#اردو
#صحافت
#journo
#History
"اخبار جام جہاں نما"
اجراء: کلکتہ (1822ء)
دنیابھرمیں اردوصحافت کا دوسو سالہ جشن منایاجا رہاھےاور قابلِ حیرت حقیقت یہ ھےکہ غیرمنقسم ھندوستان میں اردوصحافت کا آغازہندؤوں نےکیاتھا،مسلمان توبعدمیں شامل ھوئے۔
27مارچ 1822میں اردو کےپہلےاخبار "جام جہاں نما"
کا اجراء پنڈت ہری ہردت نے کلکتہ (ھندوستان) سے کیا۔ اسکے ایڈیٹر منشی سدا سکھ لال تھے۔ یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا جس کا رسم الخط "نستعلیق" یعنی "Proto-Indo-Iranian" تھا۔
جام جہاں نما یورپ میں بھی اس طرح مقبول عام تھاجیسے ھندوستان میں۔ اسلیے اس اخبار کواردو کے اولین اور باقاعدہ اخبار
کی سند دی جا سکتی ھے۔
ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے ھندوستانی حالات اور مستقبل بھانپتے ھوئے تمام پریس اور فوجی اخبارات کی فائلوں کو ضبط کر لیا تھا بلکہ آگ لگا دی تھی۔
اس لیے جام جہاں نما پر بھی کنٹرول اور سنسرشپ کی ہدایت تھی لہذا اسی اخبارکی وجہ سے1823 میں برصغیرمیں پہلا
"Press Act 1823"
رائج ھوا۔
اس ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ اردو صحافت کا برصغیر کی جدوجہد آزادی میں کتنا اھم کردار رہا ھے۔
اسی لیےاکبر آلہ آبادی نے کیا خوب کہا کہ؛

