کسی برے حادثے
پر
گلے شکوے کی کتاب کھولنے سے بہتر ہے
جاری ہے 👇
جو ہے اُس کا شکر ادا کیا جائے
اور
نقصان پر صبر کیا جائے
صابر کے لیئے بھی اجر و ثواب بہت زیادہ ہے
آپ کی دعا ہی قسمت کا پانسہ پلٹ سکتی ہے
مگر شرط وہی کہ یقین کامل ہو
آج ہم اپنوں سے ناطہ توڑ کر اپنے حال میں
خوش ہیں
اور پھر کہتے ہیں ہماری دُعا نہیں سنی جاتی
پتہ ہے
جاری ہے 👇
اللّٰه تعالیٰ فرماتا ہے
میں نے رشتہ داری آسمان پر لٹکا رکھی ہے
مطلب
جس نے رشتہ داری کو پکڑا
اُس نے اللّٰه کو پکڑ لیا
اور
ہم تعلق ختم کر کے خود ہی
اللّٰه سے رابطہ توڑے بیٹھے ہیں
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں
کہ
کراچی میں گردے کے ایک اسپیشلسٹ ہیں
اُن سے ایک مرتبہ میرے بھائی نے پوچھا
کہ
آپ ایک انسان کے جسم سے گردہ نکال کر دوسرے انسان کو لگا دیتے ہیں
لیکن اب تو سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے
تو
کوئی مصنوعی گردہ
جاری ہے 👇
کیوں نہیں بنا لیتے
تاکہ
دوسرے انسان کے گردے کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے؟
وہ ہنس کر جواب دینے لگے
کہ
اول تو سائنس کی اِس ترقی کے باوجود مصنوعی گردہ بنانا بڑا مشکل ہے
کیونکہ
اللّٰه تعالیٰ نے گردے کے اندر
جو ایک "چھلنی" لگائی ہے
وہ اتنی لطیف اور باریک ہے کہ
جاری ہے 👇
ابھی تک کوئی ایسی مشین
ایجاد نہیں ہوئی
جو
اتنی لطیف اور باریک چھلنی بنا سکے
اگر
بالفرض ایسی مشین ایجاد ہو بھی جائے
اور
ایسی چھلنی بنا بھی لی جائے
تو
اُس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے
اور
اگر اربوں روپے خرچ کر کے
ایسی چھلنی بنا لی جائے
تب بھی گردے کے اندر ایک چیز ایسی ہے
رسول اللّٰه ﷺ نے جس طرح
اٹھنے بیٹھنے
سونے جاگنے
اور
کھانے پینے وغیرہ
زندگی کے سارے معمولات کے بارے میں احکام و آداب کی تعلیم دی
اور
بتلایا کہ
یہ حلال ہے
اور
یہ حرام ہے
یہ صحیح ہے
اور
یہ غلط
یہ مناسب ہے
اور
یہ نامناسب
اِسی طرح
لباس اور کپڑے کے استعمال کے بارے
ترجمعہ
"اے فرزندانِ آدم ہم نے تم کو پہننے کے
کپڑے عطا کئے جن سے تمہاری ستر پوشی ہو اور
تحمل و آسائش کا سامان
اور
تقوے والا لباس تو سراسر خیر
اور
بھلائی ہے"
اِس آیت میں لباس کے دو خاص فائدے ذکر کئے گئے ہیں
ایک ستر پوشی یعنی انسانی جسم کے ان حصوں کو چھپانا جن پر غیروں
آسیہ عمران صاحبہ کا ایک بہت پیارا
قصہ حاظر کر رہا ہوں
ایک دن میں اپنی سہیلی کے گھر گئ
اُس کے گھر میں کچھ چیزیں
حیران و پریشاں کر دینے والی تھیں
اور سب سے زیادہ
پریشان کر دینے والی بات یہ تھی
کہ
قرآن کا ایک نسخہ کچن میں رکھا تھا
جس پر تیل کے شانات نمایاں تھے
جاری ہے 👇
جس سے پتہ چلتا تھا کہ بار بار تیل والے ہاتھوں سے پکڑا گیا ہو
دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا
ایک نسخہ اُس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر تھا تو ایک لاونج میں بھی رکھا تھا
یقینا کئی دفعہ پیٹھ ہو جاتی ہو گی
بے ادبی ہوتی ہوگی
اِسے زرا احساس نہیں
جاری ہے 👇
دل میں غبار سا اٹھا
چہرہ متغیر ہو گیا
اُس نے شاید بھانپ لیا تھا
تبھی بولی
دراصل بچے چھوٹے ہیں
اور
بڑا خاندان ہے
بے تحاشا مصروفیات میں
ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا
اِس لئے جگہ جگہ قرآن رکھ دیئے ہیں
جہاں زرا گنجائش ملتی ہے
اٹھا کر پڑھ لیتی ہوں
ابھی ایک بھائ کا سوال پڑھا
اب ایک بار میں جواب تفصیل سے
نہیں دے سکتا تھا وہاں
تو
میں نے مختصر جواب دے دیا
سوچا چلو اِدھر بھی کچھ لکھ دوں
ٹیوٹ تھا
" پرویز اور قیصر "
یہ دو نام نہیں رکھنے چاہئیں
میرا جواب یہ ہے کہ
کسی بھی نام کے متعلق کہیں بھی
منع نہیں کیا گیا ہے
جاری ہے 👇
حتیٰ کہ ابلیس نام سے بھی منع نہیں ہے
لیکن
کیوں یہ نام نہیں رکھنے چاہئیں
یہ معاملہ خالص عشق ہے
کیونکہ اِن دو ناموں نے
معشوق ( نبی محمدﷺ ) کے خط مبارک
کی توہین کی تھی
تو خالص عشق کہتا ہے
عاشق اِن دو ناموں کو نہ اپنائے
بس جو جو عاشقِ رسول ﷺ ہے
وہ یہ نام نہیں رکھتا
جاری ہے 👇
اسی طرح ایک نام حارث بھی ہے
جو کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ
شیطان کا نام تھا
مگر
سورۃ اعراف کی تفسیر میں
ایک یہ روایت آئی ہے کہ
حضرت حواء نے ابلیس کے کہنے پر
بیٹے کا نام عبد الحارث رکھا تھا
(سنن ترمذی، ۲: ۱۳۸، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)