#Shikarpur
#History
شکار پور (سندھ)__تاریخ سے چند اوراق
تقریباً 600 سال پہلے
شکار پور دراصل قندھار کو جانے والی شاہراہ عام پر درہ بولان میں آتا ھے۔
گزرے زمانوں کاایک مالدار شہر بلکہ ایک وقت تھا کہ مالی منڈی کے اعتبار سے یہ شہر ملتان سے آگے نکل چکا تھا۔
شکارپور کی آبادکاری کا سہرا
داؤد پوتہ قبیلے کے لوگوں کے سر جاتا ھے جنہوں نے اس شہر کو آباد کیا۔اس خطے میں افغانوں، تالپوروں، کلہوڑوں اورانگریزوں کا غلبہ رہا۔
یہاں کےھندو مہاجن اور ساھوکار خاص طورپرمشہور تھے۔ شکارپور میں سب سےزیادہ اکثریت لوہانہ قوم کے(Lohanas) ھندوؤں کی تھی۔
بلاشبہ شکارپور افغانستان کےدرانی
حکمرانوں کے زیر اقتدار بہت اھمیت کا حامل رہا۔افغانیوں نے اس شہر کو زیادہ خراب کیا اور اسے ہر ممکن حاصل کرنے کی بارہا کوشش کی۔
یہ شہر لاھور پشاور کی طرح اپنے بےمثال آٹھ دروازوں سے مشہور ھے جنہیں مقامی میں در کہتے ہیں. ان دروازوں کےنام یہ ہیں.
لکھی گیٹ
ہاتھی گیٹ
ہزاری گیٹ
سی وی گیٹ
کرن گیٹ
واگولو گیٹ
خانپور گیٹ
انوشہرو گیٹ
تقریباً2600 مربع کلومیٹر رقبےپر پھیلےاس خطہ پرسندھی زبان کا سرولی لہجہ بولاجاتاھےجسےخوبصورت سرائیکی لہجہ کہاجائے توزیادہ مناسب ھےسندھی کے علاوہ یہاں پراردو, پنجابی اوربلوچی زبانیں بھی بولی اورسمجھی جاتی ہیں۔
شکارپور کو سکوں (Coins) کا بھی
اعزازحاصل رہا ھے۔ کبھی یہاں کاروپیہ بہت اچھاھوتا تھا اورمالیت میں ھندوستانی روپے سےتگڑا ھوتا تھا۔ عام ھندوستانی شہروں کی طرح یہاں بھی تنگ وپتلی گلیوں کامسئلہ درپیش ھے۔
شہر کے مشرق میں ایک بڑی اور گہری خندق تھی اور ایک وسیع اور بڑے قلعے کے کھنڈرات بھی ہیں۔ کہاجاتاھے کہ کبھی یہ کسی
سومرہ راجہ یاسردارداءود کی رہائش تھی جو533سال قبل فوت گیاتھا۔
پکی اینٹوں کےبنےکھنڈرات کی ہراینٹ20انچ لمبی،8انچ چوڑی ھے۔ قرب میں آبی گزرگاہ کےباعث تاریخ کی کتب کےمطابق یہ جگہ یقیناًبہت خوبصورت رہی ھوگی۔
بحوالہ سندھ کی تاریخ از ڈاکٹرمبارک
@threadreaderapp Unroll.
#Pakistan
#History

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with ਸਨਾ ਫ਼ਾਤਿਮਾ

ਸਨਾ ਫ਼ਾਤਿਮਾ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @SanaFatima00

Jul 25
#ancient
#Archaeology
Rock-Cut Art
Cappadocia Caves (Anatolia, #Turkey)
کپاڈوشیا غار (ترکی)__3rd BC
Hatti Culture
دھاتی عہد کے ہٹی کلچر کا مرکز اناطولیہ کو کہا گیا ھے۔
کپاڈوشیا (اناطولیہ) سے دریافت ھونے والے Neolithic عہد کے مٹی کے برتن، اوزار، پہاڑوں کی تشکیل، تیسری صدی قبل مسیح
کی باقیات، ہزاروں مٹی کی گولیاں اس شہر کے قدیم ھونے کا ثبوت ہیں۔
اناطولیہ کا قدیم ضلع Cappadocia موجودہ ترکی کے مرکز میں Taurus Mountains کی ناہموار سطح مرتفع پر واقع ھے۔ Cappadocia کی ساری زمین ہی نرم آتش فشاں چٹان پر مشتمل ھے۔
نرم ریتلے پتھروں سے بنے یہ قدیم غار چٹانی طرزِتعمیر
میں مقامی لوگوں کے گھر ہیں۔
غار، میوزیم، چرچ، ڈائننگ روم، خانقاہ، کچن پر مشتمل یہ پورا شہر ھے۔
بازنطینی اور اسلامی دور کے پتھر سے کٹے ہوئے گرجا گھر اور زیر زمین سرنگ کے احاطے پورے دیہی علاقوں میں بکھرے ھوئے ہیں۔
یہ شاندار اور حیران کن سائیٹ "Göreme National Park" ترکی کا
Read 4 tweets
Jul 22
#StepWell
#architecture
#Rajhastan
پنا مینا کا کنڈ (ریاست راجستھان، بھارت)
Panna Meena ka Kund (Rajhastan, India)____16th C.