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ھو تو اخبار نکالو

#Urdu
#journalism
#History

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with ਸਨਾ ਫ਼ਾਤਿਮਾ

ਸਨਾ ਫ਼ਾਤਿਮਾ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @SanaFatima00

Oct 21
#British
#architecture
#Heritage
#Peshawar
کنگھم گھنٹہ گھر (پشاور، پاکستان)
Cunningham Clock Tower__1900ء
مشکل ھےکہ پاکستان کےکسی ایک شہر کو بحوالہ تاریخ "دل" کہاجائے!
یہ گھنٹہ گھر کہاں کہاں نہیں!
کبھی لندن میں توکبھی لائلپورمیں، کبھی سیالکوٹ میں اور کبھی "پھولوں کےشہر" پشاورمیں! ImageImageImage
ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے اعزاز میں شہر بےمثال پشاور (صرافہ بازار، محلہ باقر شاہ) میں تعمیر کیا گیا یہ "کلاک ٹاور" جسے اس وقت کے پشاور کے گورنر اور سیاسی ایجنٹ "Sir George Cunningham" کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔
انفرادیت اور خوبصورت میں یکتا اورپشاور شہرکی پہچان یہ ImageImage
گھنٹہ گھر پشاور شہر کے ضلعی انجینیئر James Strachan نے تیار کیا۔
موءرخین کے مطابق کلاک ٹاور کی تعمیر بالموکنڈ خاندان (Balmukand Family) کی طرف سے فنڈ کی گئی تھی۔ یہ خاندان تقسیم کے بعد پشاور سے امرتسر، ہندوستان ہجرت کر گیا اور اس وقت ہندوستان میں 'کلاک ٹاور' برانڈ کے تحت فوڈ ImageImageImage
Read 6 tweets
Oct 11
#ancient
#architecture
#mounting
#Turkiye
سمیلاخانقاہ (صوبہ ترابزون، ترکیہ)
Sumela Monestary(Trabzon, Turkiya)__4th C.
تقریباً1600سالہ قدیم پہاڑکی اوڑھ میں لٹکتی ھوئی شاہی عیسائی عبادت گاہ سمیلاجوترابزون سےکبھی جدانہیں ھوسکتی۔
ترکی کےصوبہ ترابزون میں پونٹک پہاڑ (Pontic Mountains)
کے اندر میلا ماؤنٹین (Mela Mountain) پر واقع یہ عمارت ایک یونانی آرتھوڈوکس خانقاہ تھی جو دوشیزہ مریم (Jesus' Mother) کے لیے وقف تھی۔ یہ خانقاہ عیسائی دنیا کی قدیم ترین خانقاہوں میں سے ایک ھے۔
لفظ "Sumela" دراصل "Mela" سے اخذ شدہ ھے جسکا مطلب ھے "کالا". چونکہ اس کمپلیکس میں "مریم"
کی مشہورِ زمانہ سیاہ پینٹنگ آویزاں ھے، اسی نسبت سے اس پہاڑ کو بھی "Mela" کہا جاتا ھے۔
اس جگہ پر عبادت گاہ کا مقصد پرسکون اور الگ تھلگ مقام تھا۔ مؤرخین کے مطابق خانقاہ کی بنیاد دو پادریوں، برناباس اور سوفرونیئس نے ایتھنز سے شہنشاہ تھیوڈوسیئس اول (Theodosius 1, AD 375-395) کےدورمیں
Read 6 tweets
Oct 3
#ਪੰਜਾਬ
#ਵਾਰੇਗੁਰੂ_ਜੀ
#Gurdwara
#Pakistan
گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور (شکر گڑھ تحصیل، نارووال پاکستان)
کرتار(ਕਰਤਾਰ) جس کے لفظی معانی "Creator/Lord" کےہیں، سکھوں کےسات اھم ترین مقامات میں سےایک سفیدمالائی حسن سےمالامال ایک جاذب نظرسیاحتی مقام جہاں سکھوں کےمذہبی پیشوا اوربانی گرونانک
(اصل نام سدھارتھ) نےاپنی زندگی کےآخری 18سال گزارےاور یہیں وفات پائی۔
*دربار کرتا پور راوی کنارے پاکستان کے صوبہ پنجاب کےضلع ناروال کا سرحدی علاقہ ھے۔
بابانانک ستمبر 1521 کو اس مقام پر تشریف لائے، پڑاؤ ڈالا اور کرتارپور کےنام سےیہ گاؤں آبادکیا۔
ابتداء دربارصاحب کی مقامی جگہ مختصر
ھونے کے سبب 1921 تا 1929 کے درمیان پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہادر نے اس کی مکمل اور وسیع العرض تعمیر کروائی۔
