#architecture
#Peru
Rock-Cut Art
Dwelling of gods (Peru)
"دیوتاؤں کا گھر" (پیرو)
نہ فیک، نہ فوٹو شاپ، نہ ایڈیٹنگ
لیکن ناقابل یقین ضرور
کیونکہ انسانی ہاتھ سےبنا یہ چٹانی طرزِ تعمیر (Rock-Cut Architecture) دیکھ کرسب سےپہلے یہی ذہن میں آتاھے۔
جنوبی امریکی ملک پیرو کےشہر کسکو (Cusco)
جوہمیں حیران کرنےسےبازنہیں آتاکیونکہ نئے کھدائی شدہ کھنڈرات، دریافتوں کی وجہ سےیہ شہر کبھی بھی ساکن نہیں رہا!
پیروجو پہلےہی عالمی آرکیالوجیکل سائیٹ Macchu Pichchu کیوجہ سےحیران کن تصورکیاجاتاھے۔ اسی پیروکی اپوکوناق ٹیانن چٹان (Apukunaq Tianan Mountain) جسکامقامی زبان (quenchecqu)
میں مطلب "دیوتاؤں کا گھر" ھے، پر بنائے گئے قدیم Inca gods Andean کے یہ مجسمے 15 سے 17 میٹر بلند ہیں۔ چٹان سطح سمندر سے 3850 میٹر بلند ھے۔
نہایت باریک، نفیس اور حیران کر دینے والا اور زندگی کا عکاس یہ آرٹ سوچنے پر اکساتا ضرورھے کہ یہ بہترین امتزاج یاہر چیز اپنی صحیح جگہ پرکیسے ھے؟
اس چٹانی کام کے پیچھے بہت سے فرضی قصے کہانیاں اور مفروضے بھی قائم ہیں۔ تاحال ابھی یہ چٹانی کام پوری طرح مکمل نہیں ھوا لیکن خیال یہ کیا جاتا ھے کہ پیرو کی یوم آزادی پر اسے احتیاط سے مکمل کر لیا جائے گا۔
@threadreaderapp unroll.
#UNESCO
#Peru
#Rocks
#History

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with ਸਨਾ ਫਾਤਿਮਾ

ਸਨਾ ਫਾਤਿਮਾ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @SanaFatima00

Jul 7
#ancient
#History
"ھندوستان"  نام کا اصل 
کیاھندوستان کا کبھی ایک نام رہا ھے؟
ایک پیچیدہ ترین سوال
دراصل اس خطےمیں کبھی کوئی قوم وارد ھوئی اورکبھی کوئی حملہ اسلیے ھندوستان مختلف ادوار اور زمانوں میں مختلف ناموں سے لکھا اور پکاراگیا۔
آج ھم جس ھندوستان میں رھتےہیں کبھی اسے"جمبودیپ"
کہا جاتا تھا جو پورے ھندوستان کیلئے استعمال ھوتا تھا اور اشوک کے کتبوں اور ھندوؤں کی مقدس پرانوں میں بھی یہی لفظ استعمال ھوا ھے۔
آریاؤں نےاسے دریائے سندھ کی مناسبت سے "سندھ" کہا۔
ایرانیوں نےجب یہاں اپنا قبضہ جمایا "سندھ" یا "سندھو" کو "ھند" کر دیا۔
جب یونانی حملہ آورھوئے تو ان کے
ہاں "انڈوز" "انڈیکا" اور "انڈیا" ھو گیا۔
آریاؤں نے جب وادی گنگا وجمنا ہجرت کی تو اسے "آریہ ورت" پکارا یعنی "آریاؤں کےرھنے کی جگہ۔ مگر یہ نام سارے ھندوستان کیلئے ہرگز نہ تھا۔
بہت سےقدیم تاریخی ماخذات میں آپ کو یہ بھی ملےگا کہ کوہ ہمالیہ سے ونڈیا ل تک کےعلاقے کو "آریہ ورت" سے پکارا
Read 5 tweets
Jul 5
#Temple
#architecture
رانا محل گھاٹ (دریائے گنگا کنارے، وارانسی، بھارت)