زیرزمین تعمیر ھندوستان کیلئے کوئی نئی بات نہیں!
ریاست راجھستان، کی ڈسٹرکٹ جےپور کے قریب شہر امیر جسے عنبر بھی کہا جاتا تھا، میں واقع پنامینا کا کنڈ زیرزمین
طرزتعمیر کی شاندار مثال ھے جو 16لہویں صدی میں مشہورِ زمانہ "قلعہ امیر" کیساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ مختصر سی StepWell تعمیر دراصل پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کنواں کی مانند تھی جہاں امیر کےلوگ پانی جمع کرتے تھے۔ بعد میں اس جمع شدہ ذخیرےکو قریبی مندروں میں استعمال کیاجاتا تھا۔
خواتین
بھی گھر کے کام کے لیے پانی کے برتن بھرنے یہاں آتی تھیں۔ اس کے علاؤہ پنا مینا کا کنڈ بہت سے مسافروں کے لیے ایک آرام گاہ بھی تھی۔
پنا مینا کا کنڈ ایک مربع شکل کی سیڑھی ھے جس کے چاروں اطراف سے ملحقہ سیڑھیاں اور شمالی دیوار پر ایک کمرہ ھے۔ خیال کیا جاتا ھے کہ یہ کمرہ شادیوں سےپہلے یا
Read 4 tweets
Jul 20
#Indology
#ancient
#Varanasi
شہر وارانسی__تاریخ سےچند اوراق
اترپردیش (انڈیا)___1100قبل مسیح
شہروارانسی__جنوبی ھندوستان کی ریاست اترپردیش میں واقع ہندؤوں کامقدس ترین شہر بلکہ روحانی دارالخلافہ (Spiritual Capital)
شہر وارانسی__کی وجہ تسمیہ یہ کہ شہرکی سرحدیں دوندیوں (ورونہ اور آسی) ImageImage
سے ملتی ہیں جو گنگا میں بہتی ہیں۔ شہر کا نام انہی دو دریاؤں کیوجہ سے ھے۔
شہروارانسی__شیو دیوتا کا مسکن جو ہندؤ مت میں الہی کا سب سے اہم مظہر ھے۔
 شہروارانسی__ دریائے گنگا کے کنارے آباد وہ دریا جو ہندومت کے مقدس ترین دریاؤں میں سے ایک ھے۔
2,500سال سےزیادہ عرصےسےھندو یاتریوں نےگنگا
گنگا میں نہانے کے لیے وارانسی کی طرف اڑان بھری ھے کیونکہ مقدس دریا میں غسل کو پاک کرنے والا سمجھا جاتا ھے۔
شہر وارانسی__میں جو بھی مرتا ھے وہ مبارک گنا جاتا ھے۔
شہروارانسی__کنارے شمشان گھاٹ ھونے کے باعث یہ شہر بحری قزاقوں کیلئے زریعہ آمدنی بھی کہلایا۔
گویا وارانسی شہر کی روح گنگا
Read 4 tweets
Jul 18
#ਗੁਰੂ_ਅ੍ਰਜੰ_ਦੇਵ
#ਪੰਜਾਥ
#Lahore
#History
لاھور (پاکستان) اور گرو ارجن دیو کا تعلق (1606)
بادشاہی مسجد (لاھور) سےتھوڑا آگےخوبصورت سکھ گوردوارہ جسےدیکھ کر لوگ تعریف تو کرتےہیں مگرشاید وہ اس کے پس منظر سےکم ہی واقف ھوں گے۔
لاھورقلعہ وہی جگہ ھےجہاں پنج شاہی (یعنی پانچویں گرو) ارجن دیو
کوشہنشاہ جہانگیرکے حکم پر تشدد سےشہید کیاگیاتھا۔ انہی کی یاد میں یہ "گوردوارہ ڈیرہ صاحب" تعمیر کیاگیا۔
پنج شاہی ارجن دیو صاحب سکھ مت کے پہلےشہید کہلاتے ہیں۔
سکھوں کی پنج شاہی ارجن دیو اور لاھور (پنجاب) کا آپس میں تعلق درحقیقت ایک تاریخی سانحہ ھے جو مغلوں کے جبر کا بھی عکاس ھے اور