آج بھی وقفے وقفے سے حکومت پاکستان بین المذاھب احترام و یکجہتی کے سبب گوردوارے کی تزئین و آرائش کو اپنا فرض سمجھ کر کرتی ھے۔
بھارت سے تعلقات میں اونچ نیچ کے باوجود
Read 4 tweets
Oct 2
#Indology
#Archaeology
#Temple
شری دوارکا دھیش مندر (جھل راپتن، ریاست راجھستان)
Shri Dwarkadheesh Temple (Jhalrapatan, #Rajhastan)
2500 سالہ قدیم
جھل راپتن شہرکی ڈسٹرکٹ جھلوار (District Jhalawar)کےگومتی ساحل (Gomti Coast)کےپرسکون مقام پرکھڑا دوارکادیش مندر لارڈکرشنا(Lord Krishna)
کیلئے مخصوص ھے۔
ماہر آثار قدیمہ کے مطابق یہ مندر 1200 سال پرانا ھے لیکن موءرخین اس مندر کو 1400 قبل مسیح میں بھگوان سری کرشنا کے پڑپوتے وجرنابھ سے جوڑتے ہیں۔
وجرنابھ نے جب اس مندر کو تعمیر کیا تھا یہ یہ ایک شاندار ڈھانچہ تھا جو بحیرہ عرب کے پانیوں سےاٹھتا دکھائی دیتا تھا۔
اس مندر
کو "جگت مندر" بھی پکارا جاتا ھے، اسے جھل ظالم سنگھ نے گیارہویں صدی میں تازہ کیا۔
اس کاشاندار نقش و نگار 43 میٹر بلند اور 52گزکپڑے سےبنابڑاجھنڈا 10 کلومیٹر دورسے دیکھا جا سکتا ھے۔
مندر نرم چونے کے پتھر سے بنایا گیا ھے اور اس میں ایکمقبرہ اور ایک مستطیل ہال ھے جس کے3اطراف پورچ ہیں۔
Read 4 tweets
Sep 30
#زرتشت
#zoroastrian
#ancient
#religion
"شریف آباد دخمہ" (صوبہ یزد، #ایران)
خاموشی کا مینار (آسمانی دفن)
Tower of Silence (The Sky Burial)
زرتشتیوں کی میتیں دفنانے کا مقام
زرتشتی مذہب کی ایک لمبی اورقدیم تاریخ میں "یخچل" اور "آرگ بام" کےبعد"شریف آباد"کوبھی ایک مرکزی حیثیت حاصل ھے.
زرتشتی روایت میں جب کسی کی موت ھو جاتی ھے تو اس کا جسم فوری طور پر بدروحوں سے آلودہ اور ناپاک ھو جانے سے لاش کو اس جگہ مقامی پرندوں (خاص طور پر گدھ) کے سامنے بے نقاب (nakedly) کر کے ڈال دیا جاتا ھے یعنی پاکیزہ کیا جاتا ھے، اس مقام کو"دخمس" کہتےہیں۔
40 سال پہلے تک ایران کےصوبہ یزد
میں "ٹاورز آف سائیلنس" کے اوپر اب بھی لاشیں پائی جا سکتی تھیں، جو آہستہ آہستہ بکھر رہی تھیں یا صحرائی گدھوں کے ذریعے الگ ھو رہی تھیں۔
3,000 سال پرانی روایت کے مطابق ٹاورز پر لاشوں کو تین مرتکز دائروں میں ترتیب دیا گیا تھا۔
مردوں کو بیرونی دائرے میں، خواتین کو درمیان میں اور بچوں
Read 6 tweets
Sep 29
#RockCut
#architecture
#sichuan
دیوقامت لیشن بدھا (لیشن، چین)
Leshan Giant Buddha(Near Min, Qingyi and Dadu River, Leshan City)
Circa: 8th C.
آنکھیں موندے اوربارعب اندازمیں بیٹھےبرلب دریائےمن، چنگی اور دادو، صوبہ سیچوان(چین)میں واقع لیشان بدھاکا 71 میٹر(233 فٹ) اونچادیوہیکل مجسمہ
جو 1940 میں دریافت ھوا، چٹانی طرزتعمیر کی حیران کن مثال ھے۔
ہائی ٹونگ نامی ایک راہب تھا جس نے اس منصوبے کا آغاز کیا تھا۔اسکی فکر ان دیرینہ لوگوں کی حفاظت کیلیے تھی جو تین دریاؤں کے سنگم کے آس پاس اپنی روزی کماتے تھے۔ ٹونگ کاماننا تھاکہ بدھاپانی کی روح کوقابو میں لائیں گے۔
20 سال
کی بھیک مانگنے کے بعد، آخر کار اس نے اس منصوبے کے لیے کافی رقم جمع کر لی۔ ٹونگ کی وفات کے بعد اس کے دو شاگردوں نے اس مجسمے کو مکمل کروایا۔
بدھا کامقام عام طور پر واٹر لائن سے اوپر ھے لیکن یہ علاقہ 70سالوں میں بدترین سیلاب کی زد میں آیا ھے۔
 بدھا کہ ہیت (Structure) کو زیرقلم لائیں
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(