Rana Mahal Ghat, Varanasi (Uttar Pradesh, India)
1670ء میں اودے پور کے مہاراجہ کا تعمیرکردہ مقدس دریائےگنگا کنارے یہ شاہکارھندوستان کےمقدس ترین مقامات میں سے ایک ھےاوراپنی حسین لوکیشن کی بدولت توجہ کھینچتاھے۔
خیال کیاجاتاھے کہ یہ بھگوان شیو کا گھر تھا۔
زیادہ تر گھاٹ غسل اور پوجاکی تقریب کے گھاٹ ہیں جبکہ کچھ کوخصوصی طور پر شمشان گھاٹ کےطور پر استعمال کیا جاتا ھے۔
وارانسی کےزیادہ تر گھاٹ 1700عیسوی کے بعد بنائےگئےتھے، جب یہ شہر مراٹھا سلطنت کاحصہ تھا۔ موجودہ گھاٹوں کےسرپرست 'مراٹھے' ہیں۔
رانا محل دراصل آرائشی اور سجاوٹی راجپوت فن تعمیر کے دلدادہ رانا جگیت سنگھ کی اودے پور کے عظیم وژن اور دور اندیشی کی یاد دہانی ھے۔
تقریباً 86 گھاٹ بنارس میں دریا گنگا کے کنارے کو گھیرے ھوئے ہیں لیکن رانا محل کی شاندار فن تعمیر اسے دوسروں سے الگ اور ممتاز کرتی ھے۔
آج جہاں کبھی محل
Read 4 tweets
Jul 3
#Gujranwala
#History
گوجرانوالہ (پاکستان)___تاریخ سے چند اوراق
وجہ تسمیہ اور تاریخی پس منظر
گوجرانوالہ__تقسیمِ ھند سے پہلے بھی وجہ شہرت "پہلواناں دا شہر"
گوجرانوالہ__کی بنیاد گجروں نے رکھی تھی اور امرتسر کے سانسی جاٹوں نے اسکا نام خانپور رکھاجو وہاں آباد ھوئے تاہم اس کا پرانا نام
باقی رہا۔
گوجرانوالہ__کا 630ء میں چینی بدھ مت یاتری Hsuan Tsang نے موجودہ گوجرانوالہ کے قریب Tse-kia کے نام سے مشہور دیہات کا دورہ کیا.
گوجرانوالہ__7ویں صدی کے آغاز سے راجپوت سلطنتوں کا پاکستان کے ان مشرقی حصوں اور شمالی ہندوستان پر غلبہ ھو گیا۔
گوجرانوالہ__997ء میں، سلطان محمود
غزنوی نے قبضہ کیا تو ان میں اپنے والد، سلطان سبکتگین کی قائم کردہ غزنوی سلطنت پر قبضہ کیا جس میں 1005ء میں مغربی پنجاب کےکچھ علاقوں کی فتوحات بھی شامل تھیں۔
گوجرانوالہ__پنجاب کےمشرقی علاقےملتان سےراولپنڈی تک شمال میں (موجودہ گوجرانوالہ کے علاقے سمیت)1193 تک راجپوت حکمرانی کےماتحت
Read 5 tweets
Jun 30
#StepWell
#Church
#Ethiopia
Saint George Church (Lalibela, Ethiopia)
سینٹ جارج چرچ (ایتھوپیا)____11th AD
زیرزمین صرف مندر، محل یا یادگاریں ہی نہیں ھوتی بلکہ چرچ بھی اس میں شامل ہیں جیساکہ ایتھوپیاکایہ چرچ جسےبصارت داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتی۔
ایتھوپیامیں چٹان کو کاٹ کرقبطی عیسائیوں
(Coptic Orthodox Christians)
نے زیرزمین یہ چرچ بنایا۔
قدیم مقدس بائبل جن عیسائی عبادت گاہوں کا حوالہ دیتی ھے وہ یہی ایتھوپیائی چرچ ہیں۔ ایتھوپیا میں 341ء میں رسمی طور ہر عیسائیت کو اپنایا گیا تھا۔