زوال کا بھی۔
سکھوں کے کامیاب ترین گرو ارجن دیو، مقدس "آدی گرنتھ" کے پہلے منظم ایڈیشن کے بانی، پر مغل بادشاہ جہانگیرکے باغی شہزادےخسرو کی سپورٹ کا الزام تھا ۔
جہانگیر نے نہ صرف گرو ارجن دیو کو تبدیلی مذہب پر مجبور کیا بلکہ اپنے ہی بیٹے کو اندھا کروادیا اور قید بھی کر لیا۔ جتنے بھی
Read 5 tweets
Jul 16
#Temple
#Kashmir
مرتند سورج مندر (اننت ناگ، سرینگر کشمیر)
Martand Sun Temple (Anantnag, Kashmir)___8th AD
اننت ناگ (بھارتی کشمیر) میں واقع مرتند سورج مندر جو آٹھویں صدی کی سناتنی تہذیب (Sanatani Civilization) کاگڑھ تھا، کو وادئ کشمیرکی ٹاپ پر تعمیر کیاگیا جوکلاسک کشمیری طرزِتعمیر
کا نمونہ تھا۔
سورج مندر کی وجہ شہرت اس کا گندھارا، گپت اور چینی طرزتعمیر کا کلاسک اورجاذب نظر امتزاج ھے۔
یہ ھندو مندر سوریادیو (Suryadev) کے نام سے منسوب تھاجسے "مرتند" کہا جاتا تھا۔ سناتنی تہذیب دراصل ایک ایساھندو عقیدہ (Hindi Cult)تھا جنکی تعلیمات (Teachings) خالصتاً بھگوت گیتا
رامائن، اپنشد، رگ وید سے مشروط تھیں گویا اس عقیدے کی بنیاد ہی قدیم مذہبی کتب کی تحریروں پرمشتمل تھی۔
سورج مندر کو 15ویں صدی میں اسلام کے نام پر ایک صوفی تبلیغ کار محمد حمدانی کے کہنےپر کشمیری سلطان اسکندرشاہ میر نے تباہ کر دیاتھا۔
باقی ماندہ مندر زلزلوں اوروقت کی دھول سےمتاثرھوا۔
Read 6 tweets
Jul 14
#ਪੰਜਾਬ
#Shekhupura
#Heritage
#Fort
#architecture
قلعہ شیخوپورہ (1607)
مغل بادشاہ جہانگیر کاشاہکار
بادشاہ جہانگیر کےنام (شیخو) پر ہی آباد شہر شیخوپورہ میں 68 کنال پرمشتمل یہ وہی قلعہ ھے جہاں رنجیت سنگھ کی بیوہ اور دلیپ سنگھ کی ماتا سکھ مہارانی جند کور (جنداں) کو برطانوی راج نے قید
کیا تھا۔
جہانگیری عہد میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ شیخوپورہ تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ھے۔ جہانگیر کی آب بیتی "توزک جہانگیر" کافی تفصیل سے اس قلعے کا حال بتاتی ھے۔
سکھ عہد میں قلعے کیساتھ متعدد عمارتیں تعمیر کرکے اسےیکسر تبدیل کر دیا گیا۔
1808میں قلعے کورنجیت سنگھ نے اپنے 6 سالہ
بیٹے کھڑک سنگھ کیساتھ فتح کیا اور یوں یہ قلعہ "رنجیت جاگیر" کا حصہ بن گیا۔
1811 میں یہ قلعہ رنجیت سنگھ کی بیوی مہارانی داتا کور اور اس کے بیٹے کھڑک سنگھ کو نواز دیا گیا جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک رہیں۔
اور تاریخ کے قارئین کے علم میں ھو گا کہ انیسویں صدی میں عہد فرنگی میں
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(