ملک کے شمال میں امہارا ریجن میں واقع للی بیلاشہر (Lalibela جو کہ یہاں کے بادشاہ کا
نام تھا) کے کھلے میدان سے منسلک پانچ زیر زمین گرجا گھروں کی ایک سیریز ھے۔
آس پاس میں مختصر گزرگاہیں اور خندقیں ہیں۔ یہ چٹان گویا ایک سرمئی، مٹی کی طرح کا ذخیرہ ھے جو 6 میٹر تک گہرے اور کشادہ صحن کو راستہ فراہم کرتا ھے۔
چٹان سے کٹے ہوئے چرچ بنانے کا عمل اکثر اوپر سے نیچے تک کھدائی
Read 5 tweets
Jun 28
#Sukkur
#Temple
سادھو بیلو (دریائے سندھ کنارے، بمقام سکھر)
Sadhu Belu (Sukkur, #Pakistan) 1823
سادھو بیلو کیا ھے؟
سکھر اور تاریخ کے مابین بہت گہرا اور قدیم رشتہ ھے۔
سکھر شہر (پاکستان) کے پاس دریائے سندھ کے جزیرے پر واقع یہ ھندوؤں کے مقدس ترین مندر ہیں۔
عام خیال کیا جاتا ھے کہ1823 ImageImage
میں اداسی پنتھ سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند پجاری "سوامی بانکھنڈی" نے اس مندر کو بنوایا تاکہ ہندو برادری اپنی قدیم روایات کو دوبارہ زندہ کر سکے۔
چودھویں صدی میں سندھ "اداسین پنتھ" عقیدے کا سب سےبڑا مرکز ماناجاتا تھا اور کسی زمانےمیں سادھو بیلہ کے مندر کے اطراف میں گرجاگھر اور ImageImageImage
پارسی برادری کی عبادت گاہیں موجود تھیں۔
مہاراجہ بانکھنڈی کے اس مندر کو تعمیر کرنے سے جھل بنسی (پانی کی پوجا کرنے والے)، سورج بنسی (سورج کی پوجا کرنے والے)، اور اروڑ بنسی (بدھ متی) اوردیگر دھرم کو ماننے والے سب فرقے یکجا ھوگئے۔
ظاہر ھےپھر وقت کیساتھ ساتھ یہاں سےسکھ گزرے، مغل گزرے، ImageImage
Read 5 tweets
Jun 27
#mughals
#Rajput
#relationships
#facts
مغل راجپوت تعلقات___تاریخ کے آئینے میں
تاریخ شاہدھے کہ مغل اور راجپوت روابط تاریخ کےسب سےمضبوط سیاسی اتحاد میں سے ایک رھے ہیں۔
"تاج محل" کے پاءوں کے نیچے کی زمین مغلوں کوایک راجپوت کی عنایت کردہ ھے اوران دونوں میں خون کےروابط رھے۔
مغل بادشاہ
جلال الدین اکبر کی شادی راجپوت شہزادی ہرکھا بائی سے ھوئی۔
اس شادی سے پہلے بھی ہمارے پاس یہ تاریخی ثبوت موجود ھے کہ کس طرح ہمایوں نے ایک راجپوت شہزادی جو اسکی راکھی بہن تھی، کی حفاظت کے لیے شیر شاہ سوری کےمقابل ایک جیتی ھوئی جنگ ہار دی۔
اسی ہار نے حقیقت میں ہمیشہ کے لیے اس کی قسمت
بدل کر رکھ دی۔
پھر تاریخ نے لکھا کہ راجپوت_مغل خون کےملاپ نے دو شہنشاہوں شاہجہان اور جہانگیر کو جنم دی۔ یہی اتحاد بہت سے کامیاب حملوں اور فتوحات کاپیش خیمہ بنا۔
تاریخ نے پھر لکھا کہ یہ بندھن لافانی تب بنا جب شاہ جہان نے اپنےپرجوش اور شہرہ افاق منصوبے تاج محل کی تعمیر کیلئے راجپوت
